• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

٭ احسان کا بدلہ ادا نہ بھی کرسکو، زبان سے شکریہ ضرور ادا کردو۔

٭ سُکھ اور مسرت ایسے عطر ہیں، جنہیں دوسروں پر جتنا زیادہ چھڑکیں گے، اُتنی ہی زیادہ خوش بُو خود آپ کے پاس سے آئے گی۔

٭ تحریر ایک خاموش آواز اور قلم ہاتھ کی زبان ہے۔

٭ انسان چہرہ تو صاف رکھتا ہے، جس پر لوگوں کی نظر ہوتی ہے، مگر دل صاف نہیں رکھتا، جس پر اللہ کی نظر ہوتی ہے۔

٭ ایک سفر وہ بھی ہوتا ہے، جس میں پاؤں نہیں، دل تھک جاتے ہیں۔

٭ جس نے ایک اسکول کا دروازہ کھولا، اُس نے ایک جیل کا دروازہ بند کردیا۔

٭ دو طرح کے لوگوں کو ہم کبھی نہیں بُھلا سکتے، ایک وہ، جنہیں ہم یاد رکھنا چاہتے ہیں اور دوسرے وہ، جنہیں ہم بھول جانا چاہتے ہیں۔

٭ الفاظ دل جیت بھی لیتے ہیں اور دل چیر بھی دیتے ہیں۔

٭ اگر پر موم کے ہوں، تو سورج سے محبّت نہیں کرنی چاہیے۔

٭ جو لوگ جُھک جاتے ہیں، وہ کم زور نہیں ہوتے، بس اُن میں رشتے نبھانے کی چاہت دوسروں سے زیادہ ہوتی ہے۔

٭ محبّت کی عمارت میں شک کی دراڑ پڑجائے، تو معذرت کے گارے سے بھر بھی جائے، پر نشان باقی رہتا ہے۔

٭ قابلِ قدر ہیں وہ لوگ، جن کے پاس نصیحت کے لیے الفاظ نہیں، اعمال ہوتے ہیں۔

٭ جن کے اخلاق اچھے، لگن سچّی ہو، اُنہیں آگے بڑھنے کے لیے کسی سفارش کی ضرورت نہیں ہوتی۔

(پرنس افضل شاہین، ڈھاباں بازار، بہاول نگر)