بہت عرصہ کے بعد تین مسلم سربراہوں کی ایک تصویر ہے، یہ تصویری فائل ایک خاتون اٹھا کر لاتی ہے ان تین خواتین کےعلاوہ کوئی اور خاتون نظر نہیں آئیں، ہاں ایک صدر صاحب کی بیگم بھی تھیں، باقی شہباز شریف نے تو 15برس سے پڑھی لکھی اور میری دیکھی ہوئی شائستہ خاتون کو پتا نہیں سات پردوں میں رکھا ہوا ہے ۔ ممکن ہے خاتون کا اپنا فیصلہ ہو جب کلثوم وزیر اعلیٰ کی بیگم بنی تھیں انہیں ابا جی نے حکم دیا تھا کہ کسی بھی تقریب میں مت جانا ۔ابا جی نے تو ٹی وی آرٹسٹوں کو دوپٹہ اوڑھ کر ایکٹنگ کرنے کی اجازت دی تھی ۔اب ابا جی کی پوتی اپنے باپ کی جگہ وزیر اعلیٰ پنجاب بن کر بہت کام کررہی ہے(ممکن ہو میں غلط ہوں)۔
بہر حال سعودی حکومت میں عورتوں کا نظر آنا ،گھر میں اور دفتروں میں کام کرنا شاید تہذیبی ضرورت سمجھی جائے۔ پاکستان سمیت کئی ملکوں کی خواتین ہوائی جہاز اڑاتی ہیں اور بہت سے شہروں میں ایس پی ، ڈی ایس پی اور ڈی سی لگی ہوئی ہیں ہر چند پرانے لوگ یا وہ گوئی سے باز نہیں آتے مگر اب تو ہماری خواتین کوہ پیمائی میں بھی نام کما رہی ہیں ۔
روز اخباروں میں ’’ہنر مند بنئے‘‘ کےاشتہار نظر آتے ہیں مگر اس میں یہ نہیں لکھا ہوتا کہ اس مقابلےمیں خواتین بلکہ طالبات بھی شامل ہوسکتی ہیں یہ ضروری وضاحت سب اداروں کو کرنی چاہئے، رہا ترکی کی حکومت کا مسئلہ توالزام لگایا جاتا ہے کہ آمریت کی طرح ملک کو طویل عرصےسے چلایا جا رہا ہے لیکن بغاوت اس کے خلاف بھی ہوئی۔ مگر سارے آمر اپنے طور پر ملک کو ہموار رکھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان کی مثال سب نے پڑھی، لکھی اور عالمی سطح پر بھی تین سال سے بے معنی قیدپر ڈیڑھ ہزار لوگ مع بانی تحریک انصاف، ساری دنیا کے ادارے شور مچا رہے ہیں ۔ ویسے تو برما کی حکمران بھی قید میں رہی ہے، جنوبی امریکہ میں جس خاتون کو امن کا نوبل انعام دیا گیا اور ابھی ایرانی حکومت نےاس خاتون کو آزاد نہیںکیاجسےنوبل انعام ملا تھا،ایک خصوصی چینل بھی ہے جہاں ایرانی خواتین کو گفتگو کرتے ہوئے دکھاتے ہیں ۔
ان دنوں بازار میں عراقی ، ایرانی اور میکسیکن شاعرات کا کلام کہیں کہیں نظر آتا ہے زیادہ تر پرانی کتابوں والی دکان پر نظر آتاہے فلسطینیوں میں مردوں اور عورتوں کا کلام کھلے لفظوں میں نظر آتا ہے کہ وہ کون کون سی اذیتیوں سے گزرے ہیں اور اب تک گزر رہے ہیں۔ غزہ کےعلاقے میں بھی اسرائیلی جان بوجھ کر خیموں میں چھپے بیٹھے بچوں اور عورتوں کو نشانہ بنا کر خوش ہوتےہیں ۔
پاکستان میں آج کل بجٹ کے ساتھ ساتھ آبادی کی تفصیلات بھی بتائی جارہی ہیں دنیا کے 17ملکوں کے مقابلےمیں صرف صوبہ بلوچستان دکھا کر تمام سائنسدان اور ماہرین معیشت شرمندہ کرتے ہیں۔ اس وقت کئی ملکوں میں 40سے 50سال کی عمر کے درمیان کےمرد کثیر تعداد میںاسپتال جاکر نس بندی کروا رہے ہیں کہ ساری دنیا میں مہنگائی اتنی بڑھ گئی ہے کہ بیشتر لوگ دو بچوں کے بعد مزید اولاد نہیں چاہتے اور مرد حضرات خود اس طریقے کی طرف مائل ہیں۔ ہمارے ملک کے مفتی تقی عثمانی جیسے پڑھے لکھے دانشوروں کو اس مسئلے پر آگے آنا پڑے گا۔ کیونکہ پاکستان کی آبادی ساری دنیا میں تعداد میں سینکڑوں، ہزاروں کی مد سے نکل کر ایسے مقام پر آپہنچی ہے کہ اگر آبادی پر قابو نہیں پایا گیا تو نتائج اچھے نہیں نکلیں گے، 1960ءسے صرف عورتوں کے ذریعے آبادی کنٹرول کی مہم چلائی گئی جگہ جگہ اشتہار اب لگانے کا فائدہ نہیں ہے۔ بہتر یہ ہوگا کہ سارے معزز مذہبی رہنما، سنجیدہ سیاستدان اور ماہرین معیشت کو بٹھا کر اس طوفانِ آبادی کو قابو میںکرنے کیلئے مل کر کچھ سوچیں۔
مجھے یاد آتا ہے میرےایک جاپانی دوست کی شادی کو 12برس ہوگئے ہیں، وہ کہتا ہے ابھی میں بچے پالنے کی معاشی پوزیشن میں نہیں ہوں ہمارے پاکستان میں اور پاکستان سے باہر لوگوں کی سوچ یہی ہے کہ دو بچے ایک خاندان بنانے کو کافی ہوتے ہیں اس سوال پر عورتوں کی بہت ورکشاپس ہوچکی ہیں اور بہت نہیں تو کم از کم 5فیصد عورتوں نے باقاعدہ عمل بھی کیا ہے۔
مگر حالات مملکت ، زرعی پیداوار ، ہر گھر کی آمدنی منہ سے نہیں بولتی مگر بہت فکر مند ہیں، اب ارسطو ، ابن خلدون یا کسی ایسے عالم کو سنجیدگی سے اور ہمارے بزرگ اکٹھےہوکر اپنے اپنے حلقے میں30سے 40سال کے نوجوانوں کو اکٹھا کریںکہ موجودہ بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لئے لائحہ عمل بنانا ہی ہوگا۔ اس میں کوئی فحاشی والی بات نہیں ہے۔ میرے بیٹے نے اسپین کی معاشی حالت کا ذکر کرتے ہوئے اچانک مجھ سے پوچھا آپ اور ڈیڈی نے پہلے ہی دو بچوں کا فیصلہ کیا تھا۔ میں نے کہا ہم دو کمانے والےسارے خاندان کا خرچہ نہیں اٹھاسکتے تھے۔