• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یوں تو ’’یومِ دفاع‘‘ 1965ء کی جنگ میں پاکستان کی، اپنے ازلی دشمن، بھارت کے خلاف فتح کی یاد میں منایا جاتا ہے، لیکن درحقیقت یہ دِن ہمیں اُن تمام لازوال قربانیوں کی یاد دِلاتا ہے کہ جو اس پاک دھرتی کی حُرمت و حفاظت کی خاطر دی گئیں۔

ایم ایم عالم کے تاریخی گرج دارحملوں اور سجاد حیدر کی پٹھان کوٹ پر یلغار سمیت وطنِ عزیز کی پاک فضاؤں میں پہرہ دینے والے گُم نام شہداء اور غازیوں کی بہادری کی داستانیں آج بھی ہمارے جذبۂ حب الوطنی کومہمیز دیتی ہیں۔

جنگِ ستمبر میں جاں نثار ہوا بازوں نے محدود وسائل کے باجود اپنے عزم وہمّت سے کئی گُنا طاقت وَر دُشمن کو زیر کیا اور پوری دُنیا کو یہ بتا دیا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ٹیکنالوجی تو بدلتی ہے مگر بہادری اور حوصلہ وقت سے ماورا ہے۔

ایئر کموڈور (ر) محمّد محمود عالم (ایم ایم عالم) اور ایئر کموڈور (ر) سجاد حیدر پاک فضائیہ کی تاریخ کے اہم نام ہیں۔ ’’پاکستان کا شاہین‘‘ کہلائے جانے والے ایم ایم عالم نے ستمبر 1965ء کی جنگ کے دوران سرگودھا کی فضاؤں میں ایک منٹ سے بھی کم وقت میں پانچ بھارتی طیّارےگرا کر تاریخ رقم کی اور اُن کی جرأت، دُرست نشانہ بازی اور ایف86 سیبر پر مہارت نے اس کارنامے کو فضائی جنگ کی تاریخ میں ایک زندہ مثال بنا دیا۔ دوسری جانب سجاد حیدر کی بہادری کی داستان بھی اتنی ہی پُر اثر ہے، جنہوں نے لاہور کے دفاع اور بھارت کے پٹھان کوٹ ایئر بیس کی تباہی میں نمایاں کردار ادا کیا۔

اُن کے اسکواڈرن نے دشمن کی سرزمین میں گہرائی تک حملے کیے تاکہ سپلائی اور لاجسٹک چَین کو درہم برہم اور زمین پر موجود طیّاروں کو ناکارہ بنایا جا سکے۔ اِسی طرح لاہور کے دفاع میں بھی اُن کا اہم کردار ہے۔ بِلاشُبہ ایم ایم عالم اور سجاد حیدر پاک فضائیہ کی شُجاعت کی علامت ہیں۔ یہ وہ مردانِ کار ہیں کہ جنہوں نے جنگ کا رُخ صرف طیّاروں سے نہیں بلکہ اپنی حکمتِ عملی اور عزمِ صمیم سے بدلا۔

1965ء کی جنگ کا پسِ منظر

پاکستان اور بھارت کے مابین 1965ء کی جنگ اُس وقت لڑی گئی کہ جب دونوں ممالک اپنی قومی شناخت تراش رہے تھے۔ پاکستان کے لیے لاہور اور سیال کوٹ کا دفاع محض اپنی سرزمین کے تحفّظ کا معاملہ نہیں تھا بلکہ یہ اُس کی بقا کی جنگ تھی۔

اس موقعے پرفضائی بالادستی جلدہی فیصلہ کُن عُنصر بن کر اُبھری، کیوں کہ جو فریق آسمانوں پر قابض ہوتا، وہ زمینی کارروائیوں کی رفتار طے کرکے اہم شہروں کی حفاظت اور دشمن کی سپلائی لائن کو درہم برہم کر سکتا تھا۔ گرچہ جنگی ہتھیاروں کے اعتبار سے انڈین ایئر فورس کو پاک فضائیہ پر برتری حاصل تھی لیکن پی اے ایف کو قومی خُودمختاری کے تحفّظ میں اپنے اہم ترین کردار کا ادراک تھا۔

پاک فضائیہ کے مقابلے میں بھارتی فضائیہ کے پاس زیادہ بڑا بحری بیڑا موجود تھا، جب کہ جنگی طیارے اور وسائل بھی کثیر تھے۔ بھارتی جنگی طیّاروں میں ویمپائر، مِگ21، ہَنٹر اور فولینڈ نیٹ وغیرہ شامل تھے، جب کہ اس کے برعکس پاک فضائیہ کے پاس کم اسکواڈرنز تھے اور اس کا زیادہ تر انحصار امریکا کے فراہم کردہ ایف86، سیبرز بی57بم بار طیّاروں اور ایف104 اسٹار فائٹرز پر تھا۔

ہتھیاروں کے اس عدم توازن کے پیشِ نظر پاک فضائیہ کے لیے ہر محاذ پربے پناہ خطرات موجود تھے اور ہر پائلٹ کو اپنے محدود وسائل سے زیادہ سے زیادہ کارکردگی دکھانی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس موقعے پر پاک فضائیہ کی قیادت اور پائلٹس نے دشمن کی دفاعی طاقت سے دہشت زدہ ہونے کی بجائے ہمّت و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دُرست حملوں اوردفاعی چالوں پر توجّہ مرکوز رکھی، جس نے دُشمن کےعددی برتری کو بےاثر کردیا۔

1965ء کی جنگ میں پاک فضائیہ نے اپنی جنگی مہارت اور حربی حکمتِ عملی کے باعث دُشمن پر اپنی دھاک بٹھائی۔ جنگ کے دوران ایم ایم عالم، سجاد حیدر، سرفراز رفیقی اور سیسل چوہدری جیسے ہوا بازوں نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا اور اپنی مہارت اور ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے متعدد بھارتی جنگی طیّارے گرائے۔ ان جاں باز پائلٹس نے سیبر طیّارے کی پُھرتی کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ ریڈار سے بچنے کے لیے نچلی سطح پر پرواز کی اور قابلِ تحسین نظم وضبط کے ساتھ مختلف محاذوں کو مربوط کیا۔

ان جنگی مہارتوں کے سبب ہی پی اے ایف کو اپنی استعداد سے کہیں بڑھ کر کارکردگی دِکھانے کا موقع دیا اور اس کی فتوحات نے نہ صرف دُنیا کو حیران کر دیا بلکہ اقوامِ عالم میں پاکستان کے اس تاثر کو مضبوط کیا کہ اس کے محافظ محض اپنی ذہانت اور بہادری کے بل بوتے پرخُود سے کئی گُنا بڑے دشمن کو دُھول چاٹنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔

شاہینِ پاکستان: ایم ایم عالم

7 ستمبر1965ء کو ایم ایم عالم نے فضائی جنگ کی تاریخ میں اپنا نام ایک ایسے کارنامے کے ساتھ نقش کر دیا کہ جس کی آج تک نظیر نہیں ملتی۔ اُس روز انہوں نے سرگودھا کی فضاؤں میں ایک تیز رفتارایف86 سیبر طیّارے کو اُڑاتے ہوئے بھارتی ہاکر ہنٹر طیّاروں کے ایک فارمیشن کا سامنا کیا اور جرأت و بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک منٹ کے اندر 5 بھارتی طیّارے گرا دیے۔

اس ناقابلِ یقین معرکہ آرائی نے نہ صرف فضائی بالادستی کا پلڑا پاکستان کےحق میں جُھکا دیا بلکہ یہ جنگ کا ایک فیصلہ کُن موڑ بھی بن گیا، جس نے یہ بتا دیا کہ مہارت اور عزم کی مدد سے، عددی برتری کے باوجود دشمن کو زیرکیا جا سکتا ہے اور پھر جنگِ ستمبر میں پاکستان کی فتح کے بعد ایم ایم عالم کا نام نہ صرف قومی فخر کی علامت بن گیا بلکہ پوری دُنیا کی فضائیہ میں ہمیشہ کے لیے اَمر ہوگیا۔

پٹھان کوٹ کا ہیرو: ایئر کموڈور سجاد حیدر

ایئر کموڈور (ر) سجاد حیدر کا شمار 1965ء کی پاک، بھارت جنگ کے بہادر ترین جاں بازوں میں ہوتا ہے اور انہیں پٹھان کوٹ ایئر بیس پر ان کے جری حملے کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے۔ جنگِ ستمبر کے دوران سجاد حیدر نے اپنے ایف 86 سیبر طیاروں کے اسکواڈرن کی قیادت کرتے ہوئے بھارتی فضائی حدود میں داخل ہوگئے اور زمین پر کھڑے متعدد بھارتی جنگی طیاروں کو تباہ کر کے دشمن افواج کی رسدی کا سلسلہ مفلوج کر دیا۔

سجاد حیدر کی یہ کارروائی نہ صرف ایک بڑی جنگی کام یابی تھی بلکہ بھارتی فضائیہ پر ایک نفسیاتی ضرب بھی تھی، جس نے ثابت کیا کہ پاک فضائیہ اپنے مختصر سے فضائی بیڑے کے باوجود بھی دشمن کے بنیادی ڈھانچے کے مرکز کو کام یابی سے نشانہ بنا سکتی ہے۔

اس واقعے کے بعد پٹھان کوٹ حیدر کی بے خوف قیادت کی علامت بن گیا اور اس نے دشمن پر حقیقت بھی عیاں کردی کہ پاک فوج صرف اپنی سرحدوں کی دفاع تک محدود نہیں بلکہ وہ بوقتِ ضرورت دشمن کی سرزمین میں داخل ہو کر اُس کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بھی بنا سکتی ہے۔

علاوہ ازیں،  1965ء کی جنگ کےدوران ایئر کموڈور سجاد حیدر نے شہرِ لاہور کے دفاع میں بھی اہم کردار ادا کیا، جہاں اُن کے اسکواڈرن نے دشمن کی پاکستان کے ثقافتی اور اسٹریٹجک مرکز کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کو ناکام بنایا۔ جنگ کے دوران سجاد حیدر کی جارحانہ حکمتِ عملی اور منظّم کمانڈ نے اس بات کو یقینی بنایا کہ لاہور محفوظ رہے اور ایک ایسے وقت میں پاک فوج کے جوانوں کے حوصلے کو بلند کیا کہ جب اس شہر کا سقوط پورے مُلک کے لیے تباہ کُن ثابت ہوتا۔

وہ اپنی کتاب، ’’شاہین کی پرواز‘‘ میں جنگِ ستمبر کے حالات و واقعات کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ’’بہادری خوف کا عدم وجود نہیں بلکہ اس پر قابو پانا ہے اور قیادت کا مطلب سخت مشکلات کے باوجود اعتماد کو ابھارنا ہے۔‘‘

اسی طرح یومِ دفاع کی اہمیت سے متعلق اُن کا ماننا ہے کہ ’’ہمیں یہ دن محض ایک رسم کے طور پر نہیں منانا چاہیے بلکہ اس سے اتحاد، نظم و ضبط اور بےداریٔ مغز کا لازوال سبق حاصل کرنا چاہیے۔‘‘ ایئر کموڈر (ر) سجاد حیدر کے یہ نادر خیالات ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ 1965ء کی جنگ کی حقیقی میراث اُن لوگوں کے اجتماعی جذبے میں پنہاں ہے کہ جنہوں نے ہمارے وطن کی حفاظت کی، اور جن میں سے بہت سے ہیروز گُم نام بھی رہ گئے۔

1965ء کی جنگ کے گُم نام ہیروز

اس موقعے پر ہمیں جنگِ ستمبر میں حصّہ لینےاور قربانیاں پیش کرنے والے گُم نام ہیروز کی خدمات کا اعتراف کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ پاک فضائیہ کے افسران اور جوانوں کی زندگی، خدمات اور جنگی کارناموں پر مبنی ایک اہم کتاب،A Saga of PAF’s Gallant Air Warriors: Sentinels in the Skyکے مصنّفین، کرنل (ر) اعظم قادری اور گروپ کیپٹن محمد علی نے اپنی اس تصنیف میں خاصے جامع انداز میں ان گُم نام ہیروز کو خراجِ عقیدت و تحسین پیش کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ 10ستمبر 1965 کو اسکواڈرن لیڈر، منیرالدین احمد شہید نے، جو سرگودھا میں وِنگ آپریشنز آفیسر کے عُہدے پر فائز تھے، غیر معمولی قیادت اور فضائی مہارت کا مظاہرہ کیا۔

وہ بےخوف ہوکر اپنے فارمیشن کو فیروزپور کے قریب بھارتی فضائی حدود میں گہرائی تک لے گئے اور نہایت کام یابی سے بھارتی فضائیہ کے ایک جی این اے ٹی لڑاکا طیّارے کو نشانہ بنا کر مار گرایا۔ انہوں نے نہ صرف دُشمن کو نقصان پہنچایا بلکہ اپنے ساتھیوں کے جنگی جذبے کو بھی مہمیز دی۔ اسکواڈرن لیڈر منیرالدین کی غیر معمولی بہادری اور جنگی مہارت پرانہیں بعد ازمرگ ستارۂ جرأت سے نوازا گیا۔

13 ستمبر 1965ءکو اسکواڈرن لیڈر علاؤالدین شہید(ستارۂ جرأت) گورداس پورسیکٹر میں گولا بارود سے بھری ٹرین کو تباہ کرنے کے ایک انتہائی خطرناک مِشن کی قیادت کررہے تھے۔ اُنہوں نے کام یابی سے اُس ٹرین کو نشانہ بنایا اور اُس کا ملبہ اُن کے طیّارے ایف 86سیبرطیارے سے جا ٹکرایا۔

تاہم، وہ محفوظ رہے لیکن جب وہ پیراشوٹ کے ذریعے زمین کی جانب آ رہے تھے، تو اُنہیں دشمن نے گولی سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ درجۂ شہادت پر فائز ہوئے۔ اسکواڈرن لیڈر علاؤالدین شہید کے آخری لمحات کی تفصیلات اُن کے ساتھی اور عینی شاہد، ایئر کموڈور(ر) سجاد حیدر نے اپنی کتاب، ’’شاہین کی پرواز‘‘ میں درج کی ہیں۔

اسی طرح1965ء کی پاک، بھارت جنگ کے دوران اسکواڈرن لیڈر، جمال احمد خان نے 29فضائی دفاعی مِشنز میں حصّہ لیا اور21ستمبر 1965ء کوایف104 اسٹارفائٹر کے ذریعے فاضلکہ (Fazilka) کے قریب رات کے وقت بھارتی فضائیہ کے کینبرا بم بار طیارے کو مار گرایا، جس کے لیے انہیں ستارۂ جرأت سے نوازا گیا۔ 

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ یہ ایف104 اسٹارفائٹر کے ذریعے دُنیا کا واحد تصدیق شدہ رات کا جنگی مقابلہ تھا۔ بعدازاں، جمال احمد خان نے 1985ء سے 1988ء تک پاک فضائیہ کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیں اور وہ 1965 ءاور1971ء کی جنگوں کے ایک انتہائی کام یاب جنگی ہوا باز کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔

1965ءکی جنگ کے دوران اُس وقت کے فلائٹ لیفٹیننٹ دلاور حسین نے پی اے ایف بیس پشاور کے اسکواڈرن نمبر19میں لڑاکا پائلٹ کے طور پر خدمات انجام دیں اور انہوں نے پٹھان کوٹ ایئر فیلڈ پر حملے کو کام یاب بنانے میں کلیدی کرداراد کیا۔ انہوں نے 6ستمبر1965ء کو ایف 86 سیبر طیّارہ اُڑاتے ہوئے ایک انتہائی جرأت مندانہ اجتماعی منظّم حملے میں حصّہ لیا، جس نے پٹھان کوٹ میں بھارتی فضائیہ کی زمینی آپریشنل صلاحیتوں کو مفلوج کر دیا۔

بعدازاں، دلاور حسین کوجنگِ ستمبر میں اُن کی بہادری پر ستارۂ جرأت سے نوازا گیا، جب کہ اپنے شان دار کیریئر کے دوران انہوں نےہلالِ امتیاز (ملٹری) اور ستارۂ بسالت بھی حاصل کیے۔ بھارت کے خلاف جنگ کے دوران اُس وقت کے وِنگ کمانڈر، نذیر لطیف (بعد میں ایئرکموڈور) نے بھارتی ایئر فیلڈز کے خلاف بلند اور نچلی سطح کے بم بار مِشنز کی رہنمائی کی۔

وہ دشمن کی شدید فضائی بم باری کے باوجود غیر معمولی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے تباہ شُدہ طیّارے اپنی سرزمین پر واپس لائے۔ ان جنگی کارروائیوں کے دوران اُنہوں نے اپنے اہداف کو نہایت خُوب صُورتی سے نشانہ بنایا اور اُن کی اس جنگی مہارت کے سبب انہیں ‘‘ستارۂ جرأت‘‘ سے نوازا گیا۔