• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں3 کروڑ افراد گردوں کے امراض میں مبتلا، سالانہ 30 ہزار سے زائد اموات

لاہور ( جنرل رپورٹر )ماہرین امراضِ گردہ نے خبردار کیا ہے کہ ذیابیطس، بلند فشارِ خون، گردوں کی پتھری، جینیاتی بیماریوں اور ازخود ادویات کے استعمال کے باعث پاکستان میں گردوں کے امراض تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ملک کی تقریباً 12 فیصد آبادی، یعنی لگ بھگ 3 کروڑ افراد گردوں کی کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا ہیں جبکہ سالانہ 30 ہزار سے زائد افراد ان امراض کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔پاکستان سوسائٹی آف نیفرولوجی کے نائب صدر پروفیسر ڈاکٹر علی ثقلین حیدر نے کہا کہ گردوں کی بیماری اکثر طویل عرصے تک خاموش رہتی ہے اور مریض کو اس وقت علم ہوتا ہے جب گردوں کو خاصا نقصان پہنچ چکا ہوتا ہے۔ ذیابیطس اور بلند فشارِ خون گردوں کے امراض کی بڑی وجوہات ہیں، جبکہ پتھری، اندرونی اور جینیاتی بیماریاں بھی گردے ناکارہ ہونے کا سبب بن سکتی ہیں۔انہوں نے ازخود ادویات کے استعمال کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ غیرضروری اور مسلسل دواؤں کا استعمال گردوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ذیابیطس اور بلڈ پریشر کو کنٹرول رکھنے کے ساتھ بروقت اسکریننگ انتہائی ضروری ہے