• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ربیع الاول کا چاند طلوع ہوتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے صدیوں کے فاصلے سمٹ گئے ہوں، جیسے مکہ کی وہ گلیاں آج بھی کسی نورانی قدموں کی چاپ سن رہی ہوں، جیسے مدینے کی ہوائیں آج بھی اس ہستی کی خوشبو اپنے دامن میں لیے ہوئے ہیں جس نے انسان کو انسانیت کا شعور عطا کیا، پتھر دلوں کو موم کیا، غلاموں کو عزت دی، عورت کو وقار بخشا، یتیم کے سر پر دستِ شفقت رکھا اور دنیا کو بتایا کہ طاقت کا کمال انتقام میں نہیں، عفو و درگزر میں ہے۔

یہ ربیع الاول ہے؛ حبیبِ کبریا ، رحمتِ دو عالم ، سیدالمرسلین، خاتم النبیین، امام الانبیا ، محبوبِ رب العالمین اور محسنِ انسانیت کی یادکا مہینہ۔سوچیے! ایک طرف عرب کی سرزمین تھی؛ قبائلی تعصب، انتقام، جہالت، بت پرستی اور معاشرتی ظلم کا غلبہ۔ دوسری طرف مکہ کی ایک خاموش وادی میں ایک یتیمِ عبداللہ کھڑا ہوتا ہے اور اعلان کرتا ہے:لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

یہ صرف چند الفاظ نہ تھے۔ یہ انسانی ضمیر کی آزادی کا اعلان تھا۔ یہ قیصر و کسریٰ سے زیادہ بڑا انقلاب تھا، کیونکہ اس نے سب سے پہلے انسان کے اندر کے بت توڑے۔وہ محمدﷺ ہیں ۔وہی صادق، جنکی صداقت کے دشمن بھی معترف تھے۔وہی امین، جنکے پاس مخالفین بھی اپنی امانتیں رکھتے تھے۔وہی رحمتہ للعالمین، جنکے دل میں اپنے ستانے والوںکیلئے بھی خیر خواہی تھی۔وہی سراجاً منیراً، جنہوں نے تاریک دنیا کو ہدایت کی روشنی عطا کی۔سیرت کی سب کتابوں کو پڑھتے ہوئے ایک حقیقت بار بار دل پر دستک دیتی ہے: محمدﷺ صرف ایک تاریخ ساز شخصیت نہیں، ایک مکمل اسوہ ہیں۔

آپ مسجد میں بھی تھے اور میدانِ عمل میں بھی، گھر میں بھی تھے اور ریاست کے سربراہ بھی، یتیموں کے والی بھی تھے اور فاتحِ مکہ بھی۔ لیکن فتح کے دن جب وہ لوگ سامنے کھڑے تھے جنہوں نے آپ کو مکہ سے نکالا، راستے میں کانٹے بچھائے، آپ پر ظلم کیا اور آپ کے اصحاب کو اذیتیں دیں، تو فاتحِ مکہ کے لبوں پر انتقام نہیں بلکہ رحمت تھی۔یہ وہ مقام ہے جہاں انسان حیران رہ جاتا ہے!دنیا کے فاتحین تاریخ کی کتابوں میں اپنے دشمنوں کی لاشیں گنواتے ہیں، مگر محمدﷺ نے فتح کے دن دشمنوں کو معافی دی اور یہی ان کی عظمت ہے۔

حضور اکرم ﷺکی شخصیت صرف مسلمانوں کے دلوں کا سرمایہ نہیں، غیر مسلم اور مغربی اہلِ علم بھی آپ کے تاریخی اثرات، اخلاقی عظمت اور انسانی کردار کا برملااعتراف کرتےہیں۔امریکی ماہرِ طبیعیات اور مصنف مائیکل ہارٹ نے اپنی مشہور کتاب The100 میں دنیا کی سو سب سے بااثر شخصیات کی فہرست میں محمدﷺ کو پہلے نمبر پر رکھا۔ اس کا کہنا تھا کہ محمد تاریخ کے واحد انسان تھے جو مذہبی اور دنیوی، دونوں میدانوں میں غیر معمولی طور پر کامیاب ہوئے۔ کیرن آرمسٹرانگ،جس نے رسول اللہ ﷺکی سیرت پر مستقل کتاب لکھی، کے مطابق محمدﷺ عظیم روحانی اور سیاسی شخصیت ہونے کے باوجود اپنی انسانیت، شفقت اور محبت سے کبھی جدا نہیں ہوئے۔

کیا عجیب منظر ہے!ہم کہتے ہیں:محمدﷺ رحمت للعالمین ہیں۔اور مغرب کا ایک قلم اٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ اس شخصیت کو سمجھنے کیلئے اسکی زندگی، اسکی جدوجہد، اسکی محبت، اسکے صبر اور اسکی انسانیت نوازی کو سمجھنا ہوگا۔برطانوی مصنف مارٹن لنگز نے بھی سیرتِ نبوی پر اپنی معروف کتاب میں قدیم عربی مصادر کی بنیاد پر حضور کی حیاتِ مبارکہ کو تفصیل سے پیش کیا۔

مگر سوال یہ ہے کہ ہم نے محمدﷺ کو کتنا پڑھا؟ہم نے آپ کی ولادت پر چراغاں تو کیا، مگر کیا ہمارے گھروں میں آپ کی سنت کا چراغ بھی روشن ہے؟ہم نے نعتیں تو پڑھیں، مگر کیا ہماری زبان جھوٹ سے پاک ہوئی؟ہم نے درود تو بھیجا، مگر کیا ہم نے کسی غریب کا ہاتھ تھاما؟ہم نے محبتِ رسول کے دعوے تو کیے، مگر کیا ہمارے معاملات میں الامین کی امانت پیدا ہوئی؟یہی وہ مقام ہے جہاں ربیع الاول ہمیں جھنجھوڑتا ہے۔

اقبال نے کیا خوب کہا:

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

اور عاشقِ رسولﷺ امام احمد رضا ؒنے کیا خوب کہا:

وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں

تیرے دن اے بہار پھرتے ہیں

ربیع الاول دراصل پھولوں، چراغوں اور جھنڈیوں سے زیادہ کردار کا موسم ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جس نبیﷺ نے دشمن کیلئے بھی رحمت چاہی، ہم اپنے بھائی سے کیوں نفرت کریں؟ جس نبیﷺ نے یتیم کے سر پر ہاتھ رکھا، ہم اپنے معاشرے کے کمزور انسان کو کیوں بھول جائیں؟ جس نبی ﷺنے عدل قائم کیا، ہم اپنی ذاتی پسند و ناپسند کو انصاف پر کیوں غالب آنے دیں؟

محمدﷺ کی محبت صرف جذبات نہیں، محمدﷺ کی محبت ایک ذمہ داری ہے۔ ذمہ داری یہ ہے کہ ہمارے کاروبار میں دیانت ، ہمارے گھروں میں شفقت ، ہماری سیاست میں اخلاق، ہماری عدالت میں عدل ، ہماری گفتگو میں تہذیب اور ہمارے دل میں انسانیت کیلئے درد ہو۔

اے ربیع الاول!

تو پھر آ، مگر صرف کیلنڈر پر نہ آ

ہماری زبان میں محمد کا اخلاق لے کر آ

ہماری آنکھوں میں محمد کی رحمت لے کر آ

ہمارے کردار میں محمد کی صداقت لے کر آ

ہمارے گھروں میں محمد کی محبت لے کر آ

کیونکہ ہمیں صرف یہ نہیں کہنا کہ محمد ﷺ ہمارے نبی ہیں،ہماری زندگی کو یہ گواہی بھی دینی چاہیے کہ:ہاں! ہم محمدِ مصطفی ﷺکے امتی ہیںاور جب کبھی دنیا پوچھے کہ تمہارے نبی کون ہیں؟تو صرف زبان سے جواب نہ دینا۔اپنے کردار کو بولنے دینا۔اپنی امانت کو بولنے دینا۔اپنی رحمت کو بولنے دینا۔اپنی سچائی کو بولنے دینا پھر شاید دنیا کو سمجھ آئے کہ محمدﷺ صرف ہمارے نبی نہیں،انسانیت کیلئے رحمت بن کر آنیوالی وہ عظیم ترین ہستی ہیں، جنکی سیرت آج بھی دلوں کی تاریکی میں چراغ جلاتی ہے۔

تازہ ترین