’’ارے! یہ تو اپنی سارہ لگ رہی ہے۔‘‘ موبائل فون پر وقت گزاری کے دوران ٹک ٹاک پر شناسا چہرہ دیکھ کر اُسے پہچاننے میں ذرا بھی دیر نہ لگی۔ چوبیس پچیس سالہ ’’گھریلو مددگار‘‘ جسے گھڑی میں وقت دیکھنا آتا ہے اور نہ سبزی والے سے چند روپے کا حساب کتاب کرسکتی ہے اوراردو یا مادری زبان میں کوئی جملہ پڑھنا لکھنا، تو کجا اپنا نام بھی پڑھ، لکھ نہیں سکتی مگر موبائل فون پرفلٹرز لگا کراورکوئی گانا چُن کراس پر لپ سنکنگ کی ویڈیو بنا کے اُسے سوشل میڈیا پر اَپ لوڈ کر سکتی ہے۔ یہ صُورتِ حال اکیسویں صدی میں خواندگی کا ایک نیا مفہوم بیان کررہی ہے۔ یعنی آج کے ڈیجیٹل دَور میں خواندگی اور ناخواندگی کے درمیان تمیز، فرق کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
درحقیقت، یہ ڈیجیٹل خواندگی نہیں بلکہ محض ڈیجیٹل کنزیومرازم یا ویژول میڈیا کا سطحی استعمال ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ برقی آلات میں مہارت پڑھنےلکھنے کی صلاحیت کا نعم البدل نہیں ہو سکتی اور اصل ڈیجیٹل خواندگی میں مطلوبہ مواد سرچ کرنا، معلومات کی دُرستی پرکھنا اور ای میل کرنا وغیرہ شامل ہے۔
اقوامِ متّحدہ (یونیسکو) کی جانب سے بیان کی گئی خواندگی کی تعریف کے مطابق 15 برس یا اس سے زیادہ عُمر کا وہ فرد، جسے روزمرہ زندگی کے امور چلانے کے لیے پڑھنا لکھنا اور حساب کتاب کرنا آتا ہو، خواندہ تصور ہوگا،جب کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس ( PBS ) کے مطابق پاکستان میں 10 سال یا اس سے زیادہ عُمر کا وہ شخص کہ جو کسی بھی زبان میں ایک سادہ سا جملہ پڑھ کر سمجھ سکے اور ایک سادہ جملہ لکھ سکے، وہ خواندہ شمار ہوگا۔
علاوہ ازیں، بھارت اور بنگلادیش میں7 سال، جب کہ سری لنکا میں10ال کی عُمر کے ساتھ خواندگی کا معیار کم و بیش یہی ہے۔ اس ضمن میں یہ وضاحت ضروری ہے کہ پاکستان میں 2017ء کی چھٹی مردم شماری کے دوران بین الاقوامی معیار کے مطابق خواندگی کی تعریف وسیع کرتے ہوئے اس میں سادہ حساب کتاب یعنی گنتی اور جمع و تفریق کی صلاحیت کا اضافہ کیا گیا ہے۔
تاہم، اس سلسلے میں چین کا معیار سخت ہے، جہاں 15 سال یا اس سے زیادہ کی عُمر میں 1500 چینی الفاظ کی پہچان اور ان کا لکھنا شرط ہے، جب کہ امریکا اور یورپ میں فنکشنل لٹریسی کو قابلِ اعتنا سمجھا جاتا ہے اور وہاں15 سال یا اس سے زیادہ عُمرکےایسے افراد، جو نوکری کی درخواست، بینک فارم، بِل یا دوائی کا لیبل وغیرہ سمجھ سکیں، خواندہ شمار ہوتے ہیں۔ نیز، فِن لینڈ اورجنوبی کوریا میں خود کو پڑھا لکھا ثابت کرنے کے لیے ڈیجیٹل خواندگی اور اے آئی ٹولزکی سمجھ بوجھ بھی ضروری ہے۔
یعنی وقت کےساتھ بدلتے تقاضوں میں خواندگی صرف الفاظ پڑھنے لکھنے کی اہلیت کا نام نہیں بلکہ درحقیقت یہ معلومات کو سمجھ کر اپنےعلم اور مہارتوں کے ساتھ استعمال کرنے کی ایسی صلاحیت ہے، جو کسی فرد کو کسی خاص معاشرے میں مؤثر طریقے سے کام کرنے اور تعمیرو ترقی کے لیے درکار ہے۔
گزشتہ 60 برس سے 8 ستمبر کو منایا جانے والا ’’خواندگی کا عالمی دن‘‘ دُنیا بَھر میں حُکم رانوں اور پالیسی سازوں کے ساتھ عوام کوبھی اس جانب متوجّہ کرنےکی کوشش ہے کہ تعلیم انسان کی انفرادی اور اقوام کی اجتماعی زندگی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ بنیادی تعلیم افراد کو وہ اساس مہیا کرتی ہے، جس پر وہ اپنی ذہنی صلاحیتوں اورعلم و ہُنر کو فروغ دے کر اپنی قدر و قیمت میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ یہ امکانات کے در وا کرکے نئے مواقع سے فیض اُٹھانے کے راستے ہم وار کرتی ہے۔
نیز، خواندگی ایک ایسا بنیادی حق ہے، جو انسانی شعور اجاگر کر کےکئی دوسرے حقوق اور آزادیوں سے لطف اندوز ہونے کا موقع دیتی ہے۔ یہ ہی وہ قوّت ہے، جو افراد کو کُھلے ذہن کے ساتھ قبولیت اور برداشت کی طاقت عطا کر کے اِس متنوّع دُنیا میں ہم آہنگ، عادلانہ، پائےدار اور بلاامتیاز قانون کی بالادستی کے نظام کا خواب شرمندۂ تعبیر کرتی اور تمام انسانوں کو ترقّی کرنے اور آگے بڑھنے کے یک ساں مواقع فراہم کر کے مساوات اور باہمی احترام پر قائم پُرامن معاشرے کے قیام کی پرداخت کرتی ہے۔
تعلیم کا حصول انتخاب نہیں بلکہ ہمارے لیے تو یہ دینی فریضہ، سماجی ضرورت اور معاشی مجبوری بھی ہے۔ نبی اکرم ﷺپر پہلی وحی ہی پڑھنے اور علم سیکھنے کے متعلق نازل ہوئی۔ سورۃ العلق کی پانچ ابتدائی آیات میں ارشادِ ربّ العزت ہے کہ ’’پڑھیے، اپنے ربّ کے نام سے، جس نے پیدا کیا۔ اُس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ پڑھیے، اور آپ کا ربّ بڑا کریم ہے، جس نے قلم کے ذریعے سکھایا۔
اُس نے انسان کو وہ باتیں سکھائیں، جو وہ نہیں جانتا تھا۔‘‘ ہم سُنّتِ نبویﷺ سے کیوں کر فرار حاصل کر سکتے ہیں کہ جب آپﷺ نے2 ہجری میں غزوۂ بدر کے موقعے پر نقد فدیہ ادا نہ کرنے والے قیدیوں کو مسلمانوں کے دس دس بچّوں کو پڑھنا لکھنا سکھانے کے عوض آزاد کیا۔ کیا ہمارے لیے تعلیم کی اہمیت سمجھنے کے لیے یہی مثال کافی نہیں۔
کسی بھی معاشرے میں سماجی ترقّی اور اقتصادی نمو تعلیم سے مشروط ہے۔ ناخواندہ معاشروں میں جہالت اور غُربت کا کبھی نہ ختم ہونے والا ساتھ ایک دائرے میں چکر لگا رہا ہے، جو اپنے جلو میں نسل در نسل منتقل ہوتی بےعلمی، جمہوری اور شہری حقوق سے ناواقفیت، جرائم اور معاشرتی بےراہ روی، درست معلومات نہ ہونےکی وجہ سے طبّی مسائل میں اضافہ اور خواتین اور کم زوروں کے لیے متشدّد رویے لاتا ہے۔ اس وقت شرحِ خواندگی کا عالمی اوسط 87.74 فی صد ہے۔ اگر مختلف خطّوں کی ترقّی کی رفتاروہاں کی شرحِ خواندگی کےتناظر میں دیکھیں، تو نتائج اخذ کرنا کچھ دُشوار نہیں۔
یورپ اور شمالی امریکا کے ترقّی یافتہ خطّوں میں معیاری لازمی تعلیم کی موجودگی میں شرحِ خواندگی 98.7 فی صد ہے۔ مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیا میں چین، جاپان اور جنوبی کوریا میں تعلیم یافتہ افراد کا تناسب 96.7 فی صد تک پہنچ چُکا ہے، جب کہ لاطینی امریکا میں یہ شرح 94.8 فی صد ہے۔ مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقا کے تیل کی دولت سے مالا مال ممالک میں تعلیم کو خصوصی توجّہ دے کر وہاں شرحِ خواندگی میں 92 فی صد تک کا اضافہ کر لیا گیا ہے۔
وسطی اور جنوبی ایشیا میں بالغوں میں یہ شرح 76.5 اور نوجوانوں میں بڑھ کر93 فی صد تک ہوچُکی ہے۔ اگر ہم پاکستان اور بھارت کا تذکرہ کریں، تو یہاں شرحِ خواندگی بالترتیب 60 اور 81.7 فی صد ہے۔ تعلیمی لحاظ سے دُنیا کا سب سے پس ماندہ خطّہ سب صحارا افریقا ہے، جہاں شرحِ خواندگی 68 فی صد ہے۔ اس ساری صورتِ حال میں خوش کُن پہلو یہ ہے کہ 15 سے 24 سال کے نوجوانوں میں عالمی شرحِ خواندگی تقریبا 93 فی صد ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ نئی نسل تیزی سے تعلیم یافتہ ہو رہی ہے مگر افسوس ناک بات یہ ہے کہ بالخصوص جنوبی ایشیا اور افریقا میں صنفی امتیاز نمایاں ہے، جہاں ناخواندہ آبادی کا دو تہائی حصّہ خواتین پر مشتمل ہے۔
خواندگی کے ضمن میں عالمی منظرنامے پر طائرانہ نظر ڈالنے کے بعد پاکستان پر توجّہ مرکوز کریں، تو پتا چلتا ہے کہ وطنِ عزیز کی ابتر صُورتِ حال کی بنیادی وجہ تعلیم اور اخلاص کی کمی ہے اور یہی خواندگی بڑھانے کے جذبے اور عملی اقدامات کے فقدان کا سبب بھی ہے۔ اصولی طور پر تو ہماری اوّلین ترجیح ایسا تعلیمی نظام ہونا چاہیے کہ جس تک قوم کے بچّے بچّے کی رسائی ہو اورجس سے گزرکر وہ بحیثیت انسان اور بحیثیت شہری اپنی بہترین صلاحیتیں بروئےکار لاسکے۔
ویسے بھی ریاستِ پاکستان، آئین کی شق 25 - A کے تحت 5 سے 16 سال تک کی عُمر کے بچّوں کو معیاری اور مفت تعلیم فراہم کرنے کی پابند ہے، لیکن 2024-25ء کے تشویش ناک تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق تقریباً 2.62 کروڑ یعنی پانچ سے 16 سال تک کی عُمرکے40 فی صد بچّےاسکول نہیں جا پاتے۔
بین الاقوامی معیار کے مطابق کسی بھی مُلک کو اپنے جی ڈی پی کا4 فی صد حصّہ تعلیم کے لیے وقف کرنا چاہیے، مگر پاکستان میں آبادی تیزی سے بڑھنے کے باوجود تعلیمی بجٹ سُکڑتا جا رہا ہے اور تاریخی طور پر 1.5 سے 2.5 فی صد کے درمیان برقرار رہنے والی شرحِ خواندگی حالیہ برسوں میں گر کر 0.8 فی صد تک آگئی ہے اور اس کا موازنہ بھارت کے 3 فی صد اور بنگلا دیش کے 2 فی صد تعلیم پر لگائے گئے جی ڈی پی کے حصّے سے بھی کرنا ممکن نہیں، جب کہ ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں بجٹ میں رقم مختص ہونا اور اس رقم کا اس طرح خرچ ہونا، جس سے حقیقتاً معیارِ تعلیم یا شرحِ خواندگی بھی بہتر ہو، دو الگ باتیں ہیں۔
مُلک کی مجموعی معاشی حالت اور ترجیحات دیکھتے ہوئے آئینی اور فوری قومی ضرورت کے باوجود یہ کہنے کی جسارت بےمعنی محسوس ہوتی ہے کہ تعلیمی بجٹ فوری بڑھایا جائے، مگر اتنی معصومانہ فرمائش تو بہرحال جائز ہے کہ تعلیم کے لیے مخصوص کی گئی رقم صرف معیارِ تعلیم بہتر کرنے اور اسکولز سے باہر بچّوں کودرس گاہوں کی جانب راغب کرنے پر استعمال ہو۔
کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے جدید زمانے میں ’’تعلیم کس زبان میں دی جائے؟‘‘ کی بحث بھی نسبتاً غیر متعلق ہو چُکی ہے۔ ابتدائی عُمر میں مادری زبان میں پڑھنے اور سیکھنے کی اہمیت مسلّمہ ہے مگر گلوبل ویلیج کی بدلتی دُنیا میں اُردو کے ساتھ انگریزی کی شدھ بدھ بھی لازمی ہے۔
یہاں اس بات کو بھی ہرگز نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ گریجویٹ یا ماسٹرز ڈگری یافتہ بے روزگاروں کی فوج تیار کرنا کسی صُورت بھی مُلک و قوم کے مفاد میں نہیں۔ ایچ ای سی کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً پانچ لاکھ گریجویٹس نکلتے ہیں اور ان میں سے 70 فی صد کے پاس جاب ریڈی اِسکلز موجود نہیں ہوتی ہیں۔
ایسے میں نوجوانوں کا رُخ ایسی پروفیشنل اور ٹیکنیکل ایجوکیشن یا ہُنر مندی کی طرف موڑنا ضروری ہے کہ جو خُود ان کے لیے روزگار اور بالآخر مُلک کے لیے ترقّی کی ضمانت بن سکے۔ اس ضمن میں چین اور جرمنی وغیرہ کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جنہوں نے اپنے جوانوں کے لیے فنی تعلیم اور پیشہ ورانہ مہارتوں TVET، کوڈنگ، گرافک ڈیزائننگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور اے ائی ٹولز کےاستعمال کی تربیت کا اہتمام کیا۔
علاوہ ازیں، ہزاروں کی تعداد میں موجود دینی مدارس کے لاکھوں طلبہ کو بھی لازماً کوئی نہ کوئی ایسا ہُنر سکھانے کا بندوبست کیا جانا چاہیے کہ جو ان کے لیے اپنے زورِ بازو سے باعزّت روزی کمانے کا وسیلہ بن سکے۔ قصّہ مختصر، تعلیم صرف ڈگری کا حصول نہیں بلکہ یہ غُربت میں کمی اور افراد کو با اختیار بنانے کی کُنجی ہے اور اسی لیے رسمی اور روایتی تعلیم کے ساتھ پروفیشنل اور ٹیکنیکل ایجوکیشن بھی ناگزیر ہے۔
’’عالمی یومِ خواندگی‘‘ ہمیں صرف پڑھنے لکھنے ہی پرنہیں بلکہ سوچنے سمجھنے پر بھی ابھارتا ہے۔ اربابِ حل و عقد جانتے ہیں کہ شرحِ خواندگی میں اضافے کے لیے محض پیسے خرچ کرنا کافی نہیں، اصل چیز ارادہ اور استقامت ہے۔ وِژن ہو تو مناسب حکمتِ عملی سے کم وسائل میں بھی بڑے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں، جیسا کہ دیہی علاقوں میں سرکاری اسکولز کو شام میں تعلیمِ بالغان کے مرکز کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
مساجد میں آئمہ کرام کو اضافی وظیفے کے ساتھ بچّوں کو مقامی اور قومی زبان کی سادہ تحریر پڑھنا اور لکھنا سکھانے کی ذمّے داری تفویض کی جا سکتی ہے اور ان کی کارکردگی کا تعیّن امتحان لے کر کیا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں، صاحبِ حیثیت اور کاروباری افراد کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے کہ وہ فیاضی اور دُور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف اپنے ملازمین اور مزدوروں کے بچّوں کو اخبار پڑھنے اور عام حساب کتاب کی تربیت دینےکی ذمّےداری اٹھالیں۔ یاد رہے، موجودہ ڈیجیٹل دَور میں ابلاغ کی جادوئی طاقت استعمال نہ کرنا سخت بد نصیبی کی بات ہوگی۔
ادارۂ شماریات کے مطابق پاکستان کے لگ بھگ 96 فی صد گھرانوں کی موبائل اور اسمارٹ فونز تک رسائی ہے اور 70 فی صد سے زائد گھرانے انٹرنیٹ کی سہولت سے استفادہ کر رہے ہیں۔ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کے مطابق مُلک میں ٹیلی کام یا موبائل صارفین کی تعداد20 کروڑ سے تجاوزکرچُکی ہے، جب کہ15 کروڑ سے زائد افراد کو انٹرنیٹ اور براڈ بینڈ کی سہولت دست یاب ہے۔
ایسے میں حکومتی سطح پر یا پرائیویٹ سیکٹر کی مدد سے آن لائن ایجوکیشن کے ذریعے یا سادہ اور آسان انداز میں یوٹیوب پر ایسی مختصر اور جامع ویڈیوز اَپ لوڈ کی جاسکتی ہیں کہ جن سے بچّوں، بڑوں دونوں میں پڑھنے لکھنےکا شوق اور سیکھنے کی لگن پیدا ہو۔ اب تو چھوٹے چھوٹے بچّے بھی موبائل فون ہاتھ میں پکڑے نئی نئی مہارتیں اور اسکلز کھیل ہی کھیل میں سیکھ لیتے ہیں۔
آج کل کے دور میں کہ جب ہر کسی کو تعلیم و ہُنرمندی کی اہمیت اور زندگی میں اس کی ضرورت کے متعلق شعوروآگہی ہے، تو والدین اور خود نوجوانوں کی بھی ذمّے داری بنتی ہے کہ وہ وقت اور وسائل ضائع کرنے کی بجائے سنجیدگی کے ساتھی دست یاب اسباب کی مدد سے پڑھنے لکھنے اور سیکھنے کی کوشش کریں۔
ہمارے ہاں افسوس ناک طور پر ہر معاملے میں اپنی کم زوری اور کم ہمّتی کو قسمت اور تقدیر سے جوڑ کر بری الذمّہ ہونےکی عادت ہے اور بدقسمتی سے ہم انفرادی خوش حالی کےحصول میں بھی محنت سے گریز کرتے ہیں۔ نیلسن منڈیلا نے کہا تھا کہ تعلیم سب سے طاقت وَر ہتھیار ہے، جسے آپ دُنیا کو بدلنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ ہم بھی اپنے آدھے ادھورے خوابوں کی تکمیل اپنی اولاد اور نئی نسل کو بہتر تعلیم وتربیت دے کر کرسکتے ہیں۔ اکبر حمیدی نے کیا خُوب کہا ہے کہ ؎ رات آئی ہے، بچّوں کو پڑھانے میں لگا ہوں… خُود جو نہ بنا، اُن کو بنانے میں لگا ہوں۔