• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صالحہ عابد حسین اورانکی ہم عصر جب عورت کا کردار لکھتی تھیں، تو ایک لفظ’’ جنم جلی‘‘ بھی استعمال کرتی تھیں، عورتوں کے کردار پہ عیب لگانا، ساس کا ہر وقت بہو کوذلیل کرنا، ایسے القابات دیے جاتے کہ گھر کی بہو خون کے گھونٹ پی کر ، چپ رہتی تھی، ورنہ شام کو شوہر کے سامنے جو کچھ اول فول ہوتا۔ کوئی کوئی مرد تو سمجھدار کردار کے لکھے جاتے مگر بیشتر الزام بیوی پرہی پتھر بنا بنا کے مارنے والوں میں کبھی جیٹھ، کبھی سسر اور کبھی ساس شامل ہوتے۔ یہ باتیں پڑھ کر آپ لوگ کہیں گےکشور ناہید پرانے کردارپھر رائج کررہی ہیں۔ حنا جاوید کا قتل یا کسی ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنا کہ اس نے میرے ساتھ شادی سے انکار کیا، ایسی جرات کون سی مردانگی دکھلاتی ہے ۔

غیرت کے نام پر کبھی دفتر میں کام کرتی بیوی کو، دوسرے مردوں سے بات کرتے اور ہنستے دیکھ کر انکی مردانگی کو پتنگے لگ جاتے ہیں۔ یہ کوئی نئی نفسیات نہیں۔ جرمنی سے بیٹی کو واپس بلاکر خود باپ اور بھائی نے غیرت کے نام پر قتل کردیا، وہ چاہے کتنی مشکل سے نوکری کرتی ہے، یہ تو ہمارا سماج قابل توجہ ہی نہیں سمجھتا۔ کوئٹہ میں لڑکی کی ماں سارے مجمع میں آکر کہتی ہے"میری بیٹی نے اپنی مرضی کی۔

آپ لوگوں کو کیوں آگ لگی ہوئی ہے"۔ ایسی محبت کم ہی دیکھی جاتی ہے۔ ہمارے ملک میں تو تین سال کی لڑکی کو نہیں چھوڑتے۔ ایک طرف لڑکے، لڑکیوں کو نہیں جینے دیتے، بچوں کو مار کے مسجد کی چھت پہ پھینک دیتے ہیں اب تو شیری رحمان، مریم نواز اور ہماری نوجوان بچی آصفہ جس کو صدر صاحب نےخاتون اول کہا تو اسمبلی میں مردوں کے منہ بند ہوگئے مگر پٹھان خاص کر طالبان، گزشتہ پانچ سال سے عورتوں اور بچیوں کو پڑھنے بھی نہیں دے رہے ہیں۔ ثنا یوسف، گل ضیا، تسلیم خاتون، ایمن سولنگی، یہ سب ان دنوں میں ماری گئی ہیں۔

ایک ظلم ہی کیا، لڑکیوں کی کم عمری میں شادی کودرست سمجھتے ہیں۔ بلکہ عورت مارچ کرنے والی ہماری نوجوان بچیوں پر ڈنڈے برساتے ہیں اور پولیس کھڑی دیکھ رہی ہوتی ہے ۔ اب تازہ تنازع کہ صوبے چار اور آبادی 25کروڑ۔ 80سال بعد وزیر داخلہ نے کیا پھلجھڑی چھوڑی ہے۔کہا گیا پہلے سرائیکی، ہزارہ صوبہ، بہاولپور اور بلوچستان کے 3صوبے بنائیںکہ بہت سے لوگ شناختی کارڈ کی کاپیاں بناکر قاصدوں کو دے رہے ہیں کہ میرا تو صوبہ پیدائشی ہے۔ میں نے یوٹیوب پر انڈیا میں صوبوں کی تقسیم کا پڑھاکہ پنڈت نہرو نے پنجاب کے تین صوبے بنادیے تھے۔

یہ کام وقتاً فوقتاً ہر ملک میں ہوتا رہتا ہے۔ روہنگیا کے لوگ برما کے لوگ اور بنگلہ دیش میں بہاری ضد میں50برس سے کہہ رہے ہیں کہ ہم تو پاکستانی ہیں۔بہاریوں کی ضد پہ دونوں ملکوں نے آنکھیں اس لئے بند کی ہیں کہ پہلے ہی25کروڑ لوگوں کیلئے روٹی نہیں ہے۔ ہمارے وزیر اعظم نے آدھی دنیا کے ملک دیکھ لئے ہیں۔ اسی طرح دوسرے ملکوں کے سربراہوں کیلئے ریڈ کارپٹ بھی بچھائے ہیں ۔ان تین برسوں میں ایک دھیلے کی آمدنی نہیں ہوئی۔ بس ایک کام خوب چلا ہے وہ دانش اسکول،دانش یونیورسٹی اور یہ کوئی سمجھائے کہ کئی لوگ تو یونیورسٹی بنانے کی تیاری کررہےہیں مگر غریب عوام شفا اسپتال کے سارے راستے میں پھول گراتے، اسکا انتظار کرتے رہے،جسے آنے نہیں دیا گیا۔ زندہ باد پمز کے ڈاکٹرز کہ جنکی مشینیں کئی سال سے خراب ہوئی پڑی ہیں۔

اسوقت سب سے اہم سوال یہ ہے کہ روز کسی نہ کسی شہر،دیہات میں ایک دولڑکیوں کو غیرت کے نام پر ماردیا جاتا ہے حکومت نے بہت سے ادارے خواتین کے نام پر کھول رکھےہیں۔ انکی عملداری میں یہ جنم جلی وارداتیں بڑھتی ہی جارہی ہیں۔یہاں افتخار عارف کہتا ہےکہ

بیٹیاں باپ کی آنکھوں میں چھپے خواب کو پہچانتی ہیں

اور کوئی دوسرا اس خواب کو پڑھ لے تو برا مانتی ہیں

ایک تجربہ رہ گیا ہے جو مشرف صاحب نے کیا کہ بلدیاتی الیکشن کروائے اور عورتوں کو32نشستیں دیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہر کونسلر نے اپنی بیوی کو بھی ممبر بنوادیا ۔ اس زمانے میں ہمارے چھوٹے شہروں میں ہی خواتین بولنا سیکھ گئی تھیں۔ شاید مریم بی بی کوان خواتین کی آوازیں اب بھی کانا پھوسی کرتی محسوس ہورہی ہیں۔ اس لئے پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کی دھیمی سی آواز آرہی ہے۔ الیکشن اور صوبوں کی ساخت پہ بحث ذرا کھل کے ہونی چاہئے کہ کسی دن تویوں ہوکہ دوپارٹیوں کی پندرہ سالہ تخت نشینی کم ہو اور نوجوان ذہن سامنے آئیں مگر اسوقت ٹی وی پہ اسدعمر صاحب بول رہے ہیں۔

تازہ ترین