• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

(حسین نقی کے تجربات و مشاہدات)

ترتیب و تدوین: ڈاکٹر سیّد جعفر احمد

صفحات: 184، قیمت: 1000روپے

ناشر: انسٹی ٹیوٹ آف ہسٹاریکل اینڈ سوشل ریسرچ۔

فون نمبر: 34140035 (9221)

حسین نقی اِس وقت پاکستان کے سینئر صحافی اور ایڈیٹر ہیں، اُنہوں نے وادیٔ صحافت میں اپنی زندگی کے تقریباً سات عشرے گزارے اور صحافت کےشعبے میں اپنے اَن مِٹ نقوش ثبت کیے، انسٹی ٹیوٹ آف ہسٹاریکل اینڈ سوشل ریسرچ، تاریخ نویسی کا ادارہ ہے، جو حُکم رانوں کےنقطۂ نظر سے نہیں، بلکہ عام انسانوں کے نقطۂ نظر سے تاریخ لکھتا اور مرتّب کرتا ہے۔ اِس ادارے کے ڈائریکٹر، ڈاکٹر سیّد جعفر احمد، معروف ترقّی پسند دانش وَر اور محقّق ہیں، جو انگریزی اور اُردو میں تیس سے زیادہ کتابوں کے مصنّف اورمرتّب ہیں۔

اُنہوں نے من جملہ دوسری کتابوں کے، کچھ کتابیں اُن سرکردہ شخصیات کے طویل انٹرویوز پر مشتمل مرتّب کی ہیں، جنہوں نے اپنے شعبے میں طویل خدمات انجام دیں، اِن شخصیات کی یادداشتیں اُن کی زندگی ہی کا احاطہ نہیں کرتیں بلکہ اُن کے شعبے میں جو تبدیلیاں واقع ہوئیں، اُن کے جو مشاہدات اور تجربات رہے، اُن کا بھی احاطہ کرتی ہیں۔

زبانی تاریخ (Oral History) کی اِس صنف کے تحت ڈاکٹر جعفر احمد کئی اہم کتابیں مرتّب کرچُکے ہیں، ان کتابوں میں عام انٹرویوز سے ہٹ کر بیان کردہ تفصیلات کو دوسرے مآخذ کی مدد سے توثیق کے بعد کتاب کا حصّہ بنایا جاتا ہے اور یوں کتاب، زبانی تاریخ کے پیشہ ورانہ اُسلوب کی حامل بن جاتی ہے، حسین نقی کی یادداشتیں بھی اِسی طور مرتّب کی گئی ہیں۔

زیرِنظر کتاب میں 1950ء کے عشرے سے آج تک صحافت کے شعبے میں جو تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں، نہ صرف اُن کا احاطہ کیا گیا ہے، بلکہ آزادیٔ صحافت کے لیے برس ہا برس تک جاری رہنے والی جدوجہد کا بھی تفصیلی ذکر موجود ہے۔ حسین نقی اُردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں لکھتے رہے، وہ لکھنؤ سے ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے، یہ بھی اُن کا اعزاز ہے کہ اُنہوں نے پنجابی زبان کا اخبار ’’سجن‘‘ نکالا۔

آمریتوں کےدَورمیں قیدوبند کی آزمائشوں سے بھی دوچار ہوئے، مگر اُن کے پائے استقامت میں کبھی لغزش نہیں آئی۔ نیز، انسانی حقوق کی جدوجہد میں بھی پیش پیش رہے۔ یقین ہے، حسین نقی کی یہ یادداشتیں صحافت کے طلبہ اورعام قارئین کے لیے خصوصی دل چسپی کا موجب ثابت ہوں گی۔