ضیاء الحسن ، مظفرگڑھ
جب ہجرت کے تپتے ہوئے راستوں پر رینگتی ہوئی وہ ٹرین واہگہ کے پلیٹ فارم پر آ کر رُکی، تو یوں لگا، جیسے لوہے کے ایک ہانپتے ہوئے وجود نے آخری سانس لی ہو۔ ابھی پہیوں کی چیخ فضا میں پوری طرح تحلیل بھی نہیں ہوئی تھی کہ ایک نعرہ گونجا۔ ’’پاکستان زندہ باد!!‘‘ پھر ٹھیک اُسی لمحے، کسی کونے سے ایک سسکی اُبھری، جو دیکھتے ہی دیکھتے ہچکیوں میں بدل گئی۔
سکینہ کو ایک پل کے لیے مغالطہ ہوا کہ نعرہ لگانے والے اور رونے والے کا گلا ایک ہی ہے۔ جیسے جشن اور سوگ کی سرحدیں آپس میں مل گئی ہوں۔ وہ لکڑی کی ایک ٹوٹی ہوئی نشست کے سہارے ٹِک کر پتھر کی مُورت بنی بیٹھی تھی۔ اس کے ململ کے دوپٹے پر خون کے دھبّے اب جم کر سیاہ ہو چُکے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اُن کا رنگ بدلا تھا۔ پہلے وہ شوخ سُرخ تھے، پھر وہ زخم کے کھرنڈ کی طرح بُھورے ہوئے، اور اب وہ کوئلے کی مانند سیاہی مائل لگتے تھے۔
کئی گھنٹے پہلے جب ٹرین کے پہیے کسی نامعلوم خوف سے تیز چل رہے تھے، اُس نے ان دھبّوں کو پلّو سے رگڑ کر صاف کرنا چاہا تھا، مگر اس کی اپنی انگلیوں نے اُس کا کہا ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ عجب کپکپاہٹ تھی، جو ہڈیوں تک اتر گئی تھی۔ بوگی کے اندر ایک پراسرار، بوجھل خاموشی کا راج تھا۔ یہ وہ خاموشی نہیں تھی، جو آرام کرنے والے کمروں میں ہوتی ہے۔
یہ وہ سکتہ تھا، جو زندگی کے اچانک رخصت ہوجانے کے بعد پیچھے رہ جاتا ہے۔ دروازہ ایک طرف سے اکھڑ کر لٹک رہا تھا۔ کھڑکی کے شیشے کرچی کرچی ہوکر فرش پر بکھرے تھے، جیسے کسی نے آئینے پر پتھر مارا ہو۔ جب بھی باہر سے گرم ہوا کا کوئی جھونکا اندر داخل ہوتا، تو پسینے کی بُو اور تازہ و باسی خون کی لپٹ پورے ڈبے کا طواف کرنے لگتی۔ یہ بُو آزادی کی پہلی خوشبو تھی۔
باہر انسانوں کا ایک جمِ غفیر تھا، جو شور مچا رہا تھا۔ ’’جلدی کرو! زخمیوں کو نیچے اتارو!‘‘، ’’پانی لاؤ بھائی… کوئی خدا کا بندہ پانی لاؤ!‘‘ ’’ڈاکٹر کہاں ہے؟‘‘ کسی نے باہر سے بوگی کے ادھ کُھلے دروازے کو ایک جھٹکے سے پورا کھول دیا۔
اندھیری غار میں سورج کی ایک تیز لکیر آن گری اور ایک نوجوان سپاہی نے اندر جھانکا۔ اُس کی نظریں بوگی کے فرش پر پڑیں، اور اس نے فوراً اپنی آنکھیں جُھکا لیں۔ اس کے پیچھے ایک بوڑھا رضاکار کھڑا تھا، جس کے ہاتھ میں مٹی کا ایک پیالہ تھا، جس سے پانی چھلک رہا تھا۔ بوڑھے نے ایک لمحے کو اندر دیکھا، پھر نظریں ہٹا لیں۔ اس نے اپنی سانس کو اندر ہی روک لیا، مبادا کوئی رُوح اس کی سانس کے سہارے باہر نہ نکل جائے۔ ’’کوئی… کوئی زندہ ہے؟‘‘ بوڑھے کی آواز حلق میں پھنس کر رہ گئی۔
سکینہ نے آہستہ سے اپنی پتھرائی ہوئی گردن کو جنبش دی۔ بوڑھے نے اُس کی آنکھوں میں زندگی کی آخری رمق دیکھی تو جلدی سے قدم آگے بڑھایا۔ ’’بیٹی…‘‘ اُس کی آواز میں باپ سی شفقت تھی۔ ’’پانی پی لو، تم پہنچ گئی ہو۔ اب یہاں کوئی تمہیں کچھ نہیں کہے گا۔ اب ڈرنے کی بات نہیں پتر۔‘‘ ’’پہنچ گئی ہو۔‘‘ یہ تین لفظ سکینہ کے خالی ذہن کے بند کمرے میں گونجے اور گونجتے ہی چلے گئے۔ کہاں پہنچ گئی؟
اُس نے نظریں گھما کر نیچے دیکھا۔ لکڑی کے تختے کے نیچے سجاد کا ایک جوتا پڑا تھا، صرف ایک۔ چمڑے سے بنا جوتا، جس کا تلوا گِھس چُکا تھا۔ دوسرا جوتا شاید اس وقت کہیں ریل کی پٹری ہی پر چُھوٹ گیا تھا… جب رات کے پچھلے پہراندھیرے میں سجاد نے اپنی آخری چیخ ماری تھی۔ ’’اماں…!‘‘واہگہ کا پلیٹ فارم اب طرح طرح کے نعروں سے گونج رہا تھا۔ ہجوم میں چھوٹے چھوٹے بچے بھی سبز ہلالی جھنڈیاں لیے دیوانہ وار نعرے لگا رہے تھے۔’’پاکستان زندہ باد!‘‘
زمین اس نعرے کے بوجھ سے لرز رہی تھی۔ سکینہ نے جب بوگی کے پائےدان سے اپنا ننگا پیر نیچے پٹری پر رکھا، تو مٹی کے لمس نے جیسے اس کے تلووں کو چُھو کر سرگوشی کی کہ وہ اپنی دھرتی پر پہنچ چُکی ہے۔ بوڑھے رضاکار نے مٹی کا پیالہ دوبارہ اس کے ہونٹوں کے قریب کیا۔ ’’پی لے بیٹی، گھونٹ بھر لے۔‘‘ سکینہ نے پیالہ پکڑا۔ پانی کی ٹھنڈک اُس کی انگلیوں نے بھی محسوس کی، مگر جیسے ہی پانی کی پہلی بوند اُس کے خشک ہونٹوں کو چھونے لگی، اُسے اپنے باپ کا آخری جملہ یاد آ گیا۔ ’’سکینہ کے آگے کوئی نہیں آئے گا… مَیں… مَیں کھڑا ہوں۔‘‘
پھر اچانک، ہوا کو چیرتی ہوئی کرپانوں کی چنگھاڑ سنائی دی اور روشنی اندھیرے میں بدل گئی اور پھر ابّا کے سفید کلف لگے کرتے پر اچانک ایک گہرا سُرخ دریا بہہ نکلا تھا۔ اُن کی سفید پوشاک لمحوں میں اُن کے اپنے لہو سے رنگین ہوگئی تھی۔ اُسے وہ منظر اس پانی کے پیالے میں تیرتا ہوا محسوس ہوا۔ سکینہ نے فوراً اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔ پانی کا پیالہ جھٹ سے زمین پرگرگیا۔ جہاں اتنے پیارے پیاسے رہ گئے ہوں، وہاں پانی کیسے گلے سے اترتا؟
بوڑھے نے اُس کی آنکھوں کے پیچھے چھپے ہوئے طوفان کو پڑھنا چاہا اور انتہائی شفقت سے پوچھا۔ ’’بیٹی! اس بھیڑ میں تمہارا اور کون ہے؟ کوئی تایا، چچا، بھائی؟ کس کے پاس جانا ہے؟‘‘ سکینہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ کسی دُور دراز اُفق کو تکتی رہی۔ کافی دیر بعد، جب رضاکار سمجھا کہ شاید وہ گونگی ہے، اُس کے ہونٹ ہلے۔ بہت ہی نحیف آواز میں، جیسے کوئی پرانی قبر کا کتبہ پڑھ رہا ہو، وہ بولی۔ ’’کوئی نہیں…‘‘یہ دو لفظ بولتے ہوئے اُسے خود ایسا لگا، جیسے یہ آواز اس کے اپنے اندر سے نہیں، بلکہ ٹرین کے اس اکھڑے ہوئے دروازے کے پیچھے سے آئی ہو۔
دن ڈھل چُکا تھا اور شام اپنی سیاہ چادر پھیلانے لگی تھی۔ پلیٹ فارم پر ابھی تک میلہ لگا تھا۔ کچھ لوگ سجدۂ شکر میں پڑے زمین چُوم رہے تھے، کچھ اپنے بچھڑے ہوئے بچّوں کے نام پکار پکار کر پاگل ہو رہے تھے، اور کچھ آزادی کے گیت گا رہے تھے۔ سکینہ نے نیچے جُھک کر پلیٹ فارم کے کنارے سے ایک مٹھی خاک اٹھائی اور اُسے اپنی ہتھیلیوں پر ملنے لگی۔ اُسے لگا کہ یہ وہی مٹی ہے، جس کو ہاتھ میں لے کر ابّا اکثر دالان میں بیٹھ کر کہتے تھے۔
’’سکینہ! دیکھنا، ایک دن اپنا مُلک ہوگا اور وہاں کوئی ہمیں دیکھ کر حقارت سے آوازے نہیں کسے گا۔‘‘ مُلک تو مل گیا پر ابّا نہیں تھے، نہ سجاد کا وہ دوسرا جوتا ملا، اور نہ ہی امّاں... جو کہیں پیچھے اندھیرے میں چُھوٹ گئی تھیں۔ پلیٹ فارم سے پھر ایک آخری نعرہ فضا کو چیرتا ہوا بلند ہوا۔ ’’پاکستان زندہ باد!‘‘ سکینہ نے اب کی بار اپنا سر اُٹھایا، آسمان کی طرف دیکھا، اور پھر بہت آہستہ، اتنی دھیمی آواز میں کہ خُود اُس کے اپنے کان بھی بمشکل سن پائے، بس اتنا بولی۔ ’’ابّا…!! ہم پہنچ گئے ہیں…‘‘