رابعہ فاطمہ
برّ ِعظیم کی سیاسی تاریخ میں جولائی 1947ء غیر معمولی اہمیت کا حامل مہینہ ہے۔ اگرچہ 3 جون 1947ء کے منصوبے نے برّ ِعظیم کی تقسیم کے اصول واضح کر دیے تھے، لیکن جولائی 1947ء وہ مرحلہ تھا، جس میں اِن اصولوں کو عملی شکل دی جا رہی تھی۔ اس ایک مہینے کے دوران برطانوی حکومت، آل انڈیا مسلم لیگ، انڈین نیشنل کانگریس، سِکھ قیادت، مختلف صوبائی حکومتیں اور نوآبادیاتی انتظامیہ مسلسل ایسے فیصلے کر رہی تھیں، جن کے گہرے اثرات صرف قیامِ پاکستان تک محدود نہیں رہے، بلکہ جنوبی ایشیا کی آئندہ سیاسی، سماجی اور معاشی تاریخ پر بھی مرتّب ہوئے۔
یہی وہ زمانہ تھا، جب اقتدار کی منتقلی کی تیاری، سرحدوں کے تعیّن، سرکاری اداروں کی تقسیم، فوج کی تنظیمِ نو، مالی وسائل کی تقسیم اور ریاستی ڈھانچے کی تشکیل جیسے بنیادی معاملات زیرِ غور تھے۔ جولائی 1947ء کے دوران ایک طرف محمّد علی جناح کی قیادت میں مسلم لیگ، پاکستان کے انتظامی ڈھانچے کی تیاری میں مصروف تھی، جب کہ دوسری طرف، کانگریس کی قیادت نئی بھارتی ریاست کے سیاسی اور انتظامی معاملات منظّم کر رہی تھی۔ وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن مسلسل دونوں قیادتوں سے مشاورت کر رہے تھے تاکہ اقتدار کی منتقلی طے شدہ تاریخ پر مکمل ہو سکے۔
اِسی عرصے میں پنجاب اور بنگال کی تقسیم، ریڈکلف باؤنڈری کمیشن کے کام، فوج اور سِول سروس کی تقسیم، ریاستوں کے مستقبل اور فرقہ وارانہ امن و امان جیسے معاملات انتہائی حسّاس صُورت اختیار کر چُکے تھے۔ اِس لیے جولائی 1947ء کو قیام پاکستان سے قبل’’ فیصلہ کُن سیاسی سرگرمیوں کا مہینہ‘‘ قرار دینا، تاریخی اعتبار سے درست معلوم ہوتا ہے۔ تحقیقی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے، تو جولائی 1947ء صرف انتظامی تیاریوں کا مہینہ نہیں تھا، بلکہ سیاسی قیادت کے لیے امتحان کا دَور بھی تھا۔
مسلم لیگ کو ایک نئی ریاست کے قیام کے لیے مختصر ترین وقت میں ادارہ جاتی تیاری کرنا تھی، جب کہ برطانوی حکومت کو تقریباً دو صدیوں پر محیط نوآبادیاتی اقتدار منظّم انداز میں ختم کرنا تھا۔ اِسی عرصے میں لاکھوں افراد کے مستقبل، سرحدوں، حکومتی ملازمتوں، فوجی یونٹس اور مالی وسائل سے متعلق فیصلے کیے جا رہے تھے۔ ان فیصلوں میں بعض کام یاب رہے، جب کہ کئی ایک شدید تنازعات کا سبب بنے۔
جولائی 1947ء کا سیاسی منظرنامہ
جولائی 1947ء کے آغاز تک یہ بات تقریباً طے ہو چُکی تھی کہ برطانوی اقتدار اگست کے وسط میں ختم ہو جائے گا۔18 جولائی 1947ء کو برطانوی پارلیمنٹ نے’’ Indian Independence Act 1947‘‘منظور کیا، جس نے پاکستان اور بھارت کے قیام کو قانونی بنیاد فراہم کی۔ اِس قانون کے تحت15 اگست 1947ء سے دو آزاد ریاستوں کے قیام کا اعلان کیا گیا، تاہم پاکستان نے اپنا یومِ آزادی 14 اگست کو منایا کہ اقتدار کی منتقلی کی تقریبات اُسی روز منعقد ہوئیں۔ اِس قانون کی منظوری جولائی 1947ء کا سب سے اہم سیاسی واقعہ تھا، کیوں کہ اس نے تقسیمِ ہند کو ایک سیاسی منصوبے سے نکال کر قانونی حقیقت میں تبدیل کر دیا۔
اِسی مہینے مسلم لیگ کی مرکزی قیادت مسلسل اجلاس منعقد کر رہی تھی، جن میں پاکستان کی عبوری حکومت، مرکزی سیکریٹریٹ، وزارتوں کی تقسیم، مالی وسائل، سِول سروس، دفاع اور خارجہ امور جیسے موضوعات زیرِ بحث آتے رہے۔ قائدِ اعظم محمّد علی جناح صرف سیاسی قائد کے طور پر نہیں، بلکہ مستقبل کے سربراہِ مملکت کے طور پر انتظامی معاملات کا بھی جائزہ لے رہے تھے۔ اُن کی کوشش تھی کہ آزادی کے فوراً بعد نئی ریاست کو انتظامی بحران کا سامنا نہ کرنا پڑے، اگرچہ محدود وقت اور وسائل کے باعث یہ کام غیر معمولی حد تک دشوار تھا۔
دوسری طرف کانگریس کی قیادت، خصوصاً جواہر لال نہرو، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور راجندر پرساد، نئی بھارتی ریاست کے ڈھانچے کی تشکیل میں مصروف تھے۔ کانگریس کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ تقسیم کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انتظامی، مالی اور سیاسی چیلنجز سے نمٹنا تھا۔ جولائی 1947ء کے دَوران دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان اختلافات کے باوجود اقتدار کی منتقلی کے لیے مختلف مشترکہ کمیٹیز اپنا کام جاری رکھے ہوئے تھیں، تاہم پنجاب اور بنگال کی تقسیم، سرحدی تنازعات اور فرقہ وارانہ کشیدگی اِن تمام کوششوں کو مسلسل متاثر کر رہی تھی۔
ریڈکلف باؤنڈری کمیشن اور سیاسی کشمکش
جولائی 1947ء کی سیاسی سرگرمیوں میں سب سے اہم اور حسّاس مسئلہ پنجاب اور بنگال کی سرحدوں کے تعیّن کا تھا۔ اگرچہ تقسیمِ ہند کا اصول3 جون 1947ء کے منصوبے کے ذریعے قبول کیا جا چُکا تھا، لیکن یہ ابھی طے نہیں ہوا تھا کہ دونوں نئے ممالک کی سرحد کہاں سے گزرے گی۔ اِس مقصد کے لیے برطانوی حکومت نے سر سرل ریڈکلف (Sir Cyril Radcliffe) کی سربراہی میں دو باؤنڈری کمیشن قائم کیے، ایک پنجاب کے لیے اور دوسرا بنگال کے لیے۔
ریڈکلف اس سے قبل کبھی ہندوستان نہیں آئے تھے اور اُنہیں صرف چند ہفتوں میں ایک ایسا فیصلہ کرنا تھا، جو کروڑوں انسانوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہونے والا تھا۔ جولائی 1947ء میں ان کمیشنز نے اپنے باقاعدہ اجلاس منعقد کیے، جن میں مسلم لیگ اور کانگریس کے نام زَد قانون دانوں نے اپنے اپنے دلائل پیش کیے۔ اِن اجلاسوں میں آبادی کا تناسب، مذہبی اکثریت، نہری نظام، ریلوے لائنز، تجارتی راستے، عدالتی ڈھانچا اور انتظامی سہولت جیسے عوامل پر بحث کی گئی، لیکن اکثر معاملات میں فریقین کے مؤقف ایک دوسرے سے مکمل طور پر مختلف تھے۔
مسلم لیگ نے اپنے دلائل میں اِس امر پر زور دیا کہ تقسیم کا بنیادی اصول مسلم اکثریتی علاقوں کو پاکستان میں شامل کرنا ہے، لہٰذا پنجاب اور بنگال کے ایسے تمام اضلاع، جہاں مسلمانوں کی واضح اکثریت موجود ہے، پاکستان کا حصّہ بننے چاہئیں۔ مسلم لیگ کے نمائندوں نے یہ بھی استدلال کیا کہ بعض اضلاع میں اگرچہ شہری مراکز میں غیر مسلم آبادی نسبتاً زیادہ ہے، لیکن دیہات میں مسلمانوں کی اکثریت موجود ہے، اِس لیے صرف شہری آبادی کی بنیاد پر فیصلہ کرنا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہوگا۔
اس کے ساتھ نہری نظام، زرعی معیشت، مواصلاتی راستوں اور جغرافیائی تسلسل کو بھی تقسیم کے فیصلے میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی۔ قائدِ اعظم محمّد علی جناح اس پورے عمل کی نگرانی کر رہے تھے اور ان کی خواہش تھی کہ سرحدی فیصلے آبادی اور قانونی اصولوں کے مطابق کیے جائیں، کیوں کہ اُن کے نزدیک یہی تقسیم کے منصوبے کی رُوح تھی۔ اِس کے برعکس، کانگریس اور سِکھ قیادت نے کئی اضلاع سے متعلق مختلف مؤقف اختیار کیا۔ مشرقی پنجاب میں سِکھ برادری کی مذہبی اور معاشی اہمیت کو بنیاد بنا کر یہ مطالبہ کیا گیا کہ بعض ایسے علاقے بھی بھارت میں شامل کیے جائیں، جہاں مسلمانوں کی آبادی نسبتاً زیادہ تھی۔
کانگریس نے کلکتہ، گورداسپور، فیروزپور اور دیگر اہم علاقوں کے حوالے سے ایسے دلائل پیش کیے، جن میں معاشی اور انتظامی عوامل کو نمایاں حیثیت دی گئی۔ جولائی 1947ء کے دوران اِن متضاد مطالبات نے باؤنڈری کمیشن کے کام کو انتہائی پیچیدہ بنا دیا۔ سرل ریڈکلف کے پاس نہ تو کافی وقت تھا، نہ ہی وہ برّ ِعظم کے مقامی حالات سے واقف تھے۔ یہی وجہ ہے کہ کمیشن کے فیصلوں سے متعلق اُس وقت بھی شکوک و شبہات پائے جاتے تھے اور بعد میں بھی اُن پر شدید تنقید کی گئی۔
جولائی 1947ء کے دوران باؤنڈری کمیشن کی کارروائیاں مکمل رازداری کے ساتھ جاری رہیں۔ مسلم لیگ کو حتمی فیصلے کا علم تھا، نہ کانگریس کو اور نہ ہی عوام کو معلوم تھا کہ اُن کا شہر یا ضلع کس مُلک کا حصّہ بنے گا۔ اِس غیر یقینی کیفیت نے پنجاب اور بنگال میں شدید بے چینی پیدا کر دی۔ مختلف سیاسی جماعتیں اپنے اپنے کارکنان متحرّک کر رہی تھیں، اخبارات میں روزانہ قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں اور عوام میں افواہوں کا بازار گرم تھا۔ بعض علاقوں میں لوگوں نے پہلے ہی نقل مکانی کی تیاری شروع کر دی، جب کہ کئی مقامات پر فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہونے لگا۔
اگرچہ برطانوی حکومت بار بار امن برقرار رکھنے کی اپیل کرتی رہی، لیکن انتظامیہ اِس بے یقینی کو ختم کرنے میں کام یاب نہ ہو سکی۔ یہی وہ ماحول تھا، جس نے اگست 1947ء میں بڑے پیمانے پر ہجرت اور تشدّد کی راہ ہم وار کی۔ تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے، تو جولائی 1947ء میں باؤنڈری کمیشن کی سرگرمیاں صرف سرحد کھینچنے کا انتظامی عمل نہیں، بلکہ برّ ِعظم کے سیاسی مستقبل کی تشکیل کا بنیادی مرحلہ تھیں۔
ان فیصلوں نے پاکستان اور بھارت کی جغرافیائی حدود، آبی وسائل، مواصلاتی نظام، زرعی معیشت اور دفاعی حکمتِ عملی پر گہرے اثرات مرتّب کیے۔ بعد کے عشروں میں کشمیر، دریاؤں کی تقسیم، سرحدی تنازعات اور نقل مکانی سے متعلق کئی مسائل کی جڑیں بھی اُسی دَور کے فیصلوں میں تلاش کی جاتی ہیں۔ اِس لیے جولائی 1947ء کی سیاسی تاریخ یہ حقیقت واضح کرتی ہے کہ آزادی سے قبل کے آخری تیس دن صرف اقتدار کی منتقلی کی تیاری کا دَور نہیں تھے بلکہ وہ ایسے تاریخی فیصلوں کا زمانہ تھا، جنہوں نے جنوبی ایشیا کی آئندہ تاریخ کا رُخ متعیّن کیا۔
قائدِ اعظم کی سیاسی حکمتِ عملی
جولائی 1947ء کا شمار قائدِ اعظم محمّد علی جناح کی سیاسی زندگی کے مصروف ترین اور فیصلہ کُن ادوار میں ہوتا ہے۔ اگرچہ برطانوی حکومت نے تقسیمِ ہند کے اصولوں کا اعلان کر دیا تھا، لیکن پاکستان عملاً ابھی وجود میں نہیں آیا تھا۔ اِس صُورتِ حال میں قائدِ اعظم کو بیک وقت کئی محاذوں پر کام کرنا پڑ رہا تھا۔ ایک طرف وہ مسلم لیگ کی سیاسی قیادت منظّم کر رہے تھے، تو دوسری طرف، نئی ریاست کے انتظامی ڈھانچے کی تشکیل کے لیے مسلسل مشاورت میں مصروف تھے۔
جولائی کے دَوران دہلی میں مسلم لیگ کے رہنماؤں، اعلیٰ سرکاری افسران اور وائسرائے ہاؤس کے نمائندوں سے متعدّد ملاقاتیں ہوئیں، جن میں اقتدار کی منتقلی، مرکزی سیکریٹریٹ، وزارتوں کی تشکیل، سِول سروس کی تقسیم، مالی وسائل اور دفاعی انتظامات جیسے اہم معاملات زیرِ بحث آئے۔ قائدِ اعظم اِس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے کہ آزادی کے اعلان کے ساتھ ہی پاکستان کو ایک فعال ریاست کے طور پر کام شروع کرنا ہوگا، اِس لیے وہ سیاسی نعروں کی بجائے عملی اور انتظامی تیاریوں پر زیادہ توجّہ دے رہے تھے۔
ان کے خطوط، بیانات اور ملاقاتوں کے ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ آزادی کے بعد پیدا ہونے والا ممکنہ انتظامی بحران کم سے کم رکھنے کے لیے مسلسل منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ جولائی 1947ء میں قائدِ اعظم کی توجّہ کا ایک اہم مرکز پاکستان کی عبوری حکومت کی تشکیل تھی۔ نئی ریاست کو وزارتِ خزانہ، داخلہ، دفاع، خارجہ، مواصلات، ریلوے، تجارت اور دیگر محکموں کے لیے ایسے افراد درکار تھے، جو نہ صرف سیاسی اعتبار سے قابلِ اعتماد ہوں، بلکہ انتظامی صلاحیت بھی رکھتے ہوں۔
مسلم لیگ کے سینئر رہنماؤں سے مسلسل مشاورت کے بعد مختلف وزارتوں کے لیے ممکنہ ناموں پر غور کیا گیا۔ اِس دوران یہ بھی واضح ہو گیا کہ پاکستان کو اعلیٰ درجے کے تجربہ کار سِول افسران کی شدید کمی کا بھی سامنا ہوگا، کیوں کہ برطانوی ہندوستان کی زیادہ تر مرکزی انتظامیہ دہلی میں موجود تھی۔ قائدِ اعظم نے اِس مسئلے کے حل کے لیے مسلمان سِول افسران کو پاکستان میں خدمات انجام دینے کی ترغیب دی اور برطانوی حکّام سے مطالبہ کیا کہ اثاثوں، ریکارڈ اور سرکاری عملے کی تقسیم منصفانہ انداز میں کی جائے۔
ان کی سیاسی بصیرت کا اندازہ اِس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ آزادی سے پہلے ہی ایک منظّم ریاستی مشینری کی ضرورت پر زور دے رہے تھے، حالاں کہ اُس وقت عوامی توجّہ زیادہ تر آزادی کی تقریبات اور سیاسی نعروں پر مرکوز تھی۔ اِسی عرصے میں کراچی کو پاکستان کے دارالحکومت کے طور پر منتخب کرنے کے فیصلے پر بھی عملی پیش رفت ہوئی۔ اگرچہ اِس حوالے سے مختلف تجاویز زیرِ غور آئیں، لیکن کراچی اپنی بندرگاہ، مواصلاتی سہولتوں، ریلوے کے مضبوط نظام، بین الاقوامی رابطوں، نسبتاً بہتر انتظامی ڈھانچے اور سرکاری عمارتوں کی موجودگی کے باعث سب سے موزوں انتخاب سمجھا گیا۔
جولائی 1947ء کے دوران مختلف سرکاری دفاتر کی منتقلی، گورنر جنرل ہاؤس، مرکزی سیکریٹریٹ، وزارتوں اور دیگر اہم اداروں کے لیے عمارتوں کے انتخاب پر غور کیا گیا۔ قائدِ اعظم اِس بات پر زور دیتے رہے کہ نئی ریاست کا دارالحکومت ایسا شہر ہونا چاہیے، جہاں سے مُلک کے انتظامی اور معاشی معاملات مؤثر انداز میں چلائے جا سکیں۔
کراچی پہلے ہی برّ ِعظیم کی ایک اہم بندرگاہ اور تجارتی مرکز تھا، اِس لیے آزادی کے بعد ریاستی اداروں کے فوری قیام کے لیے یہ شہر، دوسرے شہروں کی نسبت زیادہ موزوں ثابت ہوا۔ بعد کے واقعات نے ثابت کیا کہ یہ فیصلہ پاکستان کی ابتدائی ریاستی تشکیل میں نہایت اہم ثابت ہوا۔جولائی 1947ء میں قائدِ اعظم کی سیاسی حکمتِ عملی کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی تھا کہ وہ مسلسل آئینی اور قانونی طریقۂ کار پر زور دیتے رہے۔ اُنہوں نے مسلم لیگ کے رہنماؤں کو بارہا ہدایت کی کہ اقتدار کی منتقلی کے اِس نازک مرحلے پر جذباتی ردّ ِعمل کی بجائے نظم و ضبط، قانون کی پاس داری اور سیاسی استحکام کو ترجیح دی جائے۔
اِسی دوران پنجاب اور بنگال میں بڑھتی فرقہ وارانہ کشیدگی پر بھی اُنہیں شدید تشویش تھی۔ اُنہوں نے مختلف بیانات میں مسلمانوں سے صبرو اتحاد اور منظّم رہنے کی اپیل کی اور اِس اُمید کا اظہار کیا کہ تقسیم کے بعد دونوں نئی ریاستیں امن اور باہمی احترام کے ساتھ اپنے تعلقات استوار کریں گی۔ اگرچہ زمینی حالات اِن توقّعات کے مطابق نہ رہ سکے، لیکن جولائی 1947ء کے دوران قائدِ اعظم کی حکمتِ عملی واضح طور پر ایک ذمّے دار ریاستی رہنما کی تھی، جو صرف آزادی حاصل کرنے تک محدود نہیں تھی، بلکہ آزادی کے بعد ریاست کو مستحکم بنیادوں پر استوار کرنے کی کوشش بھی کر رہی تھی۔
لارڈ ماؤنٹ بیٹن، برطانوی حکومت اور اقتدار کی منتقلی
جولائی 1947ء برطانوی حکومت کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل مہینہ تھا، کیوں کہ تقریباً دو صدیوں پر محیط برطانوی اقتدار اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چُکا تھا۔ وائسرائے لارڈ لوئس ماؤنٹ بیٹن کی یہ ذمّے داری تھی کہ اقتدار کی منتقلی مقرّرہ وقت پر اور کم سے کم انتظامی انتشار کے ساتھ مکمل ہو۔ 18 جولائی 1947ء کو برطانوی پارلیمنٹ نے’’ Indian Independence Act 1947‘‘منظور کیا، جس نے برطانوی ہندوستان کو دو خود مختار ریاستوں، پاکستان اور بھارت، میں تقسیم کرنے کی قانونی بنیاد فراہم کی۔
اِس قانون کے بعد جولائی کے باقی دنوں میں وائسرائے ہاؤس سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا، جہاں مسلم لیگ، کانگریس، برطانوی فوجی حکّام اور اعلیٰ سِول افسران کے درمیان مسلسل مشاورتی اجلاس منعقد ہوتے رہے۔ اِن اجلاسوں میں اقتدار کی منتقلی کی تاریخ، گورنر جنرل کے اختیارات، نئی حکومتوں کے آئینی اختیارات اور انتظامی ذمّے داریوں جیسے بنیادی معاملات کو حتمی شکل دی گئی۔
اگرچہ برطانوی حکومت نے اِس عمل کو منظّم اور پُرامن بنانے کی کوشش کی، لیکن وقت کی کمی، سیاسی اختلافات اور بڑھتی فرقہ وارانہ کشیدگی نے یہ عمل غیر معمولی حد تک پیچیدہ بنا دیا۔جولائی 1947ء کے دوران سب سے مشکل مسئلہ برطانوی ہندوستان کے مشترکہ ریاستی اداروں کی تقسیم تھا۔ تقریباً ایک صدی کے دوران قائم ہونے والی مرکزی انتظامیہ، فوج، ریلوے، ڈاک، ٹیلی گراف، ریزرو بینک، مالیاتی نظام، اسلحہ خانے، سرکاری عمارتیں، سرکاری ریکارڈ، عدالتی ادارے اور ہزاروں سرکاری ملازمین کو دو نئی ریاستوں کے درمیان تقسیم کرنا تھا۔ اِس مقصد کے لیے متعدد تقسیمی کمیٹیز (Partition Committees) تشکیل دی گئیں، جن میں دونوں سیاسی جماعتوں کے نمائندے اور برطانوی حکّام شامل تھے۔
جولائی کے دَوران ان کمیٹیز نے مسلسل اجلاس منعقد کیے، لیکن کئی معاملات پر شدید اختلافات سامنے آئے۔ پاکستان کے نمائندوں کا مؤقف تھا کہ نئی ریاست کو اُس کی آبادی اور طے شدہ اصولوں کے مطابق مالی وسائل، فوجی سازوسامان اور سرکاری اثاثوں میں مناسب حصّہ ملنا چاہیے، جب کہ کانگریس کے بعض رہنما انتظامی مشکلات اور عملی رکاوٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے کئی معاملات میں مختلف موقف اختیار کرتے تھے۔ یہی اختلافات بعد ازاں دونوں ممالک کے درمیان کئی برسوں تک جاری رہنے والے تنازعات کی بنیاد بنے۔
برطانوی ہندوستان کی فوج کی تقسیم بھی جولائی 1947ء کے اہم ترین سیاسی اور انتظامی مسائل میں شامل تھی۔ برطانوی فوج نہ صرف برّ ِعظیم کی داخلی سلامتی بلکہ سلطنت کے دفاعی نظام کا بھی بنیادی ستون تھی۔ تقسیم کے بعد فوجی یونٹس، اسلحے، گاڑیوں، تربیتی مراکز، طبّی سہولتوں اور فوجی افسران کی تقسیم ایک نہایت پیچیدہ عمل تھا۔ فیلڈ مارشل، سر کلاڈ آکنلیک (Sir Claude Auchinleck) کی نگرانی میں اِس منصوبے پر عمل کیا جا رہا تھا، لیکن وقت کی قلّت کے باعث تمام انتظامات مکمل نہیں ہو سکے۔
اِسی طرح انڈین سِول سروس، انڈین پولیس اور ریلوے سروس کے مسلمان اور غیر مسلم افسران کو بھی اپنی پسند کے مطابق پاکستان یا بھارت میں خدمات انجام دینے کا اختیار دیا گیا۔ اِس عمل نے ہزاروں سرکاری ملازمین کو غیر یقینی کیفیت میں مبتلا کر دیا، کیوں کہ اُنہیں مختصر وقت میں اپنی ملازمت، رہائش، خاندان اور مستقبل سے متعلق فیصلہ کرنا پڑا۔ جولائی 1947ء کے سرکاری ریکارڈ نشان دہی کرتے ہیں کہ تقسیمِ ادارہ جات کی رفتار سیاسی فیصلوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ سُست تھی، جس کے باعث آزادی کے بعد دونوں نئی ریاستوں کو کئی انتظامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
جولائی 1947ء کے آخری ہفتے میں برطانوی حکومت کی سب سے بڑی تشویش امن و امان کی بگڑتی صُورتِ حال تھی۔ پنجاب، بنگال، دہلی اور بعض دیگر علاقوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی مسلسل بڑھ رہی تھی، جب کہ سرحدی اضلاع میں افواہوں، سیاسی بے یقینی اور باؤنڈری کمیشن کے متوقّع فیصلوں نے عوام میں شدید اضطراب پیدا کر دیا تھا۔ وائسرائے ماؤنٹ بیٹن نے متعدّد مواقع پر دونوں بڑی جماعتوں کی قیادت سے اپیل کی کہ وہ اپنے کارکنان کو تحمّل اور امن کا درس دیں، تاہم زمینی حقائق ان اپیلز سے مختلف تھے۔
جولائی کے اختتام تک واضح ہو چُکا تھا کہ آزادی کی خوشی کے ساتھ، بڑے پیمانے پر انسانی ہجرت اور امن و امان کے مسائل بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ تاریخی تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ برطانوی حکومت نے اقتدار کی منتقلی کے قانونی اور انتظامی پہلوؤں پر تو خاص توجّہ دی، لیکن عوامی سطح پر پیدا ہونے والی بے چینی، فرقہ وارانہ تشدّد اور نقل مکانی کے خطرات کا درست اندازہ نہ لگا سکی۔ یہی وجہ ہے کہ اگست 1947ء میں آزادی کے ساتھ، برّ ِعظیم انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت اور الم ناک فسادات کا بھی گواہ بنا۔
فرقہ وارانہ کشیدگی، عوامی ردِعمل اور آزادی کی تیار
جولائی 1947ء کے دوران برّ ِعظیم کی سیاسی فضا صرف آئینی اور انتظامی سرگرمیوں تک محدود نہیں رہی بلکہ عوامی سطح پر بے چینی، غیر یقینی اور خوف کی کیفیت بھی مسلسل بڑھتی گئی۔ اگرچہ 3 جون کے منصوبے نے تقسیمِ ہند کے بنیادی خدّوخال واضح کر دیے تھے، لیکن جولائی کے اختتام تک پنجاب اور بنگال کی سرحدوں کا حتمی اعلان نہ ہونے کی وجہ سے لاکھوں افراد اپنے مستقبل سے متعلق شدید اضطراب کا شکار تھے۔
مختلف شہروں میں یہ سوال عام تھا کہ کون سا ضلع، پاکستان میں شامل ہوگا اور کون سا بھارت کا حصّہ بنے گا۔ اخبارات روزانہ مختلف قیاس آرائیاں شائع کر رہے تھے، سیاسی کارکن جلسے منعقد کر رہے تھے اور عام لوگ افواہوں کی بنیاد پر فیصلے کرنے پر مجبور تھے۔ اِس غیر یقینی ماحول نے فرقہ وارانہ اعتماد کم زور کر دیا۔ کئی مقامات پر مسلمان، ہندو اور سِکھ برادریاں، جو برسوں سے ایک ساتھ رہ رہی تھیں، اب ایک دوسرے کے سیاسی مستقبل سے متعلق شکوک و شبہات کا شکار ہونے لگیں۔
یہی نفسیاتی تبدیلی بعد میں بڑے پیمانے پر ہجرت اور تشدّد کے اسباب میں شامل ہوئی۔ تاریخی ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ جولائی 1947ء میں انتظامی بحران سے پہلے ایک ذہنی اور سماجی بحران جنم لے چُکا تھا، جس نے عوامی زندگی کو گہرے طور پر متاثر کیا۔ پنجاب اِس دوران سب سے زیادہ حسّاس صوبہ بن چُکا تھا۔ یہ صوبہ آبادی، زراعت، فوجی بھرتی اور معاشی اہمیت کے اعتبار سے برطانوی ہندوستان کا بنیادی مرکز تھا، لیکن مذہبی اعتبار سے اس کی آبادی ملی جُلی تھی۔
جولائی 1947ء میں لاہور، امرت سر، راول پنڈی، گورداسپور، جالندھر، لدھیانہ اور دیگر شہروں میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئیں۔ مسلم لیگ، کانگریس اور اکالی دل کے کارکن مسلسل جلسے منعقد کر رہے تھے اور اپنی اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ بعض مقامات پر معمولی نوعیت کے تنازعات بھی فرقہ وارانہ رنگ اختیار کرنے لگے۔ اگرچہ برطانوی حکومت نے پولیس اور فوج کو امن و امان برقرار رکھنے کی ہدایت دی، لیکن انتظامیہ اِس بڑھتی کشیدگی کو مکمل طور پر قابو میں نہ رکھ سکی۔
اِس دوران پنجاب کی ضلعی انتظامیہ کی متعدّد رپورٹس میں اِس خدشے کا اظہار کیا گیا کہ اگر سرحدی فیصلوں کا اعلان عوامی توقّعات کے برعکس ہوا، تو بڑے پیمانے پر بدامنی پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ خدشات بعد کے واقعات میں بڑی حد تک درست ثابت ہوئے۔ بنگال کی سیاسی صُورتِ حال بھی کسی طور پنجاب سے کم پیچیدہ نہیں تھی، اگرچہ وہاں کے حالات کی نوعیت مختلف تھی۔ کلکتہ، ڈھاکا، چٹاگانگ، کھلنا، مرشد آباد اور دیگر اضلاع سے متعلق مختلف سیاسی دعوے سامنے آ رہے تھے۔
بنگال کی تقسیم صرف مذہبی اکثریت کا مسئلہ نہیں تھی، بلکہ اس سے بندرگاہوں، دریائی راستوں، زرعی پیداوار، صنعتی مراکز اور تجارتی منڈیوں کا مستقبل بھی وابستہ تھا۔ جولائی 1947ء میں بنگال کی سیاسی قیادت مسلسل مذاکرات میں مصروف رہی، لیکن عوامی سطح پر بے یقینی بڑھتی گئی۔ کئی کاروباری خاندانوں نے اپنی سرمایہ کاری منتقل کرنا شروع کر دی، جب کہ بعض سرکاری ملازمین نے اپنی آئندہ ملازمت سے متعلق فیصلے کرنے شروع کر دیے۔ کلکتہ اور ڈھاکا کے اخبارات میں شائع ہونے والے اداریے اُس دَور کی ذہنی کیفیت کی عکّاسی کرتے ہیں، جن میں آزادی کی اُمید کے ساتھ، تقسیم کے ممکنہ نتائج پر گہری تشویش بھی نمایاں تھی۔ اِس طرح جولائی 1947ء آزادی کی خوشی اور مستقبل کے خوف، دونوں جذبات کا امتزاج بن چکا تھا۔
سندھ، خصوصاً کراچی، کی فضا پنجاب کے مقابلے میں نسبتاً پُرسکون تھی، لیکن یہاں بھی سیاسی سرگرمیوں میں نمایاں تیزی آ چُکی تھی۔ کراچی کو مستقبل کے پاکستانی دارالحکومت کے طور پر دیکھا جا رہا تھا، اِس لیے مسلم لیگ کے رہنما، سرکاری افسران، صحافی اور تاجر مسلسل اِس شہر کا رُخ کر رہے تھے۔ جولائی 1947ء میں کراچی کے اخبارات، سیاسی اجتماعات اور عوامی حلقوں میں پاکستان کے انتظامی مستقبل پر گفتگو نمایاں ہو گئی۔
شہر کے تجارتی ادارے نئی ریاست کے معاشی امکانات کا جائزہ لے رہے تھے، جب کہ سرکاری دفاتر میں ریکارڈ، عملے اور انتظامی ذمّے داریوں کی منتقلی کی تیاری جاری تھی۔ اس کے باوجود کراچی کے عوام میں بھی یہ احساس موجود تھا کہ تقسیم کے بعد بڑی تعداد میں مہاجرین کی آمد، انتظامی دباؤ اور معاشی تبدیلیاں شہر کی سماجی ساخت متاثر کریں گی۔ اِس لیے جولائی 1947ء کا کراچی اُمید، تیاری اور احتیاط، تینوں کیفیات کا حامل تھا۔
یہی شہر چند ہفتوں بعد نئی ریاست، پاکستان کا پہلا دارالحکومت بنا اور تقسیم کے فوری اثرات کا سب سے بڑا مرکز بھی ثابت ہوا۔ برّ ِعظیم کی تقسیم محض ایک سیاسی اعلان یا آئینی اقدام نہیں تھی، بلکہ یہ ایک ایسا پیچیدہ عمل تھا، جس میں انتظامی، قانونی، معاشی، فوجی اور سماجی عوامل ایک دوسرے سے گہرے طور پر وابستہ تھے۔
اِس مہینے کے دوران برطانوی حکومت نے اقتدار کی منتقلی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کی کوشش کی، تو مسلم لیگ، پاکستان کی ریاستی تشکیل میں مصروف رہی اور کانگریس، بھارت کی نئی حکومت کے قیام کی تیاری کرتی رہی۔ لیکن اِن سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ عوامی سطح پر پیدا ہونے والی بے یقینی، فرقہ وارانہ کشیدگی اور مستقبل کے خدشات بھی مسلسل بڑھتے رہے۔
یہی وجہ ہے کہ جولائی 1947ء کو صرف انتظامی تیاریوں کا دَور قرار دینا تاریخی حقیقت کی مکمل عکّاسی نہیں کرتا، بلکہ یہ وہ مرحلہ تھا، جہاں ایک طرف آزادی کی اُمیدیں پروان چڑھ رہی تھیں اور دوسری طرف تقسیم کے انسانی، سماجی اور سیاسی نتائج بھی واضح ہونے لگے تھے۔ اِس پورے مہینے میں ہونے والے اکثر فیصلے انتہائی محدود وقت اور غیر معمولی دباؤ کے ماحول میں کیے گئے۔
ریڈکلف باؤنڈری کمیشن کو چند ہفتوں میں کروڑوں انسانوں کی قسمت کا فیصلہ کرنا تھا، تقسیمی کاؤنسلز کو دہائیوں سے قائم ریاستی اداروں، فوج، مالی وسائل اور سرکاری ملازمین کو دو نئی ریاستوں کے درمیان تقسیم کرنا تھا، جب کہ قائدِ اعظم محمّد علی جناح اور کانگریسی قیادت کو ایسی حکومتوں کی بنیاد رکھنی تھی، جنہیں آزادی کے پہلے ہی دن مکمل طور پر فعال ہونا تھا۔ اِن حالات میں بعض فیصلے ناگزیر طور پر عجلت میں کیے گئے، جن کے اثرات بعد کے برسوں میں مختلف تنازعات کی صُورت سامنے آئے۔
خصوصاً سرحدوں کے تعیّن، اثاثوں کی تقسیم، کشمیر کے مسئلے، آبی وسائل اور مہاجرین کی آبادکاری جیسے معاملات کی جڑیں جولائی 1947ء کی اِنہی انتظامی اور سیاسی سرگرمیوں میں تلاش کی جا سکتی ہیں۔ قائدِ اعظم، محمّد علی جناح کی سرگرمیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ وہ صرف آزادی کے حصول تک محدود نہیں تھے بلکہ نئی ریاست کے انتظامی استحکام، آئینی نظم، مالیاتی ڈھانچے اور حکومتی اداروں کی تشکیل پر بھی مسلسل توجّہ دے رہے تھے۔
اِسی طرح برطانوی حکومت کی کوشش تھی کہ اقتدار کی منتقلی آئینی طریقۂ کار کے تحت مکمل ہو، لیکن امن و امان، عوامی تحفّظ اور بڑے پیمانے پر ممکنہ نقل مکانی جیسے مسائل کو مطلوبہ اہمیت نہ دی جا سکی۔ اس کے نتیجے میں آزادی کے فوراً بعد جو انسانی بحران پیدا ہوا، اُس نے تقسیمِ ہند کی کام یابیوں پر گہرے سوالات بھی اُٹھائے۔
جولائی 1947ء کا مطالعہ صرف سیاسی قیادت کے فیصلوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اسے انتظامی منصوبہ بندی، عوامی نفسیات اور نوآبادیاتی پالیسیز کے تناظر میں بھی سمجھنا ضروری ہے۔ مؤرخین کے نزدیک بھی جولائی 1947ء خصوصی توجّہ کا مستحق ہے۔ زیادہ تر تاریخی تحقیقات 3 جون کے منصوبے، 14 اور 15 اگست کی تقریبات یا تقسیم کے بعد کے فسادات پر مرکوز رہی ہیں، جب کہ جولائی کے اِن فیصلہ کُن تیس دنوں پر نسبتاً کم کام ہوا ہے، حالاں کہ یہی وہ عرصہ تھا، جس میں ریاستی ڈھانچوں کی تشکیل، سرحدی فیصلوں کی تیاری، سیاسی مذاکرات، عبوری حکومتوں کی منصوبہ بندی اور اقتدار کی منتقلی کے بنیادی مراحل مکمل کیے گئے۔
اِس لیے مستقبل کی تحقیق کے لیے ضروری ہے کہ سرکاری دستاویزات، وائسرائے ہاؤس کے ریکارڈ، مسلم لیگ اور کانگریس کے اجلاسوں کی کارروائی، برطانوی پارلیمانی مباحث، اُس دَور کے اخبارات اور نجی خطوط کا مزید تنقیدی مطالعہ کیا جائے تاکہ جولائی 1947ء کی تاریخ کو زیادہ جامع اور غیر جانب دار انداز میں سمجھا جا سکے۔
جولائی 1947ء برّ ِعظیم کی جدید تاریخ کا وہ فیصلہ کُن مہینہ تھا، جس نے آزادی، تقسیم اور دو خود مختار ریاستوں کے قیام کی عملی بنیاد فراہم کی۔ اِس مہینے کے دَوران ہونے والے سیاسی فیصلے، انتظامی اقدامات اور عوامی ردّ عمل نے نہ صرف پاکستان اور بھارت کی ابتدائی ریاستی تشکیل کو متاثر کیا بلکہ جنوبی ایشیا کی آئندہ سیاسی، معاشی اور سفارتی تاریخ پر بھی دیرپا اثرات مرتّب کیے۔
پاکستان کے قیام کو سمجھنے کے لیے جولائی 1947ء کا مطالعہ ناگزیر ہے، کیوں کہ اِسی عرصے میں وہ تمام بنیادی فیصلے کیے گئے، جنہوں نے نئی ریاست کے انتظامی ڈھانچے، جغرافیائی حدود، حکومتی اداروں اور سیاسی سمت کا تعیّن کیا۔ اِس بنا پر جولائی 1947ء کو قیامِ پاکستان سے قبل کے آخری تیس دن ہی نہیں، بلکہ جنوبی ایشیا کی تاریخ کا ایک ایسا فیصلہ کُن باب قرار دیا جا سکتا ہے، جس کی گونج آج بھی پاکستان اور بھارت کے سیاسی، آئینی اور سفارتی تعلقات میں واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔