• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں نے 1994ءمیں لاہور،نوکری کی تبدیلی کے باعث چھوڑا مگروہ گھر ،وہ دوست اور ہرشام کا جیتا جاگتا منظر یادوں میں ہمیشہ میرے ساتھ ہی رہا ۔ اسلام آباد دوست دار شہر نہیں ہے ، نوکری میں تو سارے ادیب نما، افسران نما اور تمام سفارت خانے ، آپ کی بہت آئو بھگت کرتے ہیں پتا نہیں چلتا کہ دن کب ختم ہوا، رات کب بستر پر لائی ،میری نوکریاں، سب کی سب بہت پرلطف تھیں، لاہور میں نیشنل سینٹر کوئی لائبریری نہیں بلکہ سارے دانشوروں،سیاست دانوں ، ادیبوں اور نوجوان پڑھنے والوں کا مرکز تھا جہاں فیض صاحب بھی کبھی پڑھنے کے لئے بیٹھنے کو آتے ، سارے دفتر کو پتہ تھا کہ ان کے لئے کونے میں کرسی میز رکھ دی جائے ،چائے یا کافی کا پوچھ لیا جائے،یہی ماحول میم ش صاحب، ڈاکٹر عبدالسلام خورشید،اور زاہد ڈارکیلئےبھی ایسا ہی اہتمام کیا جاتا تھا ، شام کی دفتری محفلیں کبھی سیاسی رنگ لیتیں، کبھی ادبی اور کبھی موسیقی کی ایسی محافل سجائی گئیں کہ نورجہاں ،فریدہ خانم اور مہدی حسن، اکثر نوجوانوں کی فرمائش پر بلائے جاتے ، طالب علموں کو انگریزی کے سارے پرچے پڑھنے کو ملتے اس لائبریری میں زاہد ڈار اور صلاح الدین محمود کی فرمائش پر بہت سے غیر ملکی اور پاکستانی ادیبوں کی کتابیں منگوائی جاتیں۔

پھر وہ ہوا جو اکثر اداروں کے ساتھ ہوتا ہے ، دفتربند ، اور دنیا نے دیکھا کہ وہ منفرد لائبریری کی کتابیں غلاظت اٹھانے والے ٹرکوں میں بھر کر نجانے کہاں بھیج دی گئیں ، اور ایسا تب بھی ہوا جب میں نے صدر مملکت کی فرمائش پر سارے بڑے آرٹسٹوں سے پینٹنگز بنوائیں ، صدر صاحب یعنی لغاری صاحب کو پسند نہ آئیں بس بسم اللہ لکھوا کر خوش رہے ۔ وہ ساری پینٹنگز جانے سی ڈی اے کے خراب خانے میںڈ ال دی گئیں کہ کہاں گئیں ، اسی طرح جب میں نیشنل سینٹر میں تھی تو چغتائی صاحب کی پینٹنگز کوثر نیازی صاحب نے دیکھ لیں اور حکم ملا کہ مجھے بھجوا دو ۔

چلئے نوکری کے بہت دن او ایس ڈی یعنی رات کو گیارہ بجے سے صبح چھ بجے دفتر اپنی گاڑی پر، یہ بھی سزا تھی اس کے بعد ڈائریکٹر مطبوعات کی پوزیشن ملی اس سال ماہِ نو کو نکلے 40سال ہوئے خبطی تو میں تھی سیکرٹری کو بتایا اور پھر سارے اسٹاف کو اپنے کمرے میں بٹھا کر کھانا کھلایا (گھر سےبناکر لائی تھی) اور یوں اسٹاف اور غلام علی پریس کی محبت میں 1800 صفحات پر مبنی نمبر نکالا جو ہر باہر کی یونیورسٹی میں موجود ہے ،میرے پاس ہی نہیں۔ اب داتا کی نگری سے شاہ اللہ دتہ کی نگری میں بسم اللہ خان کی شہنائی سے نورجہاں کی پہلی محبت اور چغتائی صاحب سے لے کر سلیمہ ہاشمی تک آرٹ گیلری میں نمائش کی ،پاکستان کا پہلا اور آخری ڈانس فیسٹیول اور دو بین الاقوامی موسیقی کانفرنسیں کروائیں ۔ نورجہاں نے ہر دفعہ نصرت فتح علی خان کے ساتھ افتتاح بھی کیا، دونوں کی دیوانی خلقت نے صبح4بجے تک سنا ، بس یہ تیر اسلام آباد کے شیخ کی کھوپڑی میں لگ گیا ،میں نوکری چھوڑ کر کمپیوٹر سیکھنے اسی دن بیٹھ گئی ۔

15برس تک پاکستانی دیہات میں عورتوں کے ساتھ بیٹھ کر ،علاقائی کشیدہ کاری میں مہارت اورقیمت نکالنا سکھایا۔ 2015ءمیں این جی اوز بند کردی گئیں ، میں اپنے دفتر میں زیر طباعت کتابوں میں جملے اور شعر زیر زبر کرتی رہی ، نیاز صاحب اور افضال نے وعدہ لیا کہ اور لکھو گی...زندگی میں پلٹ کر دیکھا تو 42ادبی کتب اور12بچوں کی کتابیں، افضال گن رہا تھا 85سال پر پہنچ کر پیچھے مڑ کر دیکھا ...کوئی نہیں تھا، زاہد ڈار سے لے کر احمد فراز اور خالدہ حسین سے لے کر انتظار حسین تک مجھے اکیلا چھوڑ گئے۔

20 برس پہلے سہیل وڑائچ نے میرے انٹرویو میں پوچھا’’اکلاپا کیسا لگتا ہے‘‘ میں نے کہا دونوں بیٹوں سے ٹیلیفون پر بات اور موجود چند رائٹرز سے کبھی کبھی ملاقات ‘‘ سہیل نے کہا ...وہ ساری باتیں، ملاقاتیں، شناسائیاں اور رسوائیاں وہ سب بیچ میں چھوڑ دیئے ۔

میرے اندر لکھنے کی جتنی طاقت اور ہمت تھی ، سمندر کی سیاہی بھی کم ہوگئی اور جن دوستوں سے شامیں آباد تھیں ان کی تصویروں کو اپنی کتابوں میں دیکھتی رہی شام کو آباد کرنے کیلئے ایک گلاس اور ایک کتاب میری دوسراہٹ۔ میں بیٹھے کبھی سہگل اور بقول منیر نیازی کشور یا مانیکر کو ٹیلی فون پر لگا کر بیٹھتی ہوں ،صبح ہوتے ہی موبائل بول اٹھتاہے …یانبی ﷺسلام علیک …چڑیاں میرے ساتھ گاتی جاتی ہیں ۔ دنیا بھر سے ماہر نفسیات موبائل پر پوچھتے ہیں ’’ہم بزرگوں کا دل بہلاتے ہیں،کیا آپ ہماری شاگرد بنیں گی‘‘۔

تازہ ترین