حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوئے یا ڈیڈ لاک برقرار ہے؟ فریقین کی جانب سے متضاد بیانات سامنے آتے رہے۔ بات چیت کا دور ختم ہوگیا، فیصلہ کیا ہوگا؟ سب کی نظریں حکومت اور اپوزیشن پر ہیں۔
ذرائع کے مطابق حکومت اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں اسپیکر چیمبر میں حکومتی ارکان دستاویز پر غور کر رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محسن نقوی بیرسٹرگوہر خان کے ساتھ مذاکرات کے مسودے کو حتمی شکل دے رہے ہیں، حکومتی کمیٹی کی جانب سے مجوزہ مسودے کی نوک پلک درست کی جا رہی ہے۔
محسن نقوی نے ایوان صدر جاکر مجوزہ مسودے کی صدر آصف زرداری سے منظوری لی تھی، اٹارنی جنرل نے بھی محسن نقوی کی طرف سے دیے گئے مجوزہ مسودے کی توثیق کی، وزیر داخلہ نے توثیق کے بعد مجوزہ مسودہ مذاکراتی کمیٹی میں پیش کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں مسودے کی شقوں کی وزیراعظم سے بھی منظوری لے لی گئی، وزیر داخلہ محسن نقوی نے وزیراعظم کو ٹیلی فون کرکے تفصیلات اور مذاکرات میں ہونے والی اب تک کی پیشرفت سےآگاہ کیا۔
ایوان صدر سے واپسی پر صحافیوں نے پوچھا سر کوئی خوشخبری ہے کیا؟ جواب میں محسن نقوی مسکراتے ہوئے لفٹ میں چلے گئے۔
پی ٹی آئی کے موخر شدہ لانگ مارچ کا دن بھی آن پہنچا، ہفتے کو سارا دن اسپیکر چیمبر میں حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات ہوئے، دو ادوار کے بعد مذاکراتی عمل میں شامل وزیر داخلہ محسن نقوی اسپیکر چیمبر سے نکل کر ایوانِ صدر پہنچے، صدر مملکت سے حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات کی تفصیلات کے حوالے سے مشاورت کی۔
اس سے قبل قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن قائدین سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی نے ٹیلیفون پر بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر سے گفتگو کی، جس میں کہا گیا کہ پہلے بانی سے ملاقات ہوگی، پھر کوئی فیصلہ ہوگا، بانی سے ملاقات کے بغیر کوئی اعلان یا فیصلہ ممکن نہیں، اس بات تک محدود رہو کہ بانی سے ملاقات ہوگی تو ہی فیصلہ ہوگا، حکومت کو کہیں بانی سے پوچھ کر آپ کو اس کا فیصلہ بتائیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ ہاؤس خیبر پختونخوا میں اہم مشاورت جاری رہی، مشاورت میں وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی، صوبائی وزراء اور اراکین اسمبلی شریک تھے، سہیل آفریدی حکومتی اور اپوزیشن رہنماؤں کی پریس کانفرنس کے منتظر ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مذاکراتی ٹیم ہی فیصلہ کرے گی، وہ پریس کانفرنس کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
اس سے قبل ذرائع کا کہنا تھا کہ حکومت، اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے، مذاکراتی ٹیموں کی معاہدے کے ڈرافٹ پر مشاورت جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان معاہدے کا ڈرافٹ تیار کیا جا رہا ہے، تحریری معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے، حکومت کی طرف سے لانگ مارچ ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا، اپوزیشن کی جانب سے صوبائی حکومت کو لانگ مارچ ختم کرنے کے مطالبے سے آگاہ کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے علامہ ناصر عباس اور محمود اچکزئی کی ملاقات پر حکومت رضا مند ہوگئی، حکومت کی جانب سے کہا گیا پہلے لانگ مارچ کو ختم کیا جائے، بانی سے ملاقات اور بہنوں کی رہائی کا معاملہ پی ٹی آئی کی جانب سے اٹھایا گیا، اپوزیشن نے پی ٹی آئی کے تمام پارلیمٹیرنز اور کارکنان کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔
اپوزیشن رہنماؤں نے بانی کو معاملات کے حل کے لیے راضی کرنے کی یقین دہانی کروائی، اسپیکر قومی اسمبلی نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مصالحت میں اہم کردار ادا کیا۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں شامل پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر کا کہنا ہے کہ نہ لانگ مارچ ہوگا، نہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگے گی۔
رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے مذاکرات کو فیس سیونگ اور لانگ مارچ ختم کرنے کا بہانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ ختم کرنے کے لیے پبلک کو بتایا جائے گا کہ بس معاہدہ ہوگیا جبکہ حکومت اپوزیشن کو پہلے ہی بتاچکی کہ کسی بات پر عمل نہیں ہوگا۔
حکومت اور اپوزیشن کے مذاکراتی عمل کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کر رہے تھے، حکومتی وفد میں محسن نقوی، امیر مقام ،طلال چوہدری، رانا ثنا اللہ شامل تھے، نوید قمر، شیری رحمان، اعجاز جاکھرانی بھی حکومتی وفد کا حصہ تھے۔
اپوزیشن ٹیم میں علامہ ناصر عباس، بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، حلیم عادل شامل تھے۔
اس سے قبل حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات دوسرے دور کا آغاز گلے شکوؤں کے ساتھ ہوا تھا۔
وفاقی وزیر امیر مقام نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ٹوئٹ کا معاملہ اٹھایا، جبکہ حکومت نے مذاکرات آگے بڑھانے کیلئے اپوزیشن سے لانگ مارچ ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ امیر مقام نے کہا ہم نے کل اپوزیشن سے آگے بڑھنے کے لیے لانگ مارچ منسوخ کرنے کی بات کی تھی، آج سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کا ٹوئٹ کردیا۔
حکومتی وفد نے پی ٹی آئی سے شکوہ کیا کہ سینئر حکومتی اکابرین سے متعلق نازیبا زبان بھی استعمال کی گئی، ایسے میں ہم کیا سمجھیں کہ اپوزیشن وفد کتنا با اختیار ہے؟
اپوزیشن نے حکومت کو جواب دیا کہ آپ وزیر دفاع خواجہ آصف کے ٹوئٹ کے بارے میں کیا کہیں گے، کیا وہ درست ہے؟ اگر آگے بڑھنا ہے تو اعتماد بحال کرنا ہوگا۔
حکومتی وفد نے اپوزیشن کے سامنے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم کھلے دل سے آئے ہیں اور مکمل با اختیار ہیں، پیپلز پارٹی نے کہا کہ لانگ مارچ غیر مشروط طور پر ختم کریں تاکہ مذاکرات آگے بڑھیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زراری نے حکومت اور اپوزیشن سے مذاکرات کامیاب بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وفاق خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا آئینی آپشن استعمال کرنے جارہا تھا، لیکن پیپلز پارٹی نے مشورہ دیا کہ آپشن سے پہلے سیاسی حل ڈھونڈنے کی کوشش کی جائے، کوشش ہوگی پی ٹی آئی کو قائل کیا جائے کہ وہ لانگ مارچ ختم کردیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے تحریک انصاف کو مشورہ دیا کہ وہ سیاسی اور دہشت گردی سے متعلق معاملات الگ رکھے کیونکہ جب وہ سیاست پر توجہ دیتے ہیں تو کے پی میں دہشت گردی بڑھ جاتی ہے۔