٭ احسان کا بدلہ ادا نہ بھی کرسکو، زبان سے شکریہ ضرور ادا کردو۔
٭ سُکھ اور مسرت ایسے عطر ہیں، جنہیں دوسروں پر جتنا زیادہ چھڑکیں گے، اُتنی ہی زیادہ خوش بُو خود آپ کے پاس سے آئے گی۔
٭ تحریر ایک خاموش آواز اور قلم ہاتھ کی زبان ہے۔
٭ انسان چہرہ تو صاف رکھتا ہے، جس پر لوگوں کی نظر ہوتی ہے، مگر دل صاف نہیں رکھتا، جس پر اللہ کی نظر ہوتی ہے۔
٭ ایک سفر وہ بھی ہوتا ہے، جس میں پاؤں نہیں، دل تھک جاتے ہیں۔
٭ جس نے ایک اسکول کا دروازہ کھولا، اُس نے ایک جیل کا دروازہ بند کردیا۔
٭ دو طرح کے لوگوں کو ہم کبھی نہیں بُھلا سکتے، ایک وہ، جنہیں ہم یاد رکھنا چاہتے ہیں اور دوسرے وہ، جنہیں ہم بھول جانا چاہتے ہیں۔
٭ الفاظ دل جیت بھی لیتے ہیں اور دل چیر بھی دیتے ہیں۔
٭ اگر پر موم کے ہوں، تو سورج سے محبّت نہیں کرنی چاہیے۔
٭ جو لوگ جُھک جاتے ہیں، وہ کم زور نہیں ہوتے، بس اُن میں رشتے نبھانے کی چاہت دوسروں سے زیادہ ہوتی ہے۔
٭ محبّت کی عمارت میں شک کی دراڑ پڑجائے، تو معذرت کے گارے سے بھر بھی جائے، پر نشان باقی رہتا ہے۔
٭ قابلِ قدر ہیں وہ لوگ، جن کے پاس نصیحت کے لیے الفاظ نہیں، اعمال ہوتے ہیں۔
٭ جن کے اخلاق اچھے، لگن سچّی ہو، اُنہیں آگے بڑھنے کے لیے کسی سفارش کی ضرورت نہیں ہوتی۔
(پرنس افضل شاہین، ڈھاباں بازار، بہاول نگر)