• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تعلق پنجاب سے، کراچی اچھا لگتا ہے: کنزا ہاشمی

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

جیو فلمز کے اشتراک سے بننے والی اینتھالوجی فلم ’شیروز‘ کی نامور اداکارہ کنزا ہاشمی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بچیوں اور عورتوں کے لیے کوئی تحفظ نہیں ہے۔

جنگ ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ آئے دن بد ترین خبریں سامنے آتی رہتی ہیں، حکومت کو بچیوں اور خواتین کے لیے قانون سازی کرنی پڑے گی تا کہ ہم اپنے آپ کو سیف محسوس کر سکیں۔

فلم اور ڈراموں کی ادکارہ نے حکومت سے درخواست کی کہ جگہ جگہ کیمرے لگائے جائیں، عورتوں کے لیے ایک الگ ہیلپ لائن بنائے جائے، جس پر اگر ایمرجنسی میں کال کی جائے تو 5 منٹ میں فوری طور ایکش لیتے ہوئے ان کی مدد کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اسکولوں میں کیمرے لگائے جائیں، والدین کے پاس ان کیمروں تک رسائی ہونی چاہیے، تاکہ وہ بچوں کو دیکھ سکیں کہ ان کے بچے اسکول میں کیا کر رہے ہیں۔

کنزا ہاشمی نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ میرا تعلق پنجاب سے ہے، مجھے کراچی اچھا لگتا ہے، اس شہر کے لوگوں نے مجھے بہت پیار دیا، کراچی میری توقعات سے بڑھ کر اچھا ثابت ہوا، میں نے ڈراموں کے ساتھ ساتھ فلموں میں بھی کام کرنا شروع کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ فلمز اور جیو فلمز کے اشتراک سے بننے والی اینتھالوجی فلم شیروز 2 اکتوبر سے سنیما گھروں کی زینت بنے گی، اس کے بعد میری 2 فلمیں اور بھی آئیں گی۔

کنزا ہاشمی کا کہنا ہے کہ ہمارے ڈرامے دُنیا بھر میں مقبول ہیں، مختلف ممالک میں ہمیں دیکھا جاتا ہے، دُنیا کو کوئی کونہ ایسا نہیں ہے، جہاں ہمارے فین موجود نہ ہو، ہماری خواہش ہے کہ فلم کے روپ میں بھی ہم پاکستانی سنیما کو دنیا بھر میں لے کر جائیں۔

اداکارہ نے کہا کہ میری نئی فلم شیروز میں آپ دیکھ سکیں گے کہ ایک آرٹسٹ کے کیا مسائل ہوتے ہیں، پاکستان میں کہانیوں کی کمی نہیں، فلمیں بنیں گی تو انہیں بین الاقوامی سطح پر لے کر جائیں گے۔

کنزا ہاشمی کا کہنا ہے کہ میں فلم میں ایک معصوم آرٹسٹ کے کردار میں نظر آؤں گی۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید