کچھ اور کہنے سے پہلے ایک بات بالکل صاف کر دوں۔ پاکستانی سیاست کی روزمرہ مشینری کے بارے میں معتبر صحافی مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔ مجھے معلوم یہ ہے کہ مسائل ہیں۔ نظام کے اندر تناؤ ہے، اور یہ بھی کہ درجن بھر کام اس سے کہیں بہتر انداز میں ہو سکتے تھے جس طرح ہو رہے ہیں۔ لیکن مجھے اسی وقت کچھ اور بھی ہوتا دکھائی دیتا ہے اور اسے اتنی توانائی کے ساتھ رپورٹ نہیں کیا جا رہا۔
پاکستان ایک بار پھر عالمی سرمائے کے ساتھ سنجیدہ گفتگو کر رہا ہے۔ عالمی مالیات میں جو لوگ اہمیت رکھتے ہیں وہ بیٹھ کر سننے پر آمادہ ہیں۔ تعلقات دوبارہ تعمیر ہو رہے ہیں۔ دروازے کھل رہے ہیں اور یہ دروازے اسلیے نہیں کھلتے کہ کوئی اسلام آباد میں اچھی تقریر کر دیتا ہے۔ وہ اس وقت کھلتے ہیں جب میز کی دوسری طرف بیٹھے لوگ یہ ماننے لگتے ہیں کہ ملک دوبارہ قابلِ حکمرانی ہوتا جا رہا ہے۔پاکستان بہتر راستے پر اس لیے نہیں ہے کہ کسی نے کوئی جادوئی معاشی فارمولا دریافت کر لیاہے۔ ایسا کوئی فارمولہ نہیںہوتا۔ یہ بہتر راستے پر اسلیے ہے کہ فی الحال مشین کے کافی حصے کام کررہے ہیں اور یہ اسی لمحے اس پٹڑی سے اتر جائیگا جب وہ کام بند کر دینگے۔
یہی وہ نکتہ ہے جو تقریباً سب سے چھوٹ جاتا ہے۔ معاشی استحکام کوئی منزل نہیں جس پر پاکستان پہنچ چکا ہو۔ یہ وہ چیز ہے جسے ہر صبح نئے سرے سے تیار کرنا پڑتا ہے۔ ذخائر پر نظر رکھنی پڑتی ہے۔ قرض کو رول اوورکرنا پڑتا ہے۔ آئی ایم ایف کے وعدےسنبھالنے پڑتے ہیں۔ بجلی کے شعبے کو سہارا دینا پڑتا ہے۔ صوبوں کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے۔ سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ اور سویلین حکومت کو ایک ہی کمرے میں بیٹھنے کے قابل رہنا پڑتا ہے۔ چین کو ٹھیک ٹھیک معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کس سے معاملہ کر رہا ہے، خلیج کو تعلق پر اعتماد برقرار رکھنا چاہیے، واشنگٹن کو مصروفِ کار رہنا چاہیے، اور عالمی بینکوں اور سرمایہ کاروں کو یقین ہونا چاہیے کہ اب سے چھ ماہ بعد بھی کوئی ٹیلی فون اٹھانے والا موجود ہو گا۔ ان میں سے تین گیندیں بیک وقت گرا دیجیے اور دیکھیے کہ ملک کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ میں پاکستانی تبصرہ نگاری کے مستقل اپوزیشن مکتب سے بیزار ہوں۔ انکےتئیں ہر صبح پاکستان بظاہر تباہی سےصرف چھ ہفتے دور ہوتا ہے۔تنقید ناگزیر ہے لیکن مستقل مخالفت تنقید نہیں۔میں نے حکومتوں کو آتے جاتے دیکھا ہے کہ جان سکوں یہ جملہ کتنا دلفریب ہو سکتا ہے کہ انہیں گرا دو۔ بہت اچھا۔ گرا دیجیے۔ پھر کیا؟ قرض، آئی پی پیز معاہدے، صوبے، آئی ایم ایف، قرض خواہ، توانائی کا مسئلہ،، ٹیکس کے جھمیلے، پانی کا مسئلہ، جغرافیہ اور آبادی باقی رہتی ہے۔ اگلی صبح نو بجے کسی کو پھر بھی پاکستان چلانا ہے، اور ان میں سے ہر ایک فائل اسی میز پر، اسی حالت میں، دستخط کی منتظر پڑی ہو گی۔ پوری پاکستانی بحث میں حکمرانی سب سے زیادہ نظرانداز کیا جانے والا عنصر ہے۔ ہم شخصیات دیکھتے ہیں اہلیت نہیں۔جدید حکمرانی اب کارپوریٹ گورننس مختلف نہیں رہی ۔ملک ایک ادارہ ہے۔ اس کی بیلنس شیٹ ہے، اسکے قرض خواہ ہیں، واجبات ہیں، اثاثے ہیں، نقد بہاؤ ہے، اور اس کے حصے دار ہیں جنہیں ہم عوام کہتے ہیں اور جس طرح کسی بھی ادارے میں، سب کچھ اس بات پر آ کر ٹھہرتا ہے کہ آپ نے انتظامیہ میں کسے بٹھایا ہے۔
ثبوت ڈھونڈنے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں۔ بزدار اسکول آف مینجمنٹ سے ایک شخص لائیے آپکو دو ہزار اٹھارہ سے دو ہزار بائیس تک کا پنجاب مل جائیگا۔ وہی صوبہ، وہی وسائل، وہی محصولات کی بنیاد، وہی افسر شاہی، وہی آبادی، وہی نہریں، وہی صنعتی پٹی۔ کچھ نہیں بدلا تھا سوائے اسکے کہ فائل پر دستخط کون کر رہا تھا۔ اسی صوبے میں بہتر حکمرانی رکھ دیجیے اور وہی صوبہ فوربز میں زیرِ بحث آتا ہے، صرف انتظامی صلاحیت بدلنے سے۔ہم ملک کے ساتھ یہی کرتے ہیں اور پھر نتائج پر حیران ہوتے ہیں۔ حکومتیں گرانا صرف صحافیوں اور سیاست دانوں کی عادت نہیں رہی۔ اسٹیبلشمنٹ نے خود بارہا یہ فیصلہ کیا، اور ہر بار اس کی قیمت ادا کی۔جنرل ضیاءنے جونیجو کو برطرف کیا تو کیا ہوا؟شفیقہ ضیاء نے نواز شریف کو بتایا تھا کہ اسکے بعد جنرل ضیاء گھنٹوں اس لان پر ٹہلتے رہتے تھے۔ مشرف ، جمالی کے بعد وہ سیاسی طور پر یتیم ہو گئےتھے۔یہ اسباق ضائع نہیں ہوئے۔ میں یہ نہیں مانتا کہ اسٹیبلشمنٹ اب یہ خطرہ دوبارہ مول لے گی۔سر دست مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نظام کا وزن اٹھائے ہوئے ہیں۔یہی وہ نکتہ ہے جس پر میںزور دینا چاہتا ہوں کہ سیاسی شرکت کے بغیر حکمرانی ممکن نہیں۔ قومی اسمبلی کو کام کرنا ہو گا۔ سینیٹ کو کام کرنا ہو گا۔ صوبائی اسمبلیوں کو کام کرنا ہو گا۔ آپ اس بندوبست کو جو بھی نام دیں، جتنا بھی ہائبرڈ کہیں، راستہ یہی ہے ۔ فیصلے وہیں ہونے چاہئیں جہاں ان کی جوابدہی موجود ہو۔ ورنہ فیصلہ کرنے والا اکیلا رہ جاتا ہے اور آخرکار لان پر ٹہلتا ہے۔
پاکستان آج بہتر سمت میں بڑھ رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اسی سمت میں بڑھتا رہے گا۔ یہ بہتری فعال انتظام کا ثبوت ہے ۔سو اس حکومت پر تنقید کیجیے۔ بہتر فیصلوں کا مطالبہ کیجیے۔ قرض کی تشکیلِ نوپر بات کیجیے۔ آئی پی پیز کے بوجھ کا سامنا قانونی اور تجارتی طور پر کرنے کا سوال کیجیے۔ بہتر ٹیکس، بہتر توانائی پالیسی، بہتر انتظامیہ اور ہر سطح پر زیادہ اہلیت کا مطالبہ کیجیے۔لیکن تخریب کو اصلاح مت سمجھیے۔ان لوگوں کو کم مت جانیے جو مشین کو چلتا رکھے ہوئے ہیں۔ ہمیں حکومت گرانےسے کہیں مشکل فن میں مہارت درکار ہے، ملک کو چلتا رکھنے کے فن میں۔