• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پیٹرول ڈیزل اور تمام ضروریات زندگی کی عوام کی دسترس سے باہر ہوتی قیمتوں میں کمی کیلئے جماعت اسلامی نے پچھلے ڈھائی ہفتوںکے دوران ملک بھر میں دھرنوں، ریلیوں، جلسوں اور پھر ایک ملک گیر ہڑتال پر مشتمل جو مہم چلائی ، وفاقی حکومت نے بالآخر جمعرات کی شام جماعت کی قیادت کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرکے اس کا جائز ہونا تسلیم کرلیا جو یقیناً ایک خوش آئند پیشرفت ہے۔حکومت کی کوشش تھی کہ مذاکرات کیلئے جماعت کے نمائندے شہر اقتدار میں حاضری دیں لیکن جماعت کا مطالبہ تھا کہ اس کام کیلئے حکومت اپنے نمائندے منصورہ لاہور میں واقع جماعت کے مرکز بھیجے۔ جمعرات کی ہڑتال کے بعد حکومت نے یہ مطالبہ پورا کردیا جس سے قدرتی طور پر یہ تاثر قائم ہوا کہ جماعت کی ہڑتال کامیاب رہی اور حکومت کیلئے مذاکرات سے گریز ممکن نہیں رہا۔بات چیت میں حکومت کے نمائندوں میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیر اعظم کے خصوصی مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ شامل تھے جبکہ نائب امیر جماعت لیاقت بلوچ اور دیگر ارکان پر مشتمل جماعت کی ٹیم کی قیادت امیر جماعت حافظ نعیم الرحمن نے کی۔

مذاکرات کے بعد ہونیوالی پریس کانفرنس نہایت خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ طے پایا کہ پیر کے روز سے باقاعدہ مذاکرات شروع ہوں گے جن کیلئے فریقین نے اپنی ٹیمیں بھی تشکیل دیدی ہیں۔بات چیت کے اس عمل میں جماعت پٹرول اور ڈیزل پر بھاری لیوی اور ٹیکسوں سمیت مجموعی مہنگائی میں کمی کیلئے اپنی تجاویز حکومت کو دے گی جن پر فریقین تبادلہ خیال کریں گے اور اتفاق رائے کے بعد ان پر عمل کیا جائیگا۔ مذاکرات کی آئندہ نشستوں کے نتیجہ خیز ہونے کی توقع اس بنا پر بھی ہے کہ دو سال پہلے آئی پی پیز کے کیپسٹی چارجز کے خاتمے کیلئے جماعت اسلامی کا مطالبہ تسلیم کرکے حکومت 4300 ارب کی خطیر رقم بچانے میں کامیاب ہوچکی ہے۔ اس بات کا اعتراف گزشتہ روز حکومتی ٹیم کی جانب سے پوری کشادہ دلی سے کیا گیا۔ حکومتی وفد کی خواہش تھی کہ مذاکراتی عمل شروع ہوجانے کے بعد دھرنے ختم کردیے جائیں لیکن امیر جماعت نے واضح کیا کہ دھرنے جاری رہیں گے ۔ ایک اہم بات یہ کہ اس عمل کی تکمیل کی مدت بھی طے کرلی گئی ہے اور حکومتی کمیٹی نے دو ہفتوں کے اندر تکنیکی بنیادوں پر بات چیت مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے۔یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت ٹال مٹول کی پالیسی کے بجائے نیک نیتی سے مذاکرات کی میز پر آئی ہے جبکہ جماعت اسلامی پُراعتماد ہے کہ پٹرول کی قیمتوں اور عام مہنگائی میں کمی کیلئے اس کے پاس قابل عمل تجاویز اور طریق کار موجود ہے۔

عوامی مسائل کے حل کی خاطر جماعت اسلامی کی اس جدوجہد کا سبب اس کا دوسری تمام سیاسی جماعتوں سے جوہری اعتبار سے مختلف ہونا ہے۔ یہ ایسی حقیقت ہے جس کا انکار جماعت کے بدترین مخالفوں کیلئے بھی ممکن نہیں۔ یہ ملک کی واحد جماعت ہے جس پر جاگیرداروں ، سرمایہ داروں اور وڈیروں کا قبضہ نہیں۔ اس کے تمام ارکان اور کارکنان بالعموم تعلیم یافتہ متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ کسی فرقے ، مسلک، علاقے یا زبان سے تعلق رکھنے والوں کی جماعت نہیں بلکہ ملک کے ہر حصے میں رہنے اور ہر زبان بولنے والوں تک اس کا دائرہ وسیع ہے۔ملک کی دوسری سیاسی جماعتوں کی طرح یہاں موروثی قیادت کا کوئی تصور نہیں۔ یہ ملک کی واحد سیاسی پارٹی ہے جس میں باقاعدگی سے حقیقی معنوں میں انتخابات ہوتے ہیں ۔ ہر رکن اپنا ووٹ دینے کا پابند ہوتا ہے۔ عہدوں اور مناصب کیلئے کسی کشمکش کا یہاں کوئی تصور نہیں۔امیر جماعت سمیت کسی بھی منصب کیلئے کوئی خود امیدوار نہیں ہوتا بلکہ ہر رکن کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ متعلقہ عہدے کیلئے جس دوسرے رکن کے حق میں چاہے اپنا ووٹ استعمال کرے۔ دوسری جماعتوں کی طرح اس کے قائدین بیرون ملک جائیدادیں، اثاثے اور خفیہ کھاتے نہیں رکھتے۔ علاج معالجے کی خاطر بیرون ملک نہیں جاتے۔ اس کے کارکن زلزلوں، سیلابوںاور ہر مشکل وقت میں اپنے ہم وطنوں کی خدمت پر کمربستہ نظر آتے ہیں۔ ’’بنو قابل‘‘ جیسے منصوبوں کے ذریعے سے جماعت ملک کا مستقبل سنوارنے کی قیمتی خدمات انجام دے رہی ہے۔اس بنا پر حکومت وقت اور جماعت اسلامی کے درمیان عوامی مسائل کے حل کیلئےتعاون یقیناً نہایت مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ جماعت محض پٹرول لیوی اور مہنگائی کے خاتمے تک اپنی مشاورتی کاوشوں کو محدود نہ رکھے بلکہ انہیں ملک کے مجموعی نظام بشمول تعلیم، معیشت، قانون، عدلیہ، پولیس اور دوسرے شعبوں کی اصلاح تک وسعت دے۔دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کی طرح جماعت پاکستان میں شیڈو کیبنٹ کی روایت قائم کرکے ملک کیلئے متبادل قیادت سامنے لانے کا تجربہ کامیابی سے کرسکتی ہے۔ مختلف شعبوں میں حکومتی پالیسیوں پر محض تنقید اور احتجاج کے بجائے متبادل تجاویز شیڈو کیبنٹ کے متعلقہ ارکان کی جانب سے پیش کی جائیں ۔ ان تجاویز کی تیاری کیلئے تحقیقی ڈیسکیں قائم ہوں۔جماعت اسلامی کے وابستگان اور متاثرین میں دنیا بھر میں پھیلے ہوئے مختلف شعبہ ہائے زندگی کے ماہرین شامل ہیں۔تحقیقی ڈیسکوں میں انہیں بھی شریک کیا جائے اور یوں مقامی افرادکے علاوہ بیرونی ماہرین کے علم اور تجربے سے بھی فائدہ اٹھاتے ہوئے کار آمدتجاویز سامنے لائی جائیں۔ یہ طریق کار ایک طرف ہر شعبہ زندگی میں لائق اور باصلاحیت متبادل قیادت کی حیثیت سے جماعت کو عوام میں متعارف کرائے گا اور دوسری طرف حکومت وقت کیلئے بھی ان تجاویز سے استفادہ کرتے ہوئے نظام مملکت کی اصلاح کی راہ ہموار ہوگی جبکہ دوسری سیاسی جماعتوں کو بھی اپنے طور طریقے بہتر بنانے کی ضرورت محسوس ہوگی۔

تازہ ترین