• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پمز اسپتال کے کسی ڈاکٹر کو کچھ نہیں ہوا، صرف بچے جلنے تھے، جاں بحق بچے کی ماں کی دہائی

پمز اسپتال آتشزدگی میں جاں بحق بچے کی والدہ نے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ کسی ڈاکٹر کو کچھ نہیں ہوا، صرف بچے جلنے تھے۔

پمز اسپتال کے گائنی وارڈ میں جھلس کر جاں بحق 15 نومولود کے والدین غم سے نڈھال ہیں، والدین نے بچوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرنے اور اسپتال انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا۔

پمز اسپتال میں آگ لگنے سے 15 نوزائیدہ بچوں کے جاں بحق ہونے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی سیکریٹری صحت اسلم غوری کو معطل کردیا۔ 

سیکریٹری ہاؤسنگ محمد محمود کو سیکریٹری صحت کا اضافی چارج دے دیا۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ وہ اس واقعے پر سب سے پہلے خود کو احتساب کے لیے پیش کرتے ہیں۔ 

صحافی کے سوال پر کہ کیا آپ مستعفی ہو رہے ہیں؟ مصطفیٰ کمال نے جواب دیا کہ وزیراعظم ان کے باس ہیں، وزیراعظم نے انہیں کچھ باتیں کرنے سے روکا ہے۔ پہلے وزیراعظم سے بات کرلیں، پھر کچھ کہیں گے۔

واقعے کے ذمے داروں کے تعین کیلئے وزیراعظم نے سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی بنادی ہے۔

اسی دوران پمز انتظامیہ کی ابتدائی رپورٹ سامنے آئی ہے جس کے مطابق بچوں کی انتہائی نگہداشت میں نصب انکیوبیٹر کے ساتھ آکسیجن کی مقدار بتانے والے آلے میں چھوٹا دھماکا ہوا۔ چنگاری کے باعث آکسیجن نے آگ پکڑلی۔

والدین اور عینی شاہدین نے نرسری میں طبی عملے کی غیر موجودگی کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ دروازے بھی بند تھے۔ انہوں نے ریسکیو اداروں پر دیر سے پہنچنے کا الزام بھی لگایا۔

سی ڈی اے کے فائر ڈپارٹمنٹ نے رپورٹ دی ہے کہ پمز میں آگ سے بچاؤ اور انسانی جانوں کے تحفظ کے انتظامات ناکافی تھے۔ یہ بھی کہا کہ ہنگامی اخراج کے راستے باہر سے مستقل طور پر بند تھے۔

قومی خبریں سے مزید