چربی کم کرنے کے لیے ہر قسم کی ورزش یکساں مؤثر نہیں ہوتی، ورزش کی شدت، جوڑوں پر دباؤ، جسم کو درکار آرام اور کیلوریز کے استعمال کے لحاظ سے مختلف ورزشوں کے نتائج مختلف ہو سکتے ہیں۔
دفتری کام کرنے والے افراد کو فٹنس کی تربیت دینے ماہرین نے چربی گھٹانے کے لیے مختلف ورزشوں کی درجہ بندی کی ہے۔
ان کے مطابق مستقل مزاجی، مناسب ورزش اور متوازن غذا وزن کم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
فٹنس ماہرین کے مطابق چہل قدمی کم شدت کی ورزش ہے، جوڑوں پر بہت کم دباؤ ڈالتی ہے اور چہل قدمی کرنے سے جسم کو زیادہ آرام کی ضرورت نہیں ہوتی، اسے تقریباً کسی بھی وقت اور جگہ آسانی سے کیا جا سکتا ہے، اس لیے اسے مستقل طور پر جاری رکھنا آسان ہے۔
فٹنس کوچ نے اسے چربی گھٹانے کے لیے اپنی پسندیدہ ورزش قرار دیا ہے۔
ڈھلوان پر اوپر کی جانب چلنے سے دل کی دھڑکن اور کیلوریز کا استعمال بڑھتا ہے جبکہ بھاگنے کے مقابلے میں جوڑوں پر دباؤ کم رہتا ہے، اس دوران کولہوں اور پنڈلیوں کے پٹھے بھی زیادہ متحرک ہوتے ہیں۔
یہ ٹانگوں اور کولہوں کے پٹھوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ کم وقت میں زیادہ کیلوریز خرچ کرنے میں مدد دیتی ہے۔
ماہرین کے مطابق 10 سے 15 منٹ کی ورزش بھی محدود وقت رکھنے والے افراد کے لیے مؤثر ثابت ہوتی ہے۔
تیراکی پورے جسم کی کم دباؤ والی ورزش ہے اور جوڑوں کے لیے نسبتاً نرم رہتی ہے۔
زیادہ وزن رکھنے والے افراد جنہیں چلنے میں تکلیف محسوس ہوتی ہو ان کے لیے یہ ایک اچھا متبادل ہو سکتی ہے تاہم ہر شخص کے لیے تیراکی کی سہولت دستیاب ہونا ممکن نہیں، اسی وجہ سے اسے اعلیٰ ترین درجے میں شامل نہیں کیا گیا۔
یہ جوڑوں پر کم دباؤ ڈالنے والی اچھی ورزش ہے اور ٹانگوں کی برداشت بڑھانے میں مدد دیتی ہے تاہم طویل عرصے تک بیٹھنے سے کولہوں کے اگلے حصے کے پٹھوں میں کھنچاؤ پیدا ہو سکتا ہے جبکہ کھڑے ہو کر کی جانے والی بعض ورزشوں کے مقابلے میں کیلوریز کا استعمال نسبتاً کم ہو سکتا ہے۔
دوڑنے سے فی منٹ زیادہ کیلوریز خرچ ہوتی ہیں لیکن یہ جسم اور جوڑوں پر زیادہ دباؤ ڈالتی ہے اور بحالی کے لیے زیادہ وقت درکار ہوتا ہے، خاص طور پر زیادہ وزن رکھنے والے افراد میں ضرورت سے زیادہ دوڑنے سے پنڈلیوں میں درد، گھٹنوں کے مسائل، پٹھوں میں کمی اور بھوک میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔
رسی کودنے سے کافی کیلوریز خرچ ہوتی ہیں، یہ جسم کی چربی پر زیادہ اثر انداز ہونے والی ورزش ہے اور اس کے لیے مناسب مہارت بھی درکار ہوتی ہے، اسی لیے اسے روزانہ طویل دورانیے کی چربی گھٹانے والی بنیادی ورزش کے بجائے مختصر وارم اپ یا مہارت کی مشق کے طور پر بہتر قرار دیا گیا ہے۔
اس ورزش کو چربی گھٹانے کے لیے بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہے لیکن فٹنس کوچ کے مطابق اسے ضرورت سے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ مختصر اور انتہائی سخت ورزش ہے جس کے بعد جسم کو زیادہ آرام درکار ہو سکتا ہے، عام افراد کے لیے صرف چربی گھٹانے کی خاطر اسے بار بار کرنا ضروری نہیں۔
فٹنس ماہرین کے مطابق 45 منٹ کی ڈھلوان پر چہل قدمی کے مقابلے میں زیادہ تر افراد اتنی دیر تک حقیقی طور پر انتہائی تیز شدت والی ورزش برقرار نہیں رکھ سکتے کہ مجموعی کیلوریز کے استعمال میں واضح برتری حاصل ہو۔
فٹنس کوچز نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی ورزش سے بہت زیادہ کیلوریز خرچ ہونے کے باوجود چربی کم ہونا ضروری نہیں۔
وزن اور جسم کی چربی کم کرنے کے لیے مجموعی طور پر ایسی غذائی اور جسمانی عادات اپنانا ضروری ہیں جن کے نتیجے میں جسم کو حاصل ہونے والی کیلوریز، خرچ ہونے والی کیلوریز سے کم ہوں۔
فٹنس ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقل مزاجی کے ساتھ مناسب ورزش اور کیلوریز میں کمی ہی چربی گھٹانے کی بنیادی شرط ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔