تھل (پنجاب) کی پٹی میں چند سو نفوس پر مشتمل ایک چھوٹا سا گائوں آباد ہے۔ قاضی پور نامی اس گائوں کے سارے گھرانے قیامِ پاکستان کے دوران مشرقی پنجاب سے ہجرت کر کے یہاں آباد ہوئے۔ ابتداء میں ہی ان کسانوں کو ادراک ہو گیا تھا کہ نئے گائوں ،نئے وطن میں بڑے چیلنج دَرپیش ہوں گے۔ اس علاقے میں بنجر زمینیں ان کے حصہ میں آئیں۔ اُونچے نیچے ٹیلوں کے درمیان بکھری ہوئی زمین پر کاشت کاری بڑا کٹھن کام تھا۔ اول تو نہر کے آخری سرے (Tail) پر واقع ہونے کی وجہ سے پانی میسر نہ تھا، قابل رسائی نہ تھا۔ ششماہی سپلائی کے دوران جو محدود آب رسانی ہوتی اس سے محض بالائی ہموار زمینوں کو سیراب کیا جا سکتا، جب کہ زیریں ناہموار زمینی ایکڑ پانی کی محرومی کی بناء پر بنجر رہتے۔ یوں مشرقی پنجاب میں ہرے بھرے زرخیز علاقے کو چھوڑ کر آنے والے نئے وطن میں نان جویں کے محتاج رہے۔ یہ ساری صعوبتیں ان سادہ لوح کسانوں کے دلوں سے آزاد ملک کی محبت کو پھر بھی محو نہ کر سکیں۔ بالآخر ان کے دن پھر گئے، جب پرانی نہر کے متوازی ایک نئی نہر کا منصوبہ مکمل ہو گیا اور یوں اس علاقے میں بھرپور پانی میسر آ گیا۔ قاضی پور کی مشکلات مکمل طور پر ختم نہ ہو سکیں، کیوں کہ اُونچے نیچے Contours کی وجہ سے آدھی زمینیں پانی سے محروم رہتیں۔ گائوں کے کسانوں نے ابھی ہمت نہ ہاری۔ ان زمینوں کو مقدور بھر ہموار کیا۔ بعدازاں بڑے ایکڑوں کو چھوٹی کیاریوں میں تقسیم کر دیا، تاکہ پانی کا ٹھہرائو ممکن ہو سکے۔ اس حکمت عملی سے گائوں میں زرعی انقلاب آ گیا۔ اُترائی والی زمینیں کٹائو سے محفوظ ہو گئیں، جہاں آب پاشی کو ممکن بنا دیا گیا۔ چنانچہ ان چھوٹے کھیتوں میں محض دو فصلوں پر اکتفا نہ کیا جاتا، بلکہ کسانوں نے یہاں پھل دار پودوں کی نرسریاں، دالیں، سبزیاں اور دیگر نقدآور فصلوں کی کاشت شروع کر دی۔ یوں گائوں کی نہ صرف خوش حالی بلکہ ماحولیاتی تنوع (Biodiversity) میں بھی اضافہ ہو گیا۔ اس وقت نئے مجوزہ صوبوں کی تشکیل میں بھی شاید اس حکمت عملی سے کام لیا جا رہا ہے جس طرح ٹیل پر واقع بنجر زمینوں کو نئی متوازی نہر سے آب پاشی کا بندوبست کیا گیا اور پھر بڑے ایکڑوں کو چھوٹے کھیتوں میں تقسیم کر کے بھرپور فصلوں کا حصول ممکن ہوا۔
بعینہٖ ایسے دور دراز علاقے جو بڑے صوبائی دارالحکومتوں کی نظرالتفات سے محروم رہ گئے، ٹیل پر ہونے کی وجہ سے وسائل کی کٹھن رسائی نے انہیں پسماندہ کر دیا۔ انہیں متوازی لنک یعنی نئے صوبائی تشخص کے ذریعے براہِ راست مرکز سے ملا دیا جائے اور ان کی انتظامیہ کو تقسیم کر دیا جائے تو ان پسماندہ علاقوں کو بھی ترقی سے ہم کنار کیا جا سکتا ہے۔ یہاں بھی قاضی پور کی زراعت کی طرح انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ لوگوں کی خوش حالی ان علاقوں کی ثقافت کیلئےبھی فروغ کا باعث بن جائیگی۔ خدشہ ہے کہ ایسی بڑی سیاسی جماعتیں جو پچھلی کئی دہائیوں سے علاقائی، لسانی، ذات برادری اور دیگر تعصبات کا سہارا لے کر انتخابی کامیابیاں حاصل کرتی رہی ہیں اور قومی جماعت کا دعویٰ بھی کرتی ہیں، چھوٹے صوبوں کی تجاویز کی سخت مخالفت کریں گی۔ یہ مخالفت اگرچہ عوامی مفادات سے متصادم ہے، سندھ ،پنجاب یا دیگر صوبوں میں سے مزید نئے صوبوں کی تخلیق کی جائے تو بڑی خاندانی پارٹیوں کو زبردست دھچکا پہنچ سکتا ہے۔ بڑی پارٹیوں نے موجودہ صوبوں کے چھوٹے بڑے شہروں میں علاقائی سیاست دانوں، زمین داروں، قبائلی سرداروں اور برادریوں کے چوہدریوں سے گٹھ جوڑ کر رکھا ہے جو اپنے روایتی اثر و رسوخ، تعصبات اور دائو پیچ سے الیکشن جیت جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو پارٹیوں نے وزارتوں، ترقیاتی فنڈز اور دیگر مفادات کے ذریعے اتحادی بنا رکھا ہے۔ نئے صوبوں کی صورت میں یہ تعلق (Configuration) ٹوٹ بھی سکتا ہے۔ یہ لوگ نئے صوبوں کی قیادت کی اُمید میں آزادانہ فیصلے بھی کر سکتے ہیں۔ بصورتِ دیگر نئے نوجوان چہرے جو عوامی مسائل کا حقیقی ادراک رکھتے ہوں وہ بھی اُبھر کر نئے صوبوں میں رونمائی کر سکتے ہیں۔ یوں روایتی، خاندانی سیاسی گروہوں کے اثر و رسوخ اور سودا باز حیثیت کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔
N.F.C ایوارڈ آئینی ترامیم، بجٹ سازی و منظوری، وزیراعظم کے انتخاب جیسے مرحلوں میں من مانیاں ختم ہو سکتی ہیں۔ افسوس کہ بڑی سیاسی پارٹیاں قومی پارٹیوں کی دعوے داری کے ساتھ ساتھ لسانی اور علاقائی تعصبات کے ہتھیاروں سے لیس عوام دوست تجویز کی مخالفت پر اُتر آئی ہیں۔ حالانکہ مخالف صوبوں میں مزید صوبوں کا قیام بڑی پارٹیوں کا انتخابی نعرہ رہا ہے، لیکن اب اس سے برگشتہ ہو گئی ہیں اور ناچار سندھ، پنجاب، پختون، بلوچ، کلچر بارے موہوم خدشات کا اظہار شروع کر دیا ہے۔ حالانکہ مجوزہ تقسیم محض انتظامی ہو گی جس سے صوبوں کے بھولے بسرے اور نظرانداز علاقے خوش حال ہوں گے۔ یہ خوش حالیاں یقیناً علاقائی ثقافتوں اور لسانی اداروں کے فروغ کا باعث بن سکتی ہیں۔ ماضی کے تجربات نے ثابت کیا ہے کہ آپ عوام کی سوچوں سرگرمیوں کو محدود کر کے ثقافتوں کو محفوظ نہیں بنا سکتے، بلکہ عوام نئے مواقع کی تلاش میں ،نئے آفاق کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں تو وہ ثقافتوں کے فروغ کا باعث بھی بنتے ہیں۔ جیسا کہ بھارتی پنجاب، گجرات، راجستھان، امارات، یورپ، شمالی امریکہ بلکہ دنیا بھر میں پختون، سندھی، بلوچی اور پنجابی افرادی قوت کی نقل مکانی نے علاقائی ثقافتوں کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کروایا ہے، فروغ دیا ہے۔ لسانی اکائیوں یا علاقائی گروہوں میں سے نئی قیادتیں اُبھریں گی، نئے صوبوں کی قیادت کریں گی تو ثقافتوں کو کیسے نقصان پہنچے گا؟؎
تخریب جنوں کے پردے میں تعمیر کے ساماں ہوتے ہیں