• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نائلہ شہناز

عالمی سطح پر اکثریہ تاثردینےکی کوشش کی جاتی ہے کہ دینِ اسلام اور مذہبی احکامات و قوانین خواتین کی تعلیم و ترقی اور حقوقِ نسواں کی راہ میں رکاوٹ ہیں، جب کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اسلام دنیا کا وہ پہلا دین ہے، جس نے آج سے پندرہ سو سال قبل عورت کو نہ صرف جاہلیت کے عمیق گڑھے سے نکالا بلکہ اُسے معاشرے میں ایک معزز، خودمختار اور قابلِ احترام مقام عطا کیا۔ دینِ اسلام کے احکامات کی روشنی میں حصولِ علم کسی ایک صنف تک محدود نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالی شان ہے۔

’’طلب العلم فريضۃ علی کُلِ مسلم‘‘ ترجمہ : (علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے) اس حدیثِ مبارکہ میں ’’مسلم‘‘ کا لفظ مرد اورعورت دونوں کا احاطہ کرتا ہے۔ اسلام نے جہاں مردوں کے لیے تعلیم کو لازمی قراردیا، وہاں خواتین کی تعلیم وتربیت پر بھی یک ساں زور دیا، کیوں کہ ایک تعلیم یافتہ عورت ہی ایک بہترین معاشرے اور نسل کی ضامن ہوتی ہے۔

اگر ہم اسلامی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ذاتِ گرامی علم و حکمت کا ایک عظیم منبع نظر آتی ہے۔ آپؓ سے ہزاروں احادیث مروی ہیں اور جلیل القدر صحابہ کرامؓ پیچیدہ فقہی مسائل میں آپؓ سے رہنمائی حاصل کرتے تھے۔ یہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اسلام نے خواتین کو علم کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہونے کا پورا حق دیا۔

پھر تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلام نےعورت کو معاشی و سماجی حقوق بھی فراہم کیے۔ وراثت میں حصّہ، ازدواجی زندگی میں اپنی مرضی کا حق، اور مہر کی صُورت مالی تحفّظ، وہ حقوق ہیں، جو اسلام نے عورت کو اُس وقت دیئے، جب دنیا کے دیگر خطّوں میں عورت کومحض ایک مادی شئے سمجھا جاتا تھا۔

اسلام عورت کو معاشی طور پر مرد کا محتاج نہیں بناتا، بلکہ اُسے اپنی جائیداد کی مالکہ بننے کا پورا حق دیتا ہے۔ سو، آج کے دَور میں اگر ہمیں ایک مستحکم اور ترقی یافتہ پاکستان دیکھنا ہے، تو ہمیں اسلامی اصولوں کے عین مطابق خواتین کو تعلیم اور ترقی کے محفوظ مواقع فراہم کرنے ہوں گے۔