• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جب ٹرمپ کو ترکیہ میں کیٹرنگ ٹرک پر سفر کرنا پڑا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ نیٹو سربراہی اجلاس میں قطر کی جانب سے بطور تحفہ دیے گئے طیارے سے سفر کیا، تاہم واپسی پر ترکیہ سے ایک خفیہ فوجی پرواز کے ذریعے سفر کیا، جس کے بعد نئے طیارے کی سیکیورٹی کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے۔

واشنگٹن پوسٹ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ مبینہ ایرانی قاتلانہ حملے کی دھمکی کے پیشِ نظر امریکی صدر نے خفیہ طور پر ایک متبادل فوجی طیارے کے ذریعے روانگی اختیار کی، جبکہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ کہا جاتا رہا کہ وہ ایئر فورس ون میں سوار ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نیٹو سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے انقرہ میں موجود تھے، واپسی پر وہ ابتداء میں کیمروں کی موجودگی میں پرانے ماڈل کے ایئر فورس ون میں سوار ہوئے، بعد ازاں انہیں ایئر پورٹ کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے امریکی فضائیہ کے C-32A طیارے میں منتقل کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق C-32A برطانیہ روانہ ہوا اور تقریباً رات 10 بج کر 20 منٹ پر وہاں پہنچا، پرانا ایئر فورس ون اور میڈیا کو لے جانے والا طیارہ بھی چند منٹ بعد وہاں پہنچ گیا، اس سفر کے دوران ایئر فورس ون کو بطور ڈیکائے یعنی دھوکا یا چکمہ دینے کے لیے استعمال کیا گیا۔

واشنگٹن پوسٹ نے ایک امریکی عہدیدار اور اخبار کی جانب سے جائزہ لیے گئے دیگر مواد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایئرفورس ون میں صحافیوں کو کھڑکیوں کے شیڈ گرائے رکھنے کی ہدایت کی گئی تھی، صحافیوں اور وائٹ ہاؤس کے بعض اہلکاروں کو یہ یقین تھا کہ ٹرمپ ایئر فورس ون ہی میں موجود ہیں، جبکہ ان کا اصل مقام کئی گھنٹوں تک خفیہ رکھا گیا۔

امریکی اخبار کے مطابق یہ واضح نہیں کہ برطانیہ میں ٹرمپ کو واپس ایئر فورس ون طیارے میں کیسے پہنچایا گیا، تاہم خفیہ واپسی آپریشن صدر ٹرمپ کو لاحق سنجیدہ خطرے کی وجہ سے کیا گیا۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ میں انقرہ سے برطانیہ کے RAF Mildenhall تک سفر کے لیے پرانا ہلکے نیلے رنگ کا ایئر فورس ون طیارہ پرانے وقتوں کی یاد میں استعمال کروں گا، جبکہ نیا طیارہ بھی اسی اڈے پر رکے گا تاکہ وہاں تعینات امریکی فوجی اہلکار اس کا دورہ کر سکیں۔

خفیہ طور پر تیسرے طیارے کے ذریعے سفر کیے جانے کی خبر پر تبصرے کے لیے وائٹ ہاؤس سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے جواب میں کمیونیکیشنز ڈائریکٹر اسٹیو چیونگ کا ایک بیان فراہم کیا۔

اسٹیو چیونگ نے کہا کہ قطر کی جانب سے عطیہ کیے گئے طیارے میں اعلیٰ سطح کے سیکیورٹی پروٹوکول نصب کیے گئے ہیں، جو صدر اور ان کے عملے کی حفاظت کو یقینی بناتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جیسا کہ صدر ٹرمپ نے حال ہی میں کہا ہے، امریکا کے بہت سے دشمن ہیں جن کی نظریں مجھ پر لگی ہوئی ہیں اور ہم ان خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنے تمام دستیاب ذرائع استعمال کرتے ہیں۔

امریکی اخبار کے مطابق پینٹاگون نے امریکی اخبار کی خبر پر فوری کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

اس سے قبل سال 2000ء میں بل کلنٹن کے دورہ پاکستان کے لیے بھی خفیہ پرواز استعمال کی گئی تھی۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید