• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

والدہ کی آخری رسومات میں شرکت نہیں کر سکی: جیا علی

---تصویر بشکریہ سوشل میڈیا
---تصویر بشکریہ سوشل میڈیا

پاکستانی اداکارہ اور ماڈل جیا علی نے اپنی زندگی کے ایک انتہائی تکلیف دہ دور کا ذکر کرتے ہوئے والدہ کے انتقال اور ان کی آخری رسومات میں شرکت نہ کرنے کے حوالے سے اہم انکشافات کیے ہیں۔

ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے جیا علی نے اپنی زندگی، کیریئر، شادی اور والدین سے متعلق گفتگو کی، والدہ کی بیماری اور انتقال کا ذکر کرتے ہوئے اداکارہ جذباتی ہو گئیں اور آبدیدہ نظر آئیں۔

جیا علی نے بتایا کہ میری والدہ شدید بیمار رہنے کے بعد انتقال کر گئی تھیں، انہوں نے عمر کے آخری حصے تک کام کیا اور اپنی صحت پر توجہ نہ دے سکیں، والدہ کے انتقال کا صدمہ میں کئی برس تک قبول نہیں کر سکی۔

انہوں نے بتایا ہے کہ آج بھی مجھے افسوس ہے کہ میں اپنی والدہ سے اس طرح کھل کر محبت کا اظہار نہیں کر سکی جس کی وہ مستحق تھیں۔

جیا علی کا کہنا ہے کہ والدہ نے بچوں کی پرورش اور خاندان کی کفالت کے لیے بہت سی قربانیاں دیں، وہ مسلسل کام کرتی رہیں اور خاندان کی ذمے داریاں اٹھاتے اٹھاتے اپنی ذات اور جذبات کو پسِ پشت ڈال دیا۔

اداکارہ نے بتایا کہ والدہ بڑھاپے میں انتہائی علیل ہو گئیں اور ایک وقت میں کوما میں بھی چلی گئی تھیں، والدہ کی زندگی کے آخری برسوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنا میرے لیے انتہائی تکلیف دہ تجربہ تھا، جس کی یادیں آج بھی ذہن میں تازہ ہیں۔

جیا علی نے بتایا کہ جب میں اسلام آباد میں تھی تو مجھے والدہ کے انتقال کی اطلاع ملی، خبر سنتے ہی میں ایسی کیفیت میں چلی گئی جیسے مجھے کچھ سمجھ ہی نہ آ رہا ہو اور ذہن یہ تسلیم کرنے سے انکار کر رہا تھا کہ میری والدہ اب دنیا میں نہیں رہیں۔

اداکارہ کا کہنا ہے کہ میں نے والدہ کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے لاہور جانے کے بجائے کام کے سلسلے میں کراچی کا رخ کیا، اہلِ خانہ نے مجھ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے، جس کے باعث خاندان نے دو روز بعد والدہ کی تدفین کر دی۔

انہوں نے بتایا کہ اس دوران نہ میں رو سکی اور نہ ہی کوئی ردِعمل دے سکی، مجھے حقیقت کو قبول کرنے میں تقریباً 4 دن لگے کہ والدہ اب ہمارے درمیان نہیں رہیں۔

جیا علی نے اس دور کو اپنی زندگی کے تاریک ترین ادوار میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ والدہ کے انتقال کے بعد مجھے ایلوپیشیا (بال جھڑنے کی بیماری) اور ڈپریشن کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید