• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ابھی نومولود بچوں کے المیے کو میں نظم میں ڈھال رہی تھی ،لکھتے ہوئے ہر سطر پر کسی بچے کی ڈوبتی آوازآتی ’’اماں مجھے گود میں لے لو‘‘ مگر انتظامیہ تھی کہ آگ کو پکڑ نہیں سکتی تھی۔ آگ تو نونہالوں کو اپنی گرفت میں لے کر خدا کے پاس بھیج رہی تھی۔ یاد آتا ہے کہ آگ لگنے سے آدھے گھنٹے بعد تو بجھانے والی ٹیم پہنچی اور والدین بےخبر منتظر تھے کہ اگلا دن ہوگا تو ہمارا بچہ ہماری گود میں ہوگا ۔ آدھے گھنٹے میں سارا میڈیا سارے کیمرے اور سارے صحافی پمز پہنچ چکے تھے البتہ ڈیوٹی اسٹاف شاید چائے پی رہا تھا یا باتیں کررہا تھا۔ بچوں کی نرسری کےپاس صرف ایک نرس تھی جس نے خوش قسمت بچے کو گود میں لے کر آگ میں سے نکالا۔

اب سرکار کا آرا چلنا شروع ہوا کہ اس اس کو نکال دو، یہ تو بتاؤ آگ کب لگی کیسے لگی خود بخود لگ گئی کہ کسی نے شرارت کی کہ رات کی ڈیوٹی پر کوئی ہوتا ہے کہ نہیں سوالوں کی یلغار میں پتا نہیں چل رہا تھا گناہگار کون ہے ؟سارے سوگوار والدین موجود تھے۔ بلبلا رہے تھے کہ اپنےبچے کو دیکھ سکیں گود میں لےلیں مگر وہاں تو آپا دھاپی پڑی تھی کہ باقی وارڈز میں بھی یہ سنسنی پھیلی ہوئی تھی کہ اب کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ8ڈاکٹروں کو نکال دو ۔ جرم ثابت کیسے ہوا، ان کو تو محنت کرنے اور ہنس کھیل کر مریضوں کو مسکراہٹ دلوانی تھی۔

یاد رکھو کہ وزیر داخلہ نے اچانک بے ساختہ کیا کہا تھا کہ یہ سسٹم، صوبے یہ بادشاہت یہاںڈاکٹر سے لے کر چپراسی تک کام کیا کرتے تھے لگتا تھا پکنک پر آئے ہوئے ہیں۔ لیڈی ڈاکٹرز نت نئے فیشن کے کپڑے پہنے ادھر سے ادھر ہنستی کھیلتی دکھائی دیتی تھیں یہ رویہ ، یہ ماحول کسی ایک اسپتال میں نہیں سارے بڑے شہروں کے بڑے خاندانوں کی سفارش سے لگے لوگ کسی چھوٹے کو گھاس نہیں ڈالتے ۔اگر کوئی مریض ضد کرے تو آگے سےکہنا ’’اب جاؤ شام کو کلینک میں آنا‘‘

اب آئیے ہر گلی ہر سیکٹراورہر بلڈنگ میں دس دس بورڈ ڈاکٹروں کے لگے دکھائی دیتے ہیں ۔ آپ کہیں گے تنخواہیں کم ہیں شام کو کلینک لازمی ہے کچھ پیسہ کمانے کے لئے ۔اگر ڈاکٹروں کو چھوڑدیں ہر تیسرا بورڈ وکیل کا ہوتا ہے ۔ ویسے ساری ترقی کے نام پر پھیلاؤ کے باوجود، بڑے شہروں میں بھی گھر پر ہی ڈلیوری کروانا،دیہاتوں کی طرح بہت عام ہے۔ سب لوگوں کو پتا ہے کہ اب جو نئے گھر سیلاب زدوں کو لئے بنائے جارہے ہیں اس میں بھی باتھ روم شامل نہ تھا پوچھا کیوں؟ جواب…وہ کھیتوں میں جانے کے عادی ہیں بڑی مشکل سے شور مچا کر اب اداروں کی سمجھ میں آیا کہ باتھ روم زندگی اور صحت کے لئے بنیادی ضرورت ہے ۔

گزشتہ چالیس برس سے لڑکیوں کے اسکولوں میں باتھ روم اتنے کم اور سست طریقے پر بنائے جاتے ہیں کہ بجٹ کا آدھا خرچہ تو رشوت میں جانا لازمی ہے چاہے اسکول ہو کہ سڑک کہ بلڈنگ رشوت کے لئے ، بجٹ میں بھی یہ لازم حصہ ہوتا ہے ہر طرف شور ہے کہ 33فنکشنل یونٹ بنائے جائیں گے اس وقت بہت سے غیر ملکی پاکستانی ، فیکٹری لگانا ، کوئی ایسا کام جس میں انکی ڈالروں میں بچت کام آسکے ، کا سوچتے ہیں لیکن جب خواب ٹوٹتے ہیں کہ یہاں بجلی نہیں ، پانی نہیں ، گیس نہیں تو لوکل اور غیر ملکی اپنا سامنہ لے کر ، ٹھنڈی سانسیں بھرتے ہوئے لوٹ جاتے ہیں ۔

نیپال اور تبت کے مشترک شہروں میں ایسا گلیشیر پھٹا ہے کہ خاندانوں کے خاندان نہیں مل رہے تھے ۔ ساری دنیا میں امدادی ادارے سامنے تو آتے ہیں مگر یہ کوئی چھوٹی آفت نہیں ہے ۔ چین اور جاپان میں آئے روز زلزلے یا طوفان آتے ہیں انہیں خود اپنے گھروں کو سنبھالنے کا ہنر آتا ہے مگر ہمارے پاکستان میں چار پیسے زیادہ کیا آئے فوراً پوچا مارنے والی مائی ،کپڑے استری کرنے والی عورت کھانا تو خود بنائیں گی مگر سبزی بنانے کے لئے ایک مائی چاہئے کسی بڑے یا درمیانے ہوٹل میں جائیں ایک لڑکی پیچھے کرسی پر بیٹھی ملے گی ۔ یہ کلچر شہر شہر پھیلتا جارہا ہے کل شام میں نے نوجوان لڑکے لڑکیوں کو معصوم بچوں کو یاد کرتے ہوئے شمعیں جلاتے ہوئے دیکھا۔ میں نے بھی آنسوؤں سے لبریزنظم لکھی ۔

’’صبح سے پہلے قیامت چیخیں‘‘

چودہ نومولود گیس اور آگ میں جھلس گئے سامنے نرسری میں دھوئیں

بچوں کے وجود کو گھل چکے تھے

ایدھی سے لائے ہوئے کفن میں ادھورے بچوں کو چھوٹے چھوٹے ڈبوں میں بند کرکے والدین کو دے رہے تھے

ماں باپ ان بچوں کو نہ کھول کے دیکھ سکتے ہیں نہ پیار کرسکتے ہیں نہ گود میں لے سکتے ہیں

وہ منظر کتنا بڑا المیہ تھا جب بچوں کو دفن کرتے ہوئے سب لوگ کانپ رہے اور رو رہے تھے

شام کو بہت سے لڑکے لڑکیاں ان کو یاد کرتے ہوئے شمعیں جلارہے تھے

یہ المیہ یہ داغ ساری عمر رلائےگا

شاید آگ لگانے والوں کا ضمیر جاگ اٹھے کہ کراچی میں  پھر کسی پولیس کی بیوی محلے والوں پر سینہ زوری کررہی ہے۔

تازہ ترین