پمز اسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14نومولود معصوم بچوں کی اندوہناک ہلاکت کا دلخراش واقعہ نہ صرف متاثرہ خاندانوں کیلئے غم اور رنجیدگی کا باعث ہے بلکہ پوری قوم اِس سانحہ پر سوگوار ہے۔ اس واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں وزیراعظم کے حکم پر آٹھ ذمہ داران کو معطل کر کے محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور فوجداری قانون کے تحت بھی کارروائی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پمز اسپتال میں آتشزدگی کا واقعہ کوئی پہلا حادثہ نہیں بلکہ اس سے قبل بھی اِسی طرز کے کئی بھیانک واقعات رُونما ہو چکے ہیں۔ 30جون 2026ء کو کراچی کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کے ICU میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تاہم کوئی جانی نقصان نہ ہوا۔
09 نومبر 2025ء کو سیہون کے سید عبداللہ شاہ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائینسز میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا۔ 18اکتوبر 2025ء کو کراچی کے ضیاء الدین ہسپتال میں آتشزدگی ہوئی۔ 8جون 2024ء کو ساہیوال کے ٹیچنگ ہسپتال میں بدترین آتشزدگی نے 11نومولود بچوں کی جان لے لی۔ 11فروری 2024ء کو کراچی کے سندھ گورنمنٹ اسپتال لیاقت آباد کے ایمرجنسی وارڈ میں آگ لگنے کے واقعہ میں چار افراد جل کر راکھ ہو گئے۔ 17مئی 2023ء کو لاہور کے چلڈرن ہسپتال میں آگ لگنے کے واقعے میں ایک نومولود جاں بحق اور کئی زخمی ہو گئے۔23 ستمبر 2022ء کو نارووال کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں آگ بھڑک اُٹھی جس میں 40 بچے اور پانچ خواتین بری طرح متاثر ہوئے ۔
23 مئی 2021ء کو سیالکوٹ کے گورنمنٹ سردار بیگم میموریل ہسپتال میں آگ لگنے سے 15 معصوم بچے بری طرح متاثر ہوئے۔7 مارچ 2021ء کو لاہور کے میو ہسپتال میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا۔ 13جون 2020ء کو لاہور کے سروسز ہسپتال میں آگ لگنے سے ایک خاتون جاںبحق جبکہ آٹھ افراد زخمی ہو گئے۔ 10مئی 2020ء کو راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا ۔6جون 2018ء کو مانسہرہ کے سول ہسپتال میں آتشزدگی ہوئی۔ 3 اگست 2017ء کو سیالکوٹ کے علامہ اقبال ہسپتال میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا۔ 17 جولائی 2016ء کو دادو کے ایک ہسپتال میں گیس سلینڈر پھٹنے سے درجنوں افراد جھلس گئے ۔10 فروری 2014 ء کو ملتان کے نشتر ہسپتال میں آگ لگنے سے 6 افراد بری طرح متاثر ہوئے۔ 13 جولائی 2013ء کو فیصل آباد کے الائیڈ ہسپتال میں آگ بھڑکنے سے دو معصوم بچے بری طرح متاثر ہوئے۔ 7جون 2012ء کو لاہور کے سروسز ہسپتال میں آتشزدگی میں چار نو مولود جل گئے جبکہ 17 بری طرح زخمی ہو گئے۔ 19نومبر 2010ء کو لاہور کے میو ہسپتال میں آتشزدگی سے درجنوں افراد متاثر ہوئے ۔5اکتوبر 2010ء کو لاہور کے سروسز ہسپتال میں آگ لگنے سے دو افراد جھلس گئے۔
مقامِ افسوس ہے کہ ہماری تاریخ آتشزدگی کے بدترین واقعات سے بھری پڑی ہے۔ 11ستمبر 2012ء کو بلدیہ ٹاؤن کراچی میں ایک گارمنٹس فیکٹری میں بدترین اور ہولناک آگ نے چند لمحوں میں کم و بیش 27افراد کی جان لے لی اور درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔ گُل پلازہ کراچی کا واقعہ تو ابھی کل ہی کی بات ہے کہ آگ لگنے سے کم و بیش 80افراد جل کر خاکستر ہو گئے۔2017ء میں بہاولپور کے قریب نیشنل ہائی وے پر ایک آئل ٹینکر اُلٹ گیا ارد گرد کے علاقوں سے لوگوں نے وہاں بہتا ہوا تیل جمع کرنا شروع کر دیا۔ اِسی دوران اچانک آگ بھڑک اُٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے 200سے زائد افراد جن میں بچے اور خواتین بھی شامل تھے جل کر کوئلہ ہو گئے۔ پمز ہسپتال کے دل سوز واقعے نے اِس طرح کے پرانے تمام زخم ہرے اور تازہ کر دیئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ تمام واقعات کیسے اور کیوں ہوئے اور ذمہ داران کو کیا سزا دی گئی؟ یقیناً اِس سوال کا تسلی بخش جواب کسی کے پاس موجود نہیں ۔وقوعہ ہوا، انسانی جانیں گئیں، انکوائری کمیٹی بنی، ذمہ داران کو عہدے سے ہٹایا گیا (یعنی کہ ٹرانسفر کر دیا گیا) یا زیادہ سے زیادہ معطل کر دیا گیا، بات ختم اور فائل ہمیشہ کیلئے بند ہو گئی۔
واضح رہے کہ سرکاری ملازم کو عرصہ معطلی کے دوران کوئی کام کاج کیے بغیر پوری تنخواہ ملتی ہے۔ آخر یہ سب کب تک چلے گا اور کب تک انسانی جانیں غفلت ولاپرواہی کی بھینٹ چڑھتی رہیں گی۔ کب تک لوگوں کے گھر برباد ہوتے رہیں گے اور کب تک لوگ اپنے پیاروں کی لاشیں اُٹھاتے رہیں گے۔ یقیناً کسی بھی حادثے کی بنیادی وجہ غفلت و لا پرواہی ہوتی ہے جبکہ سرکاری ملازمین کے ہاتھوں غفلت کی بنیادی وجہ احساسِ عدم احتساب ہوتا ہے۔ اب وقت آن پہنچا ہے کہ ہسپتالوں سمیت تمام عوامی مقامات پر حفاظتی انتظامات اور احتیاطی تدابیر لاگو کرنے، انسانی غفلت و لاپرواہی کے امکانات مکمل طور پر ختم کرنے اور کوئی وقوعہ سرزد ہو جانے پر ذمہ داران کے کڑے احتساب کو یقینی بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔