گزشتہ چند برسوں میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں جنگی حالات کے دوران پہنچنے والی غیر معمولی بلند سطح سے نمایاں طور پر کم ہو چکی ہیں۔ ایک معمول کی معاشی منطق یہ تقاضا کرتی ہے کہ جب عالمی منڈی میں خام تیل سستا ہو تو اس کا فائدہ براہِ راست عوام تک پہنچے اور پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے۔ لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہوا۔ اس کے برعکس حکومت نے بین الاقوامی قیمتوں میں کمی کا زیادہ تر فائدہ عوام کو منتقل کرنے کے بجائے پٹرولیم لیوی میں اضافے کے ذریعے اپنے محصولات بڑھانے پر توجہ دی۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج بھی پاکستان کے عوام، کسان، طالب علم، صنعتکار، ٹرانسپورٹر اور تاجر مہنگے ترین ایندھن کا بوجھ اٹھانے پر مجبور ہیں۔ صرف پچھلے سال جنگ کے حالات کا سہارا لے کر لیوی میں جو اضافہ کیا گیا، اس کا بہت بڑا حصہ موٹر سائیکل چلانے والوں اور چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنے والوں نے ادا کیا۔ یعنی متوسط اورکم آمدنی والے طبقات نے زیادہ بوجھ اٹھایا۔ اشرافیہ جو اکثر ٹیکس سے بھی محفوظ رہتی ہے، لیوی کا بوجھ اٹھانےمیں بھی کم ہی حصہ دار بنی۔ توانائی کے وفاقی وزیر جناب اویس لغاری کے مطابق، پاکستان میں 25 ملین موٹر سائیکلیں ہیں اور موٹر سائیکل سوار 600 سے 700 بلین روپےپیٹرولیم لیوی کی مد میں حکومت کو ادا کرتے ہیں۔ یعنی ان بائکیا چلانے والوں، ڈیلیوری کا کام کرنے والوں اور طالب علموں نے وہ قرض اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے۔
پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ہر اضافہ معیشت کے ہر شعبے پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے، زرعی لاگت بڑھتی ہے، صنعت کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے، مہنگائی میں تیزی آتی ہے اور بالآخر ہر پاکستانی خاندان اس کی قیمت ادا کرتا ہے۔اسی پس منظر میں جماعت اسلامی کی جانب سے ملک گیر احتجاج کو محض ایک سیاسی تحریک کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ ایک ایسی معاشی پالیسی کے مطالبے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جو عوام کو فوری ریلیف دے، معیشت کے پہیے کو دوبارہ متحرک کرے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ براہِ راست پاکستانی عوام تک پہنچائے۔
حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ پٹرولیم لیوی ریاستی آمدنی کیلئے ضروری ہے، جبکہ حقیقت یہ بھی ہے کہ آئی ایم ایف کے پروگراموں کے تحت گزشتہ چند برسوں میں پٹرولیم لیوی کو مسلسل بڑھایا گیا تاکہ حکومتی محصولات میں اضافہ کیا جا سکے۔یہیں سے اصل سوال پیدا ہوتا ہے۔کیا مالیاتی خسارہ پورا کرنے کیلئے پورے ملک کی معیشت پر اضافی بوجھ ڈال دینا دانشمندانہ پالیسی ہے؟سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2015-16سے مالی سال 2025-26(ءجزوی) تک حکومت نے صرف پٹرولیم لیوی کی مد میں تقریباً 5.57 کھرب روپے وصول کیے، جبکہ صرف مالی سال 2025-26 میں یہ وصولیاں 1.2 کھرب روپے سے تجاوز کر گئیں۔اسی عرصے میں پاکستان نے اربوں ڈالر مالیت کا پٹرول، ڈیزل اور دیگر ریفائن شدہ پٹرولیم مصنوعات درآمد کیں کیونکہ ملک کی ریفائنریاں جدید تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ نہ ہو سکیں۔یہ پاکستان کی پٹرولیم پالیسی کا سب سے بڑا تضاد ہے۔ماہرین کے مطابق پاکستان کی موجودہ ریفائنریوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے تقریباً 5 سے 6 ارب ڈالر درکار تھے۔ اگر یہ سرمایہ کاری ایک دہائی قبل کر دی جاتی تو آج پاکستان نہ صرف یورو فائیو معیار کا پٹرول اور ڈیزل بڑی مقدار میں خود تیار کر رہا ہوتا بلکہ درآمدی پٹرولیم مصنوعات پر انحصار بھی نمایاں حد تک کم ہو چکا ہوتا۔پاکستان ریفائنری لمیٹڈ سمیت دیگر ریفائنریوں نے اپنی اپ گریڈیشن کے منصوبے تیار بھی کر لیے تھے، لیکن مالیاتی مراعات میں عدم استحکام اور پالیسی میں بار بار تبدیلیوں کے باعث یہ سرمایہ کاری مؤخر ہوتی رہی۔یہ سوال ہر پاکستانی کو پوچھنے کا حق حاصل ہے کہ جب عوام سے 5.5 کھرب روپے سے زیادہ پٹرولیم لیوی وصول کی جا چکی تھی تو اس کا ایک محدود حصہ بھی ملکی ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن پر کیوں خرچ نہ کیا گیا؟
اگر ایسا کیا جاتا تو پاکستان ہر سال اربوں ڈالر کے قیمتی زرمبادلہ کی بچت کر سکتا تھا۔ زرِ مبادلہ کے ذخائر مضبوط ہوتے، روپے پر دباؤ کم ہوتا، درآمدی بل میں کمی آتی اور آئندہ عالمی توانائی بحرانوں کے اثرات بھی نسبتاً محدود رہتے۔اس سے بھی بڑھ کر اس کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچتے۔ڈیزل سستا ہونے سے کسان کی پیداواری لاگت کم ہوتی، ٹرانسپورٹ کے اخراجات گھٹتے، اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی آتی، صنعت کی پیداواری لاگت کم ہوتی اور پاکستانی برآمدات عالمی منڈی میں زیادہ مسابقتی بنتیں۔یوں معیشت کا پورا پہیہ زیادہ تیزی سے چلتا، روزگار کے مواقع پیدا ہوتے اور حکومت کو بھی زیادہ معاشی سرگرمیوں کی وجہ سے قدرتی طور پر زیادہ محصولات حاصل ہوتے۔اس لیے آج ضرورت صرف اس بات کی نہیں کہ پٹرولیم لیوی سے زیادہ سے زیادہ آمدنی حاصل کی جائے، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا پورا فائدہ پہنچایا جائے۔
جب خام تیل سستا ہو تو حکومت کو چاہیے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں اسی تناسب سے کم کرے، نہ کہ لیوی بڑھا کر اس فائدے کو جذب کر لے۔ موجودہ حالات میں پٹرولیم لیوی کا ازسرِنو جائزہ لینا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ عوام، صنعت، زراعت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کو فوری ریلیف مل سکے۔ساتھ ہی، مستقبل کیلئے ایک واضح قومی حکمتِ عملی بھی وضع کی جانی چاہیے۔ اگر کسی غیر معمولی مالی ضرورت کے تحت آئندہ کبھی پٹرولیم لیوی عائد کی جائے تو اس کا ایک مقررہ حصہ قانونی طور پر صرف ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن، اسٹرٹیجک پٹرولیم ذخائر، پائپ لائن نیٹ ورک اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر خرچ کیا جائے تاکہ عوام کی قربانی مستقل قومی اثاثوں میں تبدیل ہو۔پاکستان کی پٹرولیم پالیسی کا مقصد صرف خزانہ بھرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ معیشت کو مضبوط بنانا، عوام کو ریلیف فراہم کرنا اور ملک کو توانائی کے میدان میں زیادہ خود کفیل بنانا ہونا چاہیے۔
آج پاکستان کے سامنے دو راستے ہیں۔ ایک وہ جو مسلسل بڑھتی ہوئی لیوی، مہنگے ایندھن، سست معیشت اور بیرونی قرضوں پر انحصار کی طرف لے جاتا ہے۔ دوسرا وہ جو عالمی منڈی میں تیل کی کم ہوتی قیمتوں کا فائدہ عوام تک منتقل کرتا ہے، صنعت اور زراعت کی لاگت کم کرتا ہے، برآمدات کو مسابقتی بناتاہے اور ملکی ریفائنریوں کو جدید بنا کر توانائی کے شعبے کو مضبوط بنیادیں فراہم کرتا ہے۔یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف عوام کو فوری ریلیف دے سکتا ہے بلکہ پاکستان کی معیشت کے پہیے کو دوبارہ پوری رفتار سے چلا سکتا ہے۔