• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نئے صوبے لسانی یا ثقافتی بنیادوں پر نہیں، انتظامی تقاضوں کے مطابق بنیں گے، صدر استحکام پاکستان پارٹی

صدر آئی پی پی  نے کہا کہ نئے صوبوں پر ہر ایک کے پاس جانے اور سب کی بات سننے کو تیار ہیں۔ فائل فوٹو
صدر آئی پی پی نے کہا کہ نئے صوبوں پر ہر ایک کے پاس جانے اور سب کی بات سننے کو تیار ہیں۔ فائل فوٹو 

صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان کا کہنا ہے کہ یہ امر قابل اطمینان ہے کہ مختلف جماعتوں سے منسلک سیاسی اکابرین نئے صوبوں پر مثبت سوچ رکھتے ہیں، نئے صوبے لسانی یا ثقافتی بنیادوں پر نہیں، انتظامی تقاضوں کے مطابق بنیں گے۔

اپنے بیان میں صدر استحکام پاکستان پارٹی نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کی طرف سے اس اہم قومی ایشو پر سیاسی بحث خوش آئند ہے، نئے صوبے کسی ایک سیاسی جماعت کا نہیں اس ملک اور عوام کے مستقبل کا مسئلہ ہے، وفاقی وزیر احسن اقبال کی طرف سے نئے صوبوں کیلئے مدلل گفتگو قابل فکر ہے۔

عبدالعلیم خان نے کہا کہ اختلاف جمہوریت کا حسن، لیکن پیپلز پارٹی بھی دیگر صوبوں میں مختلف مؤقف رکھتی ہے، پنجاب اور پختونخوا کی دو بڑی اسمبلیاں نئے صوبوں کی حمایت میں قراردادیں پاس کر چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں 1972 سے رورل اور سندھ اربن کے کوٹے کی تقسیم لاگو ہے، اسی طرح انتظامی بنیادوں پر نئے یونٹس بنا کر عوام کے مسائل کا حل تیزی سے ممکن ہے، ملک میں 80 سال بعد انتظامی ڈھانچے کو نئی ضروریات کے مطابق کام کرنا ہوگا، استحکام پاکستان پارٹی کے پی کے میں ہزارہ صوبے کی پہلے ہی حمایت کر چکی ہے۔

صدر آئی پی پی  نے کہا کہ نئے صوبوں پر ہر ایک کے پاس جانے اور سب کی بات سننے کو تیار ہیں، سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے ملک آگے جائے گا اور نہ ہی عوام کے مسائل حل ہوں گے، تمام سیاسی جماعتیں موجودہ سسٹم سے نالاں اور نئے نظام کی خواہش مند ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو نئے صوبوں کی بحث کو منطقی انجام کی طرف لے جانے کا راستہ اپنانا ہوگا، اہم سیاسی رہنماؤں کا نئے صوبوں کی ’’اونرشپ‘‘ لینا مثبت قومی فکر کی نشاندہی ہے۔

قومی خبریں سے مزید