• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

(مجموعۂ کلام)

شاعر: شاہد علی

صفحات: 180، قیمت: 1300روپے

ناشر: ’’نیا آدمی‘‘ B-253، بلاک جے، نارتھ ناظم آباد، کراچی۔

فون نمبر: 9224890 - 0300

زیرِنظر کتاب کے شاعر، کرنل شاہد علی کا بنیادی تعلق میرپورخاص (سندھ) سے ہے۔ اُنہوں نے 1994ء میں اپنے شہر کے سینئر شعراء رفیق احمد نقش اور یعقوب خاور کے سامنے ایک تنقیدی نشست میں اپنی ایک غزل پیش کی، اِس سے بھی اُن کی شاعرانہ عُمر کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

کرنل شاہد علی کا نام پاک فوج سے تعلق رکھنے والے قلم کاروں کی فہرست میں خوش گوار اضافہ ہے اور ہمارے سامنے اُن کا اوّلین شعری مجموعہ ہے، جس میں84 غزلیں اور30 نظمیں شامل ہیں۔ اُنہوں نے دونوں اصناف کے ساتھ انصاف کیا ہے۔

مَیں معروف شاعر، سحرتاب رومانی کی اِس رائے سےاتفاق کرتا ہوں کہ کرنل شاہد علی کی شعری صلاحیتوں کےجوہر، اُن کی نظم اور غزل دونوں میں دیکھے جاسکتے ہیں، تاہم مجھے نظم، اُن کے مزاج کے زیادہ قریب لگتی ہے۔ بلاشبہ، اُن کی غزل، محبّتوں کا استعارہ ہے، لیکن اُن کی نظموں کی فکری جہتیں نہایت متاثرکُن ہیں۔

اُنہوں نے کتاب میں اپنے کسی استاد کا تذکرہ نہیں کیا، لیکن زبان وبیان کی نزاکتوں تک پہنچنے کے لیے کسی استاد کی رہنمائی ضروری ہوتی ہے۔ یقیناً یہ کتاب کسی استاد کی نظر سے گزری ہے، اِسی لیے اغلاط سے پاک ہے اورفنی طور پرکہیں کوئی سقم نظر نہیں آیا۔ کتاب کا پیش لفظ سینئر شاعر اور افسانہ نگار، عباس رضوی نے لکھا ہے، جب کہ فلیپ پر سحرتاب رومانی اور کامران نفیس کی آراء شامل کی گئی ہیں۔