• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گھریلو تشدد کے باعث پہلے شوہر کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا، کامیا

بھارتی فلموں اور ٹیلی ویژن کی اداکارہ کامیا پنجابی۔فوٹو: فائل
بھارتی فلموں اور ٹیلی ویژن کی اداکارہ کامیا پنجابی۔فوٹو: فائل

بھارتی فلموں اور ٹیلی ویژن کی اداکارہ کامیا پنجابی نے حال ہی میں اپنی پہلی شادی کے دوران پیش آنے والے تلخ تجربات اور گھریلو تشدد سے نجات حاصل کرنے کے بارے میں گفتگو کی۔ 

47 سالہ کامیا نے کاروباری شخصیت بنٹی نیگی سے شادی کی تھی اور دونوں کی ایک بیٹی بھی ہے۔ 

انہوں نے بتایا کہ کئی سال تک گھریلو تشدد برداشت کرنے کے بعد انہوں نے اس وقت شوہر کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا جب ان کی بیٹی نے دونوں کے درمیان ہونے والی لڑائی دیکھ لی۔ 

سدھارتھ کنن کو دیے گئے انٹرویو میں کامیا نے بتایا کہ وہ کام پر جانے سے پہلے اپنے چہرے پر بھاری میک اَپ کرتی تھیں تاکہ مار پیٹ کے نشانات اور چوٹیں چھپائی جا سکیں۔

انھوں نے کہا کہ ایک مرتبہ میں ایک ایوارڈ لینے گئی تو مجھے اپنے آپ پر شرمندگی محسوس ہو رہی تھی۔ میں سوچ رہی تھی، میں کون ہوں اور میں کیا کر رہی ہوں؟ گھر میں مجھے مارا پیٹا جا رہا تھا اور پھر میں باہر جا کر ایوارڈ وصول کر رہی تھی۔ کیوں؟ اس ساری صورتحال پر میں خود کو باتھ روم میں بند کر کے گھنٹوں روتی، بعض اوقات پوری رات اسی طرح گزر جاتی تھی۔

کامیا نے بتایا کہ ان کے سابق شوہر ان پر شک بھی کرتے اور چاہتے تھے کہ میں اداکاری چھوڑ دوں۔ شوہر ہر دس منٹ بعد فون کرتے اور اگر فون نہ اٹھاتیں تو ان سے پوچھ گچھ کرتے کہ کہاں گئی تھی۔ آخرکار وہ وقت آیا جب ان کی بیٹی نے دونوں کو لڑتے ہوئے دیکھ لیا اور رونے لگی۔ 

اس واقعے نے کامیا کو احساس دلایا کہ وہ مزید اس رشتے میں نہیں رہ سکتیں، جس کے بعد انہوں نے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور اپنا بیگ اٹھا کر گھر سے باہر نکل گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ میرے لیے یہ بالکل مشکل نہیں تھا۔ میں ایک بار بھی نہیں روئی۔ 

بعد ازاں کامیا نے 2020 میں بھارتی ہیلتھ کیئر ایگزیکٹو شلاب ڈانگ سے شادی کی۔

جہاں تک کام کا تعلق ہے تو کامیا نے ٹیلی ویژن پر کافی کام کیا، 2000 کی دہائی کے آغاز میں کیریئر کا آغاز کیا اور کئی مقبول ٹی وی ڈراموں میں نظر آئیں، جن میں کہنے کو ہمسفر ہیں، بنے گی اپنی بات، ریت، پیا کا گھر، کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی، کہانی گھر گھر کی اور مریادا: لیکن کب تک؟ شامل ہیں۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید