15 اگست کادن عجیب تھا۔ یاد کریں 15؍ اگست 2021ء کو طالبان نے کابل پر حملہ کیا اور قابض ہوگئے تھےوہ آج آمریت کی پانچویں سالگرہ منارہے تھے۔ میں حیران، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے وحشیانہ طریقے پر صدر کا محل قابو کیا بہت سوں نے سوئمنگ پول میں گندے کپڑوں سمیت چھلانگ لگائی اور مت پوچھیں ڈائننگ روم میں کیا بچا کیا کھایا۔وہ منظر بھی یاد کریں جب جہاز پر چڑھنے کیلئے بوڑھوں اور جوانوں نے چھلانگیں لگائیں اور ساتھ ہی تمام اسکول کالج اور یونیورسٹیز بندکر دیں۔
وہ دن اورآج 5؍ سال بعد، خواتین پر ہر طرح کی پابندی ایسی لگائی گئی کہ جوفنکار خواتین تھیں، وہ تنگ آکر برقع اوڑھنے لگیں۔ لڑکیوں نے زمین دوز کمروں میں پڑھنے کی کوشش کی ۔ساری دنیا اور اقوام متحدہ نے ترلے کئے کہ لڑکیوں پر سے پابندیاں ہٹائیں۔ چین نے بھی سیاسی طور پر کوشش کی کہ کسی طرح لڑکیوں کے تعلیمی سال ضائع نہ ہوجائیں۔ پچھلے برس کے آخر میں صرف پانچویں کلاس تک کے اداروں کو تعلیم دینے کی اجازت ملی۔ معلوم نہیں عمل بھی شروع ہواکہ نہیں۔
یہ انوکھا ملک ہے کہ نہ اسکا کوئی عدالتی ادارہ ہے، قانونی شریعت بھی کھل کر کام نہیں کررہی، عالمی سطح پر سوائے ہندوستان کے افغانستان کا کوئی دوست ملک نہیں، ہر چند سی پیک میں شامل ہونے کیلئے چین نے معاہدہ بھی کیا، کام شروع ہواکہ نہیں، سامنے ہے کہ 5؍ سال ہوگئے اور یہ سی پیک منصوبہ ادھورا گھسٹ رہا ہے۔
یوں تو ضیاء الحق (جن کی 17اگست کو برسی تھی) نے خواتین پر بہت پابندیاں لگائیں’ کوڑے اور پھانسیاں‘اس کا شوق تھا کہ مجبوری، عورتوں کودوپٹہ سر پر رکھنے کی پابندی لگائی۔ نصاب سے لیکر ہر چیز تبدیل کردی گئی۔ طالبان کا دوست صرف انڈیا تھا اور اگر ٹرمپ خود غنڈہ گردی نہ کرتا تو طالبان اور انڈیا مل کر ہمسایہ ممالک میں دہشت گردی کیلئےچڑھ دوڑتےجیسے اب تک طالبان، انڈین ایجنٹوں کے ساتھ پاکستان میں دہشت گردی کررہے ہیں۔ تاہم انڈیا اور افغانستان کے تجارتی روابط بھی کچھ زیادہ وسیع نہ ہوسکے۔ ادھر انڈیا نے گزشتہ 8؍ سال سے جو مسلمانوں کے خلاف ستم ڈھائے ہیں اسکے باعث وہ تمام تجارت، باہمی تعلقات اور پاک انڈیا دوستی کی وہ لہر جو پانچ برس تک چلی۔ انڈیا کے وزیراعظم بس میںآئے، ادیبوں اور سیاست دانوں کے علاوہ فلمی اداکار بھی آئے رشتے کافی نارمل ہوگئے۔ مگر کارگل جیسے واقعات سے دونوں ملکوں کے لوگوں کے دل بجھ گئے۔ اب دونوں ملکوں کے درمیان شیطانیت بذریعہ ٹی وی اور کمپیوٹر اتنی زہریلی ہوگئی کہ فلموں سے لیکر سیاسی کارکن تک اس سے آلودہ ہوگئے۔چاہتے ہوئےبھی دونوں ملکوں کے سفارتخانے نہ کھلے ،کتابوں کی تجارت تک پر پابندی لگادی گئی۔ لاہور ریلوے اسٹیشن پر دوستی کی ساری بسیں زنگ میں لپٹی کھڑی ہیں۔بالکل اندازہ نہیں کہ کیا ہماری بڑی ہونے والی نسلیںاس ذہنیت اور جبر کے ماحول میں بڑی ہو کر دہشت گرد بنیں گی کہ ماحول آج خو فناک اور ریوالور ہر جیب میں ہے۔؟ پندرہ پندرہ سال کے بچے شوقیہ گولیاں چلاتے خود کواہمیت دلاتے ہیں جیل جانا یا پھانسی لگنا نہ کوئی ہمت کی بات ہے اور نہ غیرت کی، خاندان کے خاندان اجڑ جاتے ہیں۔ ضروری ہوگیا ہے کہ 15؍ سال سے کم عمر کے جوان کے ہاتھ میں کوئی ہتھیار نہ ہو۔ہماری کوشش والدین کی توجہ ٹی وی یا فلم سے ہٹا کرآپس میں بیٹھ کرڈائیلاگ کرنے پر ہونی چاہئے۔
ضیاء الحق کے زمانے میں بہت لوگ ملک چھوڑ گئے، کچھ حالات بدلے تو وطن واپس آئے۔ بہت سے خاندان ایم کیوایم کے ہاتھوں جیل بغیر کسی گناہ، سزاوار ٹھہرائے جاتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بوری میںبند لاشیں ملنا عام بات تھی۔ میں جب آسٹریلیا گئی تووہاں ڈاکٹروں اور پڑھانے والوں کے قبیلے سے تعلق رکھنے والے سنجیدہ اور ذہنی طور پر متین خاندان تھے جو روز روز کے گھروں پر حملوں ،ڈاکے اور قتل کے واقعات سے تنگ آکر ملک چھوڑ کریہاںآگئے تھے۔
اب یہی دہشت گردی بلوچستان اور کے پی میں عام ہے۔ روز پندرہ، سترہ لوگ جو دہشت گرد بن کر آتے ہیں وہ بھی انڈین ایجنسیوں سے تربیت لے کر پہاڑوںمیں چھپ کر اور کئی نوجوان خودکش حملہ آور بن کرآتے ہیں۔ پاکستان نے ہزار بار ٹوکا اور منع کیا کہ اس طرح بے شمار بیگناہ لوگ بھی مارے جارہے ہیں ایسے واقعات تعلیمی اداروں پراثرانداز ہورہے ہیں۔
17؍اگست کو جناب ضیاء الحق کی برسی صرف ان کی اولاد منارہی تھی۔ ضیاء کے دنوں میں ملک چھوڑ کرجانے والوں میں امین مغل بھی تھا، بہت پڑھا لکھا، یونیورسٹیوں میں جانا اور پڑھنا، اس کا کام رہ گیا تھا کہ پاکستان میں توبے شمار اخبارات میں کام کرتا تھا۔ ضیا کی آمریت سے تنگ آکر لندن میں رلتا رہا، وطن واپس نہیں آیا۔ بہت اداروں نے پڑھانے کیلئے پاکستان آنے کی دعوت دی۔ وہ عباس اطہر نہیں تھا کہ وہ تواخباروں میں خوب کا م کرتا رہا۔ امین مغل کو پاکستان بہت یاد آتا تھا جوادیب لندن جاتے اس سے ملنے ضرور جاتے۔ کھل کر قہقہے لگانے والا اسپتال میں زبردستی لایا گیا وہ ناراض ہوا، ایسا ناراض کہ میت کی صورت وطن واپس آگیا۔