• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سہ فریقی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر سات اگست بروز جمعۃ المبارک حرمین شریفین کے سائے تلے دستخط ہوئے ۔قبل ازیں پاکستان اور سعودیہ کے مابین 17 ستمبر 2025ءکو دفاعی معاہدہ طے پایا تھا جسکے تحت کسی ایک ملک پر جارحیت دونوں ممالک پر حملہ قرار دیا گیا تھا۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ دراصل پاک سعودیہ دو طرفہ معاہدے کی ہی توسیع ہے۔ ترکیہ کی شمولیت کے بعد بھی اس معاہدے کا دروازہ کھلا رکھا گیا ہے۔ لہٰذا قوی امکان ہے کہ مزید ممالک بھی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا حصہ بنیںگے۔ قارئین کرام جب سے یہ معاہدہ طے پایا ہے پاکستانیوں نے بحث مباحثے شروع کر رکھے ہیں۔ ایک گروہ وہ ہے جو اسکے ثمرات بیان کر رہا ہے جبکہ دوسرا گروہ اسے خوش آئند تو کہتا ہے مگر ساتھ ہی اپنے خدشات کا اظہار بھی کر رہا ہے۔ ثمرات کی بات کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ مسلم ممالک کے مابین یہ دفاعی معاہدہ دراصل اقبال کے اس خواب کی تعبیر ہےکہ ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے ۔ انسانی تاریخ میں جو مقام بیسویں صدی کو حاصل ہے وہ کسی اور کو نہیں۔

اس صدی میں پہلی جنگ عظیم لڑی گئی ، سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا پھر نئے ترکی نے جنم لیا ، مشرق وسطیٰ میں تبدیلیاں رونما ہوئیں ، سعودی عرب کا قیام عمل میں آیا ، برطانوی راج کی وسعت اختتام پذیر ہوئی ، برٹش کالونیاں نئی ریاستوں کی شکل میں کرہ ارض پر نمودار ہوئیں جن میں پاکستان اور بھارت بھی شامل ہیں ، دوسری جنگ عظیم بھی بڑے اتحادیوں کے مابین لڑی گئی ، ایٹم بم کا استعمال بھی اسی صدی کا المیہ ہے پھر اقوام متحدہ جیسا ادارہ ، اسرائیلی ریاست کا قیام ، یہی نہیں سرد جنگ اور پھر سوویت یونین کے ٹکڑے بھی اسی صدی میں ہوئے۔ اس سیاسی و جغرافیائی تناظر میں دیکھا جائے تو جہاں مسلمان زوال پذیری سے دوچار تھے وہاں پھر سے ابھرنے کی تگ و دو بھی جاری رہی۔ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور دبئی نے تیل کے بل بوتے پر مضبوط معیشتیں قائم کر لیں۔ ترکیہ نے بھی جدت کا سہارا لیتے ہوئے ترقی کے زینے طے کیے۔ دفاعی نقطہ نظر سے پاکستان سب پر بازی لے گیا۔ اس نے صدی کی آخر میں ایٹمی قوت کا اعلان کر دیا۔البتہ بعض عرب ممالک نے معاشی استحکام کے علاوہ کچھ حاصل نہ کیا۔ بلند و بالا عمارتیں اور سیر و تفریح کیلئے اعلیٰ ہوٹل تو بنا لیے مگر سرحدوں کی حفاظت کیلئے کچھ نہ کیا۔ ترکیہ نے اسلحہ سازی میں قدرے پیش رفت کی مگر ابھی اسے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کا دشمن چونکہ سر پر بیٹھا ہے اسلئے اسکی پہلی اور آخری ترجیح دفاع وطن ہے ۔

خدا کا شکر ہے کہ پاکستان نے نہ صرف ایٹمی قوت حاصل کی بلکہ میزائل ٹیکنالوجی ، اسلحہ سازی کیساتھ ساتھ بری بحری اور فضائی افواج کی تشکیل میں بھی اپنا لوہا منوایا ہے ۔اسی دوران میں اسرائیل نے بھی عالمی طاقت امریکہ کی مدد سے معاشی و دفاعی استحکام بھی حاصل کیا۔ ایران کے حوالے سے کسی کو درست اندازہ نہ تھا تاہم اس نے جس طرح امریکی و اسرائیلی جارحیت کا جرات مندی سے جواب دیا اسے ایک خوش کن سرپرائز کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسرائیل کیلئےاپنے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی جامہ پہنانا آسان نہ ہوگا۔ ہاںایران پر امریکہ و اسرائیل کے اچانک اور خواہ مخواہ حملے نے دوسرے مسلم ممالک کو بھی چوکنا کر دیا ہے۔ لہٰذا مکہ دفاعی معاہدہ وقت کی ضرورت قرار دیا جا رہا ہے ۔

عوام الناس کا دوسرا گروہ خدشات کا اظہار کر رہا ہے اس کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل جب ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کر سکے تو امریکہ نے اپنی مخصوص چالبازیوں سے مسلم ممالک کے ذریعے ایران کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ جس دن دستخط ہوئے اسی دن کہہ دیا گیا تھاکہ یہ کوئی فرقہ ورانہ معاہدہ نہیں ۔ابھی یہ مخمصہ جاری تھا کہ امریکہ نے ایک نئی اصطلاح متعارف کرا دی ۔ بلومبرگ کے مطابق ’’مکہ دفاعی معاہدہ ’’سنی نیٹو‘‘ نہیں مگر اہم شروعات ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہے تو پھر سنی نیٹو کی نئی اصطلاح متعارف کرانے کی کیا ضرورت ہے؟ ۔سنی نیٹو... کہنے کو ایک نام، دو لفظ یا ایک اصطلاح ہے مگر یہ بہت ہی دور رس نتائج کی حامل ہے کہ ذہن سازی اسی طرح کی جاتی ہے۔ پھر معاہدے پر امریکہ کا بغلیں بجانا بھی خدشہ ظاہر کرنے والے گروہ کیلئے اس نتیجے پر پہنچنا آسان بنا دیتا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ کل کلاں مسلمان ممالک کے آپس میں لڑنے کا باعث بن سکتا ہے ۔حالیہ مہینوں میں ایران نے سعودی ایئرپورٹس اور دوسرے امریکی اڈوں پر حملے کیے ہیں مگر سعودی عرب نے مصلحتاً جواب نہیں دیا۔ مستقبل میں اگر ایران کی طرف سے یا کسی اور جانب سے ارادتاً یا شرارتا سعودی سرزمین پر کوئی میزائل آ گِرا تومعاملات الجھ سکتے ہیں لہٰذا مکہ دفاعی معاہدہ جہاں مسلم ممالک کے مابین اجتماعی طاقت و یگانگت کی علامت ہے وہاں تمام فریقین کو محتاط رہنے کی بھی ضرورت ہے۔

تازہ ترین