ملک میں اس وقت بجلی تقسیم کرنیوالی 10 حکومتی کمپنیاں کام کررہی ہیں جن میں اسلام آباد، لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد، ملتان، پشاور، کوئٹہ، سکھر، حیدرآباد اور قبائلی علاقوں کی بجلی تقسیم کار کمپنیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کراچی کیلئے کے الیکٹرک بجلی تقسیم کار کمپنی ہے جسکی نجکاری ہوچکی ہے۔ ان کمپنیوں جنہیں ڈسکوز بھی کہا جاتا ہے، میں پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی کا سالانہ نقصان 87.48 ارب روپے، کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کا سالانہ نقصان 52.41 ارب روپے، سکھر الیکٹرک سپلائی کمپنی کا سالانہ نقصان 36.05ارب روپے اور لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کا سالانہ نقصان 35.17 ارب روپے ہے جو مجموعی 211ارب روپے سالانہ بنتا ہے۔ ان نقصانات کی بڑی وجہ ڈسکوز کمپنیوں میں بجلی کی چوری، لائن لاسز، کمزور انفراسٹرکچر اور بلوں کی عدم وصولی ہے جس سے ان کمپنیوں کی مالی حالت خراب ہوجاتی ہے اور بالآخر یہ خسارہ سرکولر ڈیٹ میں اضافہ کرتا ہے جو بجلی کے نرخوں میں اضافہ کرکے صارفین سے وصول کیا جاتاہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں پرانا اور فرسودہ بجلی کا نظام ہے، پرانے اور ناقص ٹرانسفارمرز، اوورلوڈڈ فیڈرز، ناکافی گرڈ اسٹیشنز اور پرانی ٹیکنالوجی سےتکنیکی نقصانات (T&D) بڑھ جاتے ہیں۔
ڈسکوز کمپنیوں کے نقصانات کی دوسری وجہ بجلی کی چوری ہے جس میں غیر قانونی کنکشنز (کنڈے) اور بجلی کے میٹر زمیں ہیرا پھیری ہے اور ان نقصانات کا بوجھ صارفین پر پڑتا ہے۔ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات کی تیسری وجہ بجلی کے بلوں کی عدم وصولی ہے۔ چوتھی وجہ ان کمپنیوں میں حکومتی اور سیاسی مداخلت ہے جو انکی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے۔ اسلام آباد، گوجرانوالہ، فیصل آباد، لاہور اور ملتان الیکٹرک سپلائی کمپنیوں نے تقریباً 100 فیصد بجلی کے بلوں کی ریکوری کی جبکہ پشاور اور کے الیکٹرک کے بلوں کی وصولی 90 فیصد رہی۔ اس کے برعکس حیدرآباد اور سکھر الیکٹرک سپلائی کمپنیوں کی ریکوری صرف 75 فیصد رہی جبکہ کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کی ریکوری صرف 39 فیصد رہی۔ ڈسکوز میں بلوں کی عدم وصولی سے مالی مسائل بڑھتے ہیں اور سرکولر ڈیٹ میں اضافہ ہوتا ہے جس کو کم کرنے کیلئے حکومت نے 5 سے 6 سال کیلئے بجلی کے بلوں میں 3.23 روپے فی یونٹ ڈیٹ سروس سرچارج (DSS) لگایا ہوا ہے جس سے حکومت کو سالانہ 1250 ارب روپے حاصل ہورہے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت نے بجلی کے بلوں میں 0.43 پیسے فی کلوواٹ فنانشل کاسٹ سرچارج (FCS)بھی لگایا ہوا ہے تاکہ بینکوں کے گردشی قرضوں کے سود کی ادائیگی کی جاسکے جو عوام پر ایک غیر منصفانہ بوجھ ہے۔ پاور سیکٹر کی ڈسکوز کے نقصانات پر قومی اسمبلی میں وزیر توانائی اویس لغاری کی پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال 2025-26 ءمیں ڈسکوز کے نقصانات 262ارب روپے (17.2فیصد) رہے۔ پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے نقصانات سب سے زیادہ 85 ارب روپے (40 فیصد)، دوسرے نمبر پر کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کے نقصانات 82 ارب روپے (60فیصد) رہے، تیسرے نمبر پر سکھر الیکٹرک سپلائی کمپنی کے نقصانات 34ارب روپے (38.5 فیصد) اور چوتھے نمبر پر لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی 35 (13.7 فیصد) ارب روپے ہیں جو مجموعی نقصانات کا 80 فیصد ہیں۔
سرکولر ڈیٹ میں مسلسل اضافے سے جون 2026 تک پاور سیکٹر کے گردشی قرضے بڑھ کر 1675 ارب روپے ہوگئے ہیں۔ سرکولر ڈیٹ کا یہ ناقابل برداشت بوجھ پورے پاور سیکٹر کو مفلوج کردے گا۔ اس سلسلے میں حال ہی میں کابینہ کی کمیٹی برائے نجکاری نے ڈسکوز کی نجکاری کیلئے ان کی تنظیم نو کی منظوری دی ہے جس میں ڈسکوز کی ری اسٹرکچرنگ کیلئے پی آئی اے کی طرز پر ایک ہولڈنگ کمپنی بنانے کی اجازت دی گئی ہے جس میں ڈسکوز کی اراضی اور اثاثوں کو حکومتی ملکیتی پاور ہولڈنگ کمپنی کو منتقل کیا جاسکے گا۔ کابینہ کمیٹی برائے نجکاری نے پہلے مرحلے میں فیصل آباد، گوجرانوالہ اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنیوں کے 51 فیصد شیئرز کی نجکاری کی منظوری دی ہے جس سے ان کمپنیوں کے نئے مالکان کو 100 فیصد انتظامی کنٹرول حاصل ہوجائیگا۔ ان تینوں کمپنیوں کا انتخاب ان کی بہتر کارکردگی کی بنیاد پر کیا گیا ہے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوسکے جبکہ پشاور ، کوئٹہ اور سکھر الیکٹرک سپلائی کمپنیوں کی خراب کارکردگی کے باعث نجکاری کیلئے فی الوقت ان کا انتخاب نہیں کیا گیا۔ تازہ رپورٹ کے مطابق 12کمپنیوں نے فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (FESCO) کی خریداری میں دلچسپی (EOI) ظاہر کی ہے جبکہ کے الیکٹرک فیسکو کی نجکاری کے عمل سے دستبردار ہوگیا۔ پی آئی اے کی کامیاب نجکاری کی ایک وجہ حکومتی ہولڈنگ کمپنی کا قیام تھا جس میں تمام مالی نقصانات اور بینکوں کے قرضے ٹرانسفر کردیئے گئے تھے اور نجکاری میں جانے سے قبل پی آئی اے پر کسی قسم کے واجبات اور بقایا جات نہیں تھے۔ اسی طرح کی ری اسٹرکچرنگ کی ان ڈسکوز کی نجکاری میں بھی ضرورت ہے۔