• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایسے کئی گیت گانے سے انکار کیا جن کے بول نامناسب اور فحش تھے، شریا گھوشل

تصویر سوشل میڈیا۔
تصویر سوشل میڈیا۔

معروف بھارتی گلوکارہ شریا گھوشل نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اپنے کیریئر کے دوران ایسے کئی گانے گانے سے انکار کیا جن کے بول انہیں نامناسب یا حد سے زیادہ فحش محسوس ہوئے۔ 

بھارتی گلوکارہ کا کہنا ہے کہ ایسے کئی گانے بہت مقبول بھی ہوئے، لیکن انہوں نے انہیں گانے سے انکار کر دیا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اب صورتحال کافی حد تک تبدیل ہو چکی ہے۔

مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والی 42 سالہ شریا گھوشل نے بالی ووڈ میں صرف 16 سال کی عمر میں سنجے لیلا بھنسالی کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم دیوداس سے بطور پلے بیک سنگر اپنا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے اس فلم میں پانچ گانے گائے، جو ان کے لیے ایک بڑی کامیابی ثابت ہوئے۔ اس کے بعد انہوں نے مختلف زبانوں میں بے شمار گانے گائے۔

حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ کے ساتھ گفتگو میں شریا سے پوچھا گیا، کیا انہوں نے کبھی کسی ایسے گانے کو جس کے بول نامناسب ہوں ٹھکرایا ہے؟ اس پر شریا نے کہا کہ مسئلہ صرف گانوں کے بول تک محدود نہیں بلکہ دھن اور گانے کے انداز کو بھی دیکھنا ضروری ہے، بول ایک چیز ہے اس کے ساتھ کمپوزیشن اور گانے کا انداز بھی ہوتا ہے۔ کچھ ایسے مقبول گانے تھے جنہوں نے بہت اچھا بزنس کیا، لیکن میں نے انہیں گانے سے انکار کر دیا۔ 

شریا گھوشل نے اپنے طویل کیریئر میں کئی مقبول گانے گائے ہیں، جن میں یہ عشق ہے (جب وی میٹ)، منوا لاگے (ہیپی نیو ایئر)، سن رہا ہے (عاشقی 2)، ساتھیا (سنگھم)، اگر تم مل جاؤ (زہر)، دیوانی مستانی (باجی راؤ مستانی) اور چکنی چمیلی (اگنی پتھ) شامل ہیں۔

انھیں اب تک انکے فن کے اعتراف میں متعدد اعزازات مل چکے ہیں، جن میں پانچ نیشنل فلم ایوارڈز بھی شامل ہیں۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید