• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انگلستان کی بات ہی نرالی ہے۔ جس طرح انگلینڈ اردو کا تیسرا بڑا مرکز ہے، اسی طرح پنجابی اور پنجاب کے لوگوں کا تیسرا بڑا مرکز بھی یہی ہے۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ شاعروں اور ادیبوں کا ایک ’’ہڑ‘‘ ہے جو انگلستان کی طرف رواں دواں ہے۔ یہ سب لوگ پنجابی کے شیدائی ہیں۔ پنجابی مادری زبان ہونے کے باوجود ’’فر فر‘‘ اردو بولتے ہیں۔ سیانے کہتے ہیں کہ محض ایک زبان جاننے والا شخص گونگا ہوتاہے۔ صرف ایک زبان، جو مادری زبان ہو سکتی ہے، اس سے تو ہر فرد واقف ہوتا ہے۔ بات تو تب بنتی ہے کہ آدمی اپنی مادری زبان کے علاوہ کم از کم ایک عدد زبان مزید جانتا ہو اور اس میں اپنا مافی الضمیر بیان کرنے کے قابل ہو۔ میرے حساب سے تقریباً ہر پنجابی اردو بولنا اور سمجھنا بخوبی جانتا ہے، لیکن یہی بات میں اپنے ’’اہلِ زبان‘‘ دوستوں کے بارے میں نہیں کہہ سکتا۔ اردو مادری زبان رکھنے والوں کو اردو تو آتی ہی ہے، لیکن میرے خیال میں پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی زبان سیکھنا بھی اہلِ زبان پر لازم ہے۔ پنجابی زبان کے بارے میں انکی غفلت غلط فہمی پیدا کر سکتی ہے۔حقیقت پسندی سے جائزہ لیا جائے تو پتا چلے گا کہ اردو ذریعۂ تعلیم پاکستان، بالخصوص پنجاب میں، محض دھونس کی وجہ سے اختیار کیا گیاہے۔کسی نے یہ سوال کیا کہ بچوں کیلئے کون سا ذریعۂ تعلیم مناسب ہے؟ دنیا کے سارے ماہرینِ تعلیم کا صرف ایک ہی جواب ہے کہ بچے کا مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنا بہترین ذریعۂ تعلیم ہے۔ بچہ مادری زبان ماں کے دودھ کے ساتھ حاصل کرتا ہے۔ یہ اور اس طرح کے خیالات مبنی بر حقیقت ہونے کے باوجود، یہ بتائے بغیر میں نہیں رہ سکتا کہ پنجابی زبان کو پنجاب کی نئی نسل کی تعلیم سے خارج کرنا سراسر زیادتی ہے۔

اس کا تدارک اسی صورت ممکن ہے جب میرے اہلِ زبان دوست بھی پنجابی زبان کی مدد کریں۔ ان لوگوں کو اردو کیساتھ ساتھ پنجابی بولنا اور سمجھنا بھی آ جائے تو کیا برا ہے؟ اس طرح نہ صرف پنجابی زبان کو تقویت ملے گی بلکہ وہ خود بھی دو اہم زبانوں کے وارث کہلائیں گے۔ یہاں مجھے ایک حکایت یاد آ رہی ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک بار بلی اپنے بچوں کیساتھ شکار کی تلاش میں جا رہی تھی کہ یکایک ایک کتے سے اسکی مڈبھیڑ ہو گئی۔ بلی کو دیکھ کر کتا بھونکنے لگا۔ بچے خوف زدہ ہو گئے اور سہم کر بلی سے لپٹ گئے۔ بلی نے بچوں کو اپنے پیچھے چھپا کر دیوار سے پشت لگائی اور پچھلے پنجوں پر کھڑی ہو کر غرانے لگی اور پھر ’’بھوں بھوں‘‘ کی آوازیں نکالیں۔ بلی کی بھوں بھوں سن کر کتا دم بخود رہ گیا اور دم دبا کر وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا۔ کتے سے نجات کے بعد بلی نے اپنے بچوں سے کہا:’’بچو! دیکھا، ایک سے زیادہ زبانیں جاننے سے کتنا فائدہ ہوتا ہے۔‘‘ المیہ یہ ہے کہ جن لوگوں کی مادری زبان پنجابی ہے، ان کی بہت بڑی اکثریت اپنے بچوں کو پنجابی کی نعمت سے محروم کرتی جا رہی ہے۔

یہ لوگ پنجابی اور اس سے جڑی تہذیب سے بیگانہ رہنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے، حالانکہ کوئی بھی نسل اپنی زبان اور تہذیب سے محروم نہیں رہ سکتی۔ زبان سے دامن چھڑانے کے باوجود گھروں میں اس کی تہذیب کے بچے کھچے اثرات آسانی سے پیچھا نہیں چھوڑ سکتے۔جو زبان ہمارے خمیر اور فکر و خیال میں بسی ہوئی ہو، اس سے دست کش ہونا محال ہے، لیکن مافی الضمیر کو روانی سے ادا کرنے کی صلاحیت کھو دینا ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ دکھ تو اس بات پر ہے کہ یہاں اس بات سے کسی کو سروکار نہیں رہا کہ اپنی زبان کی بقا اور ترقی کیلئے کیا کچھ کر سکتے ہیں۔ آج کی اور مستقبل کی نسل میں اسے منتقل کرنےکیلئے کیا حکمتِ عملی اختیار کی جا سکتی ہے؟ اسکی ضرورت سے انکار کی جرأت تو کوئی کرتا نظر نہیں آتا، لیکن اس کیلئے کوئی منصوبہ بندی یا لائحۂ عمل ہی ترتیب دیا گیا ہے اور نہ ہی اجتماعی حیثیت سے عمل پیرا ہونے کی کوئی حکمتِ عملی وضع کی گئی ہے۔پنجابی کو رائج کرنے سے غفلت برتنا گویا اپنے اسلاف، بزرگوں، صوفی شعرا اور بڑوں کی صدیوں کی محنت پر پانی پھیرنا ہے۔ ہمارے بزرگوں نے صدیوں تک اپنے خونِ جگر سے اس زبان کی آبیاری کی، تب کہیں جا کر پنجابی زبان اس مقام تک پہنچی۔آج اگر ہوا کا رخ بدلا ہوا ہے تو ہمیں قطعی مایوس و بددل ہونے کی ضرورت نہیں۔ پنجابی بسورتی ہوئی ہی سہی، لیکن آگے بڑھ رہی ہے۔ اس کا شاندار ماضی رہا ہے۔ اس زبان کی حلاوت، جاذبیت ، جامعیت، رنگینی و خوبصورتی کے بلا لحاظِ مذہب و ملت، ہر شخص نے گن گائے ہیں اور آج بھی پنجابی زبان کی اہمیت سے انکار کرنے کی کوئی جرأت نہیں کر سکتا۔یوں ہٹ دھرمی اور ’’میں نہ مانوں‘‘ کا کوئی جواب نہیں۔ یہ ضرور ہے کہ کچھ سیاسی چالوں، سازشوں اور دوسری وجوہات کی بنا پر آج پنجابی کو وہ مقام نہیں مل سکا جسکی وہ حقدار ہے۔ان تمام تر مشکلات کے باوجود اس کی بقا اور ترقی میں ایسے ہی لوگوں کا ہاتھ ہے، جو وقت کے سیلاب میں چٹان بن کر جمے رہنے کا حوصلہ رکھتے ہیں اور پنجابی زبان کو اپنے دل کی دھڑکن بنائے ہوئے ہیں۔

تازہ ترین