نیدرلینڈ کا شہر ’’دی ہیگ‘‘ دنیا بھر میں امن، انصاف، بین الاقوامی قانون اور عالمی سفارتکاری کے مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں ہونیوالے اجلاس میں دنیا کے مختلف ممالک کے منتخب پارلیمانی نمائندے عالمی مسائل پر اپنی رائے دیتے ہیں جس کو بین الاقوامی سطح پر نہایت اہمیت دی جاتی ہے۔ حال ہی میں 7اگست کو سینیٹ آف ہیگ (Eerste Kamer) میں عالمی پارلیمنٹرینز کا ایک اہم اجلاس پارلیمنٹرین فار گلوبل ایکشن (PGA) کے سابق ڈائریکٹر Boris Dittrich نے منعقد کیا جس میں دنیا کے مختلف ممالک کے 80پارلیمنٹرینز نے شرکت کی جبکہ قومی اسمبلی کے رکن نوید قمر اور میں نے PGA کی طرف سے پاکستان کی نمائندگی کی۔ PGA پارلیمنٹرینز کا ایک عالمی نیٹ ورک ہے جو بین الاقوامی انصاف، قانون کی حکمرانی، آزادی اظہار رائے، کیمیائی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام، پھانسی کی سزا اور انسانی حقوق پر عالمی سطح پر آواز اٹھاتا ہے۔ پارلیمنٹرین فار گلوبل ایکشن (PGA) میں دنیا کے150ممالک کے 1000سے زائد پارلیمنٹرین ممبرز ہیں۔ میرے لئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ میں اس عالمی تنظیم میں پاکستان کی نمائندگی کررہا ہوں اور گزشتہ سال PGA کا بورڈ آف ڈائریکٹر منتخب ہوا ہوں جبکہ تنظیم کے موجودہ صدر میرے دوست رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر ہیں۔ اجلاس سے ایک روز قبل ہیگ میں عالمی عدالت انصاف جو شہر کے وسط میں واقع خوبصورت عمارت ’’امن محل‘‘ میں قائم ہے، اقوام متحدہ کے مرکزی عدالتی نظام کا حصہ ہے۔ عالمی عدالت انصاف کا قیام پہلی جنگ عظیم کے بعد 1946ء میں عمل میں آیا جس کا مقصد ریاستوں کے مابین قانونی تصفیہ کرنا اور عالمی اداروں اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے دائر کردہ قانونی و تکنیکی معاملات پر انصاف فراہم کرنا ہے۔ عالمی عدالت انصاف کے ججوں کا انتخاب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کے تحت عمل میں آتا ہے جن میں سلامتی کونسل کے مستقل رکن ممالک کے ججز کے علاوہ دنیا کے دیگر ممالک کے ججز بھی شامل کئے جاتے ہیں اور انکی مدت ملازمت 9سال ہوتی ہے۔ عالمی عدالت انصاف میں پاکستان سے ابھی کوئی مستقل جج تعینات نہیں ہوا لیکن پاکستان کیلئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی عالمی عدالت انصاف میں ایڈہاک جج کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں تاہم 1970-73 تک پاکستان کے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان عالمی عدالت انصاف کے صدر کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔ ہیگ میں طویل عرصے سے مقیم پاکستانی نژاد شاہین سید جو عالمی عدالت انصاف سے منسلک رہے ہیں، نے ہمارے اعزاز میں دیئے گئے عشایئے کے بعد ہمیں اپنے بیٹے کیساتھ ہیگ کا دورہ کرایا۔اجلاس میں عالمی عدالت انصاف کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عالمی عدالت انصاف پر پابندیاں لگائے جانے پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔ ان پابندیوں میں عالمی عدالت انصاف کے اثاثے منجمد کرنا اور مالی و سفری پابندیاں شامل ہیں۔ یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری2025ءمیں اقتدار سنبھالتے ہی اپنے ایگزیکٹو آرڈر نمبر 14203میں قرار دیا تھا کہ عالمی عدالت انصاف کو امریکی اور اسرائیلی شہریوں یا متعلقہ اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں کیونکہ امریکہ اور اسرائیل عالمی عدالت انصاف کے Rome Statute کے فریق نہیں لیکن جون 2026ءمیں عالمی عدالت کے 3سینئر ججوں نے امریکی پابندیوں کو غیر قانونی اور عدالتی آزادی پر ناجائز دباؤ قرار دیا اور کہا کہ طاقتور ممالک اگر بین الاقوامی عدالتوں کے ججوں پر پابندیاں عائد کریں گے تو عالمی قانون کی بالادستی اور عدالتی آزادی کا تحفظ کیسے ممکن ہو گا۔ اس اہم میٹنگ میں میرے دریافت کرنے پر عالمی عدالت کے سینئر اہلکار نے بتایا کہ امریکہ کی جانب سے عالمی عدالت کی کوئی مالی معاونت نہیں کی جاتی کیونکہ امریکہ اور اسرائیل عالمی عدالت کے رکن نہیں۔
ہیگ میں پاکستان کے سفیر سید حیدر شاہ اور ان کی اہلیہ نے نوید قمر اور میرے اعزاز میں اپنی رہائش گاہ پر عشایئے کا اہتمام کیا۔ پاکستانی سفیر کی رہائش گاہ ’’پاکستان ہاؤس‘‘ ایک تاریخی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ عمارت پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت خان علی خان کی اہلیہ رعنا لیاقت علی خان ، جو 1954-61 کے دوران نیدرلینڈ میں پاکستان کی سفیر تھیں، نے حکومت پاکستان کو عطیہ کی تھی۔ عشایئے میں پاکستانی سفارتخانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن اور کمرشل قونصلر کے علاوہ ہیگ میں مقیم ممتاز پاکستانی بزنس مین شہریار خان اور ان کی اہلیہ سے بھی ملاقات ہوئی۔ میں کالم کے آخر میںہیگ میں مقیم معروف پاکستانی ڈاکٹر محمد کامران کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو ایمسٹرڈیم سے خصوصی طور پر ہم سے ملاقات کیلئے ہیگ آئے اور ایمسٹرڈیم کی 400سالہ پرانی ڈچ ونڈ مل (ہوائی چکیوں) کا دورہ کرایا جو آج بھی نیدرلینڈ ریلوے کو بجلی فراہم کرتی ہیں۔ نیدرلینڈ کے بارے میں مزید تفصیلات ان شاء اللہ اپنے آئندہ کالم میں تحریر کروں گا۔