لاہور میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم اور عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ نئے صوبے بنانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، مستقل حل تلاش کرنا ہوگا، کراچی کے وسائل کے استعمال کی تفصیلات سامنے آنی چاہئیں۔
نئے صوبوں کی تشکیل پر نیشنل پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب میں سابق وفاقی وزیر سعد رفیق نےکہا کہ چھوٹے صوبے یا انتظامی یونٹس بنانے کے لیے سب سے پہلے آئین کا احترام کرنا ہوگا، اگر ہم آئین کی توہین کرتے رہے تو جتنی مرضی صوبے یا بااختیار لوکل گورنمنٹ سسٹم لے آئیں کچھ نہیں چلے گا، سول سوسائٹی کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
ایم کیو ایم پاکستان کے خالد مقبول بولے حکمران آئین کی صرف وہ شقیں مانتے ہیں جو ان کے مفاد میں ہوں، این ایف سی اور پی ایف سی ایک ہی فارمولے کے تحت ہونے چاہئیں۔
وزیر مملکت برائے اوورسیز عون چوہدری نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں چھوٹے انتظامی یونٹس ہیں، نئے انتظامی یونٹس پر پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ سے باہر بھی بحث ہونی چاہیے۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا کہ اچھے نظام حکومت کیلئے بڑی اصلاحات کرنا پڑیں گی، عوامی نمائندوں کو اختیار دیے بغیر معاملہ آگے نہیں بڑھے گا۔