پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث نئی نہیں، لیکن آج یہ سوال پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے کہ کیا اکیسویں صدی کے تقاضوں کے مطابق چار صوبے تقریباً پچیس کروڑ سے زائد آبادی والے ملک کیلئے کافی ہیں یا پھر ریاستی نظم و نسق کو عوام کے قریب لانے کیلئےانتظامی وحدتوں کی ازسرِ نو تشکیل وقت کی ناگزیر ضرورت بن چکی ہے؟یہ بحث جذبات، لسانیت یا علاقائی سیاست سے بالاتر ہو کر ریاستی حکمتِ عملی، آئینی ارتقا اور عوامی مفاد کے تناظر میں ہونی چاہیے۔ کسی بھی وفاق کی مضبوطی اس کے نقشے کے حجم سے نہیں بلکہ ہم اسکی انتظامی استعداد، انصاف کی فراہمی، معاشی طاقت اور شہریوں کے اطمینان سے جانچ سکتے ہیں۔دنیا کی کامیاب وفاقی ریاستوں پر نگاہ ڈالیں تو ایک دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے۔ بھارت نے آزادی کے وقت نسبتاً کم ریاستوں سے آغاز کیا، مگر انتظامی ضروریات، لسانی شناخت اور ترقیاتی تقاضوں کے باعث وقتاً فوقتاً نئی ریاستیں قائم کیں۔ ہماچل، ہریانہ، پنجاب، چھتیس گڑھ، جھاڑکھنڈ، اتراکھنڈ اور بعدازاں تلنگانہ اسی سلسلے کی مثالیں ہیں۔ آج بھارت میں 28 ریاستیں اور متعدد وفاقی علاقے ہیں۔ اس عمل نے کئی خطوں میں انتظامی رسائی، مقامی سرمایہ کاری اور عوامی نمائندگی کو تقویت دی، اگرچہ بعض علاقوں میں نئے تنازعات نے بھی جنم لیا۔
بنگلہ دیش نے اگرچہ نئے صوبے نہیں بنائے، مگر اضلاع اور انتظامی ڈھانچے کو مسلسل مضبوط کیا۔ ایران میں اکتیس صوبے ہیں، افغانستان میں چونتیس، جبکہ چین نے اپنی ڈیڑھ ارب وسیع آبادی کو مختلف صوبائی اور خودمختار انتظامی اکائیوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ گویا دنیا کا عمومی رجحان یہی ہے کہ آبادی اور انتظامی بوجھ بڑھنے کے ساتھ ریاستی ڈھانچہ بھی وسعت اختیار کرتا ہے۔پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس رہی۔ 1947ء میں بھی صوبوں کی تعداد تقریباً یہی تھی اور آج، آبادی کئی گنا بڑھ جانے کے باوجود بنیادی صوبائی ڈھانچہ تقریباً وہی ہے۔ متعدد تحقیقی مطالعات کے مطابق آبادی میں غیر معمولی اضافہ، علاقائی عدم مساوات اور ترقیاتی تفاوت نے نئے صوبوں کی بحث کو زندہ رکھا ہے۔ وفاقی ریاستوں میں انتظامی وحدتوں کی تشکیل صرف جغرافیائی تقسیم کا معاملہ نہیں ہوتی بلکہ اس کے ساتھ مالیاتی، آئینی اور سیاسی مضمرات بھی وابستہ ہوتے ہیں۔ پاکستان میں اگر نئے صوبوں کا قیام زیرِ غور آئے تو اس کے اثرات قومی مالیاتی کمیشن ، سینیٹ میں مساوی صوبائی نمائندگی، قومی اسمبلی میں نشستوں کی تقسیم، مشترکہ مفادات کونسل اور وفاقی وسائل کی ازسرِ نو تخصیص تک پھیلیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ آئینِ پاکستان نے اس عمل کو غیر معمولی احتیاط اور وفاقی اتفاقِ رائے سے مشروط کیا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 239(4) کی رو سے اگر کسی آئینی ترمیم کے نتیجے میں کسی موجودہ صوبے کی حدود یا تشخص متاثر ہوتا ہو تو ایسی ترمیم پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت سے منظوری کے ساتھ ساتھ متعلقہ صوبائی اسمبلی کے کل ارکان کی دو تہائی اکثریت سے بھی منظور ہونا لازم ہے، جسکے بعد ہی اسے صدرِ مملکت کی توثیق کے لیے بھیجا جا سکتا ہے۔ اس آئینی تقاضے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی صوبہ اپنی رضامندی کے بغیر اپنی جغرافیائی یا انتظامی حیثیت سے محروم نہ ہو اور وفاقی اکائیوں کے مابین اعتماد کی فضا برقرار رہے۔ یہی سبب ہے کہ جنوبی پنجاب، بہاولپور، ہزارہ یا کراچی جیسے ممکنہ نئے صوبوں کی تجاویز اگرچہ وقتاً فوقتاً قومی سیاسی بیانیے کا حصہ بنتی رہی ہیں، مگر آئینی تقاضوں اور سیاسی اتفاقِ رائے کے فقدان کے باعث عملی صورت اختیار نہ کر سکیں۔ بعض آئینی ماہرین اس امر کی بھی وکالت کرتے ہیں کہ مستقبل میں ایک قومی کمیشن برائے تنظیمِ نووفاقی اکائیاں تشکیل دیا جائے، جو آبادی، جغرافیہ، وسائل، انتظامی استعداد، معاشی امکانات اور عوامی خواہشات کی بنیاد پر سفارشات مرتب کرے، اور جہاں ضرورت ہو وہاں مشاورتی ریفرنڈم بھی کرایا جائے، تاہم موجودہ آئینی ڈھانچے میں صرف ریفرنڈم کی بنیاد پر کسی نئے صوبے کا قیام ممکن نہیں۔ اس کیلئے آئینی ترمیم اور آرٹیکل 239 کے تقاضوں کی مکمل تکمیل ناگزیر ہے۔ نئے صوبوں کے حق میں سب سے مضبوط دلیل گڈ گورننس ہے۔ جب وزیراعلیٰ، چیف سیکریٹری، آئی جی پولیس، سیکریٹریز، ہائی کورٹ اور دیگر اہم ادارے عوام کے قریب ہوں تو فیصلے نسبتاً جلد ہوتے ہیں۔ دور دراز علاقوں کے شہریوں کو اپنے ہی صوبائی دارالحکومت تک سینکڑوں کلومیٹر سفر نہیں کرنا پڑتا۔ انتظامیہ مقامی مسائل سے بہتر آگاہ ہوتی ہے، وسائل کی تقسیم نسبتاً متوازن ہوتی ہے اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی آسان ہو جاتی ہے۔ نئے صوبے بننے کی صورت میں نئی ہائی کورٹس، ماتحت عدلیہ کی بہتر تنظیم، پراسیکیوشن کے مقامی ڈھانچے اور پولیس اصلاحات کیلئےنئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ انصاف کی فراہمی کا وقت کم ہو سکتا ہے، اگر ساتھ ہی عدالتی اصلاحات بھی کی جائیں۔کرپشن کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔
معاشی اعتبار سے بھی اس تصور میں امکانات موجود ہیں۔ ہر نیا صوبہ اپنی سرمایہ کاری، صنعت، سیاحت، زراعت اور معدنی وسائل کی الگ حکمت عملی تشکیل دے سکتا ہے۔ مقامی حکومتیں علاقائی تقاضوں کے مطابق بجٹ سازی کر سکتی ہیں، جس سے ترقی کے نئے مراکز ابھر سکتے ہیں۔ بھارت کی بعض نئی ریاستوں میں معدنی وسائل، انفراسٹرکچر اور مقامی سرمایہ کاری میں بہتری دیکھی گئی، اگرچہ یہ کامیابی صرف نئی ریاست بنانے سے نہیں بلکہ موثر حکمرانی سے وابستہ تھی۔ تاہم تصویر کا دوسرا رخ بھی کم اہم نہیں۔ہر نیا صوبہ ایک نیا گورنر ہاؤس، وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ، اسمبلی، ہائی کورٹ، پولیس ہیڈکوارٹر، بیوروکریسی اور مالیاتی ڈھانچہ بھی مانگتا ہے۔ اگر مالی نظم، شفافیت اور احتساب موجود نہ ہوں تو یہی انتظامی توسیع قومی خزانے پر اضافی بوجھ بن سکتی ہے۔اسی طرح اگر نئے صوبوں کی بنیاد صرف لسانی یا نسلی شناخت پر رکھی جائے تو وفاقی ہم آہنگی کے بجائے نئی تقسیم در تقسیم جنم لے سکتی ہے۔ دنیا کے تجربات یہی بتاتے ہیں کہ کامیاب انتظامی تقسیم وہی ہوتی ہے جسکی بنیاد انتظامی استعداد، معاشی قابلیت، جغرافیائی حقیقت اور عوامی اتفاق رائے پر ہو۔ سیاسی جماعتوں کیلئےبھی اس تبدیلی کے مثبت اور منفی دونوں پہلو ہیں۔ بڑی جماعتوں کو نئے سیاسی مراکز، نئی قیادت اور علاقائی نمائندگی کے مواقع مل سکتے ہیں، جبکہ علاقائی جماعتوں کا کردار بھی مضبوط ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف انتخابی سیاست کا توازن، سینیٹ میں نمائندگی، قومی وسائل کی تقسیم اور وفاقی مالیاتی ایوارڈ جیسے معاملات نئے مباحث کو جنم دیں گے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ نئے صوبے بننے چاہئیں یا نہیں۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا نئے صوبے عوامی خدمت کی رفتار بڑھائیں گے؟ کیا تعلیم، صحت، پولیس، عدلیہ اور روزگار واقعی بہتر ہوں گے؟اگر جواب ہاںمیں ہے تو پھر اس بحث سے فرار ممکن نہیں۔اور اگر محض نقشے پر نئی لکیریں کھینچنی ہیں جبکہ نظامِ حکمرانی وہی پرانا رہے گا، تو نئے صوبے بھی پرانے مسائل کا نیا نام ثابت ہوں گے۔