خیّامُ الپاک ظفر محمّد خان ظفرؔ
دِلوں کی دھڑکن، جِگر کا پارہ
ہے کتنا دل کش، ہے کتنا پیارا
زمیں پہ جنّت کا اِک نظارہ
وطن ہمارا، وطن ہمارا
زمیں اُگلتی ہے، جس کی سونا
گُہر اُگلتے ہیں، جس کے دریا
ہے جس کا ہر ذرّہ ماہ پارہ
وطن ہمارا، وطن ہمارا
یہ دل لُبھاتا ہِلالی پرچم
اَذان دیتا بِلالیؓ پرچم
ہے جس کے مقسوم کا سِتارہ
وطن ہمارا، وطن ہمارا
رفاقتوں کا رَہین ہے جو
محبّتوں کا اَمین ہے جو
ہے جس کا آفاق پر اِجارہ
وطن ہمارا، وطن ہمارا