چنیوٹ میں مبینہ طور پر قتل کیے گئے تینوں بچوں کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی۔
چنیوٹ میں ایک ہی خاندان کے 4 افراد کی موت کے واقعے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
تینوں بچوں کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق 6 سالہ علی نواز، 2 سالہ زہرا اور 7 سالہ ام البنین کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے وقت شدید گلنے سڑنے اور جسمانی تبدیلیوں کی حالت میں تھیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پوسٹ مارٹم کے ظاہری معائنے میں تینوں بچوں کے جسم پر کسی بیرونی چوٹ یا تشدد کا نشان نوٹ نہیں کیا گیا۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تینوں بچوں کی موت کی حتمی وجہ بیان نہیں کی گئی۔ تینوں بچوں کے جسم سے حاصل کیے گئے نمونے مزید فرانزک جانچ کے لیے لاہور فرانزک لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں۔
پولیس نے ابتدائی تفتیش میں والد پر بچوں اور ان کی والدہ کو قتل کرنے کا الزام عائد کیا ہے جبکہ واقعے کی ایک ممکنہ وجہ زمین کا تنازع بھی بتایا جارہا ہے۔