راولپنڈی ڈسٹرکٹ کورٹ میں حنا جاوید قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ملزمان فیصل اصغر اور ملازم ذیشان کے جسمانی ریمانڈ میں 4 دن کی توسیع کردی۔
پولیس نے گرفتار 2 ملزمان فیصل اصغر اور ملازم ذیشان کو عدالت پیش کیا، اور ملزمان کے 7 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔
عدالت سے پولیس نے استدعا کی کہ ملزم سے پہلی بیوی کو دی گئی طلاق کے کاغذات برآمد کرنے ہیں، ملزم فیصل اصغر سے مقتولہ سے کیے نکاح کے کاغذات برآمد کرنے ہیں، نکاح اور طلاق نامہ کے کاغذات ملنے پر تصدیق بھی کروانی ہے۔
پولیس کی جانب سے ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر رحمان شوکت بھٹی عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے ملزمان کا جسمانی ریمانڈ منظور کرکے 2 ستمبر کو پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
خیال رہے کہ حنا جاوید کی شادی 9 ماہ قبل فیصل اصغر سے ہوئی تھی، شوہر نے کئی بار مارا پیٹا مگر حنا اس ڈر سے خاموش رہی کہ بستر مرگ پر پڑے اس کے والدین کو دکھ نہ پہنچے۔ یہی خاموشی شاید اس کے شوہر کو مزید سفاک بناتی چلی گئی اور پھر اس نے حنا کا بہیمانہ قتل کر دیا۔
پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق شوہر فیصل اصغر نے دیگر ملزمان کے ساتھ مل کر حنا کو قتل کیا، حنا جاوید کی لاش گھر کے واش روم میں شاور سے پھندے کے ساتھ لٹکی ملی، مقتولہ کے ہاتھ بندھے ہوئے اور منہ سے خون اور جھاگ نکل رہا تھا۔
قتل کے الزام میں شوہر فیصل اصغر اور گھریلو ملازم گرفتار ہیں، سسر بھی نامزد ہے، ملزم فیصل اصغر کو جنسی ہراسانی کے الزام میں اسلام آباد کی 2 یونیورسٹیز سے برطرف کیا جا چکا ہے، مقتولہ کے شوہر کی یہ دوسری شادی تھی، پہلی بیوی نے مبینہ گھریلو تشدد اور اذیتوں کے باعث طلاق لے لی تھی۔