• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان 14اگست 1947ءکو ایک ایسے خطے میں آزاد ہوا جہاں جغرافیہ کبھی سیاست سے الگ نہیں رہا۔ مشرق میں بھارت، مغرب میں افغانستان اور ایران، شمال میں چین اور جنوب میں بحیرہ عرب۔ یہ محل وقوع پاکستان کیلئے ایک طرف دفاعی اور معاشی امکانات پیدا کرتا ہے تو دوسری طرف اسے مسلسل علاقائی کشیدگی، جنگوں، سرحدی تنازعات اور عالمی طاقتوں کی رقابت کے بیچ کھڑا رکھتا ہے۔ آزادی کے بعد پاکستان نے کئی جنگیں دیکھیں، فوجی اور سیاسی ادوار سے گزرا دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ لڑی اور افغانستان، کشمیر، ایران، خلیج اور امریکا سے متعلق پیچیدہ سفارتی معاملات کا سامنا کیا۔ 14اگست 2026ءکو جب پاکستان اپنے قیام کے 79برس مکمل کریگا تو عالمی سیاست بھی ایک نئے موڑ پر کھڑی ہوگی۔ طاقت کا پرانا یک قطبی نظام کمزور ہو رہا ہے علاقائی اتحاد اہمیت اختیار کر رہے ہیں اور دفاعی شراکت داری اب صرف فوجی ضرورت نہیں بلکہ معاشی اور جغرافیائی سیاست کا حصہ بن چکی ہے۔

اسی بدلتی ہوئی دنیا میں 7اگست 2026ء کو مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پایا۔ معاہدے کے بنیادی تصور کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصور ہوگا۔ پاکستان اور ترکیہ نے واضح کیا ہے کہ اس معاہدے کا مقصد اجتماعی دفاع اور جارحیت کیخلاف بازداریت مضبوط کرنا ہے نہ کہ کسی مخصوص ملک کیخلاف محاذ بنانا۔ اس معاہدے کو بعض مبصرین مسلم نیٹو کے عنوان سے دیکھ رہے ہیں مگر نیٹو ایک طویل ادارہ جاتی عسکری اور کمانڈ ڈھانچے پر قائم اتحاد ہے جبکہ مکہ معاہدے کی مشترکہ کمانڈ، فوجی ردعمل، انٹیلی جنس تعاون، دفاعی بجٹ اور رکنیت کے دائرے ابھی واضح ہونا باقی ہیں۔ اس لئے فی الحال اسے تین اہم مسلم ممالک کے درمیان اجتماعی دفاع کا ایک نیا فریم ورک کہنا زیادہ درست ہوگا۔

پاکستان کے لیے اس معاہدے کی اہمیت کئی سطحوں پر ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تاریخی دفاعی، مذہبی، معاشی اور عوامی روابط پہلے سے موجود ہیں۔ ترکیہ کیساتھ بھی دفاعی صنعت، تربیت، بحری تعاون اور تزویراتی شراکت داری کا سلسلہ جاری ہے۔ اب یہ معاہدہ ان الگ الگ روابط کو ایک زیادہ منظم علاقائی سلامتی کے فریم ورک میں بدلنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ پاکستان کے لئے دفاعی پیداوار، ٹیکنالوجی، مشترکہ مشقوں، تربیت اور انٹیلی جنس تعاون کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

سعودی عرب کیلئے یہ معاہدہ اپنی دفاعی شراکت داری کو متنوع بنانے کا موقع ہے۔ ترکیہ جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعت کے میدان میں اہم طاقت بن رہا ہے جبکہ پاکستان کے پاس طویل فوجی تجربہ، دفاعی تربیت اور ایک جوہری ریاست کا تزویراتی وزن ہے۔ ترکیہ کے لئے سعودی عرب کی معاشی قوت اور پاکستان کی عسکری صلاحیت ایک وسیع علاقائی شراکت داری کی بنیاد بن سکتی ہے۔ یوں مکہ معاہدہ صرف فوجی دستوں یا ہتھیاروں کا معاملہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے سرمایہ کاری، دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی، توانائی اور جغرافیائی رابطہ کاری بھی شامل ہیں۔تاہم اس معاہدے کا ایک حساس پہلو ایران ہے۔ ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے اور دونوں کے درمیان طویل سرحد، تجارت، مذہبی و ثقافتی روابط، توانائی اور سلامتی کے معاملات موجود ہیں۔ اسی لئے پاکستان کیلئے ضروری ہوگا کہ وہ ایران کو یہ یقین دلائے کہ یہ معاہدہ کسی ملک کو ہدف بنانے کیلئے نہیں بلکہ اجتماعی دفاع کیلئے ہے۔ اسی نازک مرحلے پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کردار اہم ہو جاتا ہے۔ ایرانی قیادت کیساتھ ان کے حالیہ رابطوں میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف بھی واضح کیا گیا۔ موجودہ علاقائی کشیدگی میں انہیں پیغام رسانی اور سفارتی رابطے کے لئے منتخب کرنا ایک عملی فیصلہ دکھائی دیتا ہے۔ اس سفارت کاری کا بنیادی مقصد کسی فریق کی وکالت نہیں بلکہ غلط فہمیوں کو کم کرنا، رابطے کا راستہ کھلا رکھنا اور خطے میں امن کی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔ یہ پہلو اس لیے بھی اہم ہے کہ داخلی سلامتی اور خارجہ پالیسی اب ایک دوسرے سے جدا نہیں رہیں۔ ایران یا خلیج میں جنگ ہو تو اسکے اثرات پاکستان کی سرحد، تجارت، توانائی، مہاجرین، اسمگلنگ اور داخلی امن تک پہنچتے ہیں۔ اس معاہدے کا اصل امتحان اب شروع ہوگا۔ کیا تینوں ممالک مشترکہ فوجی مشقیں کریں گے؟ کیا مستقل رابطہ کاری مرکز قائم ہوگا؟ حملے کی صورت میں فیصلہ کس طریقے سے ہوگا؟ انٹیلی جنس اور دفاعی ٹیکنالوجی کا تبادلہ کس سطح پر ہوگا؟ کیا دوسرے مسلم ممالک بھی اس فریم ورک میں شامل ہوں گے؟ اگر ان سوالات کے جواب واضح نہ ہوئے تو مکہ معاہدہ ایک علامتی دستاویز بن کر رہ سکتا ہے۔ لیکن اگر اس کے لئے مستقل ادارہ جاتی نظام بنایا گیا تو یہ خلیج، بحیرہ احمر، بحیرہ عرب اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک مؤثر سلامتی کا پلیٹ فارم بن سکتا ہے۔ پاکستان کو اس معاہدے سے جذباتی نعرہ نہیں بلکہ متوازن قومی حکمت عملی بنانی چاہئے۔ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات، ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعاون، ایران کے ساتھ ہمسائیگی، امریکا کے ساتھ سفارتی رابطے اور بھارت کے ساتھ علاقائی کشیدگی، ان سب کو ایک ہی وقت میں سنبھالنا ہوگا۔ پاکستان کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ کس بلاک میں شامل ہوتا ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ کسی بلاک کا محض حصہ بننے کے بجائے امن، دفاع اور سفارت کاری کے درمیان اپنا آزاد کردار کیسے برقرار رکھتا ہے۔مکہ معاہدہ پاکستان کیلئے ایک بڑا موقع ہے مگر اس کیساتھ ایک بڑا امتحان بھی۔ اگر اسلام آباد دفاعی تعاون کو سفارتی توازن کے ساتھ آگے بڑھاتا ہے تو پاکستان خطے میں صرف ردعمل دینے والی ریاست نہیں رہے گا بلکہ علاقائی امن، سلامتی اور مذاکرات کی سمت متعین کرنے والی قوت بن سکتا ہے۔

تازہ ترین