پاکستان اس حوالے سے دنیا کے خوش قسمت ممالک میں شمار ہوتا ہےکہ جسکی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ سرکاری اور بین الاقوامی تخمینوں کے مطابق پاکستان کی تقریباً 64 فیصد آبادی 30سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے جبکہ 15 سے 29 سال کے نوجوانوں کی تعداد تقریباً 5 سے 6 کروڑ کے درمیان ہے۔ یہ نوجوان پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ بھی ہیں اور سب سے بڑا چیلنج بھی ۔ ہمارے نوجوان طبقے کے بڑے حصے کو بیروزگاری، معیاری تعلیم، ہنر سیکھنے کے مواقع کی کمی، ڈیجیٹل سہولیات کے فقدان اور محدود معاشی مواقع جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ علاوہ ازیں ہر سال لاکھوں نوجوان یونیورسٹیوں سے ڈگریاں حاصل کرنے کے نکل رہے ہیں لیکن ان کے لئے مناسب ملازمتیں موجود نہیں ہیں۔
ان حالات میں نوجوانوں کی بڑی تعداد اس وجہ سے بھی مایوسی کا شکار نظر آتی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال سے ملازمتیں ختم ہو رہی ہیں۔ان حالات میں نوجوانوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ مصنوعی ذہانت ملازمتیں ختم کرنے کی بجائے ایسے افرادکیلئے خطرہ ہے جو اس کے استعمال سے نابلد یا اسے سیکھنے سے گریزاں ہیں۔ اس کے برعکس ایسے افراد جنہوں نے بدلتے حالات کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے خود کو مصنوعی ذہانت سے ہم آہنگ کرکے اس کے استعمال پر دسترس حاصل کرکے اپنی پیداواری قابلیت اور استعداد میں اضافہ کیا ہے ان کے لئے آگے بڑھنے کے مواقع مزید بڑھ گئے ہیں۔ اس لئے موجودہ صورتحال میں اگر جدید ٹیکنالوجی، خصوصاً مصنوعی ذہانت کے میدان میں سرمایہ کاری کی جائے تو نوجوان طبقے کی بڑی تعداد کو نہ صرف دنیا کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے بلکہ انہیں ملک کے لئے زرمبادلہ کمانے کا اہم ذریعہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کا استعمال زندگی کے ہر شعبے میں تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اس ٹیکنالوجی کی بدولت صحت، زراعت، صنعت، تعلیم، تجارت، بینکاری اور حکومتی نظام سمیت ہر شعبہ تبدیل ہو رہا ہے۔ اس لئے مستقبل میں معیشت کی ترقی کا دارومدار صرف سستی لیبر پر نہیں ہو گا بلکہ اس کا دارومدار علم، تحقیق، ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی استعداد پر ہو گا۔ ایسے میں وہی ممالک ترقی کریں گے جو اپنے نوجوانوں کو صرف ٹیکنالوجی استعمال کرنا نہیں بلکہ اسے تخلیق کرنا بھی سکھائیں گے۔حال ہی میں شنگھائی میں منعقدہ ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس کے موقع پر چین کے صدر شی جن پنگ نے پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں جدت، اطلاق اور مؤثر گورننس کے فروغ کے لیے تعاون کا عزم ظاہر کیا۔ یہ پیشکش پاکستان کے لیے ایک اہم موقع بن سکتی ہے کیونکہ خطے میں چین کے ساتھ سب سے زیادہ قریبی اور دیرینہ تعلقات پاکستان کے ہیں۔ اسلئے حکومت کو چاہئے کہ ابھی سے چین اور دیگر ممالک کیساتھ تحقیق، افرادی قوت کی تربیت، سپر کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر، ڈیٹا سینٹرز کے قیام اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے شعبوں میں شراکت داری کو فروغ دینے کیلئے اقدامات کرے۔یہ بات خوش آئند ہے کہ قومی سطح پر مصنوعی ذہانت کے فروغ کی پالیسی تشکیل پا چکی ہے لیکن اسے محض ایک دستاویز کی بجائے عملی شکل دینے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے ملک میں اے آئی ریسرچ لیبارٹریوں کا قیام، یونیورسٹیوں میں جدید نصاب، اساتذہ کی تربیت، مقامی زبانوں میں اے آئی ٹولز کی تیاری، نوجوانوں کے لیے مفت یا کم لاگت تربیتی پروگرام، اسٹارٹ اپس کی سرپرستی کرنے کے علاوہ صنعتوں اور تعلیمی اداروں بالخصوص جامعات کے درمیان مضبوط روابط کو استوار کرنا ہو گا۔ اسی طرح اگر ہر ضلع اور تحصیل کی سطح پر جدید آئی ٹی اور اے آئی اسکل سینٹر قائم کیے جائیں تو لاکھوں نوجوان اپنا وقت سوشل میڈیا پر ضائع کرنے کی بجائے عالمی ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بن کر ملک کی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت اب صرف سافٹ ویئر انجینئرز تک محدود نہیں رہی بلکہ اے آئی کی مدد سے کسان فصلوں کی پیداوار بہتر بنا سکتے ہیں، ڈاکٹر بیماریوں کی بروقت تشخیص کر سکتے ہیں اور تحقیق و تعلیم کے شعبے سے وابستہ افراد بالخصوص طلبہ اور اساتذہ دنیا کے بہترین تعلیمی وسائل سے فائدہ اٹھا کر ان کے مثبت نتائج کو مقامی سطح پر رائج کرکے معاشرے کی بہتری میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اے آئی کو ہر شعبے میں مہارت کے حصول کا لازمی حصہ بنایا جائے۔موجودہ حالات میں اگر ہم اپنے نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے آراستہ کرنے میں ناکام رہے اور وہ مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے تو اس کے نتائج نہایت اچھے نہیں ہوں گے۔ ان حالات میں متوقع طور پر عالمی منڈی میں پاکستانی افرادی قوت کی مسابقت کم ہو جائے گی، بیروزگاری میں اضافہ ہو گا، بیرونی سرمایہ کاری متاثر ہو گی، صنعتی پیداوار سست پڑ جائے گی اور ہمارا ملک ٹیکنالوجی کا تخلیق کار یا شراکت دار بننے کی بجائے محض ایک صارف بن کر رہ جائے گا۔ علاوہ ازیں ڈیجیٹل عدم مساوات میں اضافے کے باعث پاکستان عالمی معیشت میں مزید پیچھے چلا جائے گا اور ہمارا نوجوان طبقہ ملک کے لئے اثاثہ ثابت ہونے کی بجائے ہمارے لئے ایک بوجھ بن جائے گا۔اس حوالے سے ارباب اقتدار کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت کے میدان میں مہارت فراہم کرنے کے لئے خرچ ہونے والے قومی وسائل دراصل ملک کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی سرمایہ کاری ہے۔ پاکستان کے پاس نوجوان آبادی کی صورت میں ایک ایسا موقع موجود ہے جو ہر ملک کو میسر نہیں۔ اگر آج ہم اپنے نوجوانوں کو معیاری تعلیم، جدید ہنر، تحقیق کے مواقع اور مصنوعی ذہانت جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز تک رسائی فراہم کریں گے تو کل کو یہی نوجوان پاکستان کو علم پر مبنی معیشت، برآمدات میں اضافے اور پائیدار ترقی کی نئی منزلوں تک لے کر جائیں گے۔