اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اس وقت دو سانحات زبان زد عام ہیں۔ ایک پمز ہسپتال کا سانحہ اور دوسرا ہری پور کی معصوم بچی کے ساتھ کی گئی درندگی.... ہر آنکھ اشکبار ہے،ہر دل میں ملال کے ساتھ ساتھ غم و غصہ بھی ہے۔ خدا نہ کرے کالم چھپنے تک کوئی اورا سانحہ جنم لے لیکن صد افسوس کہ ہمارا وطیرہ گزشتہ کئی برسوں سے یہی ہے۔ جب کبھی قصور کی زینب کے کیس کی طرح عوام سراپا احتجاج بنتے ہیں تو مجرم کو تختہ دار پر لٹکا دیا جاتاہے وگرنہ زینب سے لے کر ہری پور کی آیت نور تک کئی معصوم زندگیاں آئے روز درندگی کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں اور کوئی پرسان حال نہیں۔ ہمارے ہاں ایک سانحے کی چیخ و پکار کا دورانیہ اگلا سانحہ رونما ہونے تک ہے ۔ متذکرہ بالا دونوں سانحے المناک ، غمناک اور انتہائی شرمناک ہیں مگر یہ کوئی پہلی مرتبہ رونما نہیں ہوئے۔ یہ ان ملکی سانحات کا تسلسل ہیں جو مسلسل ہماری اجتماعی بےپروائی بلکہ مجرمانہ غفلت کا پردہ چاک کر رہے ہیں۔ پمز ہسپتال کا سانحہ عالمی سطح پر ہماری انتظامی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اسی طرح ہری پور کی آیت نور کے ساتھ جو انسانیت سوز سلوک ہوا، وہ ہماری اخلاقی پستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
قارئین کرام : صرف آیت نور کی بات کرتے ہیں۔ میں اس سانحے کی جزئیات بیان نہیں کر سکتا کہ میرا قلم ایسے قبیح الفاظ دہرانے کی ہمت نہیںرکھتا ، بس دل جلا لیں جتنا ہو سکتا ہے مگر سوچیں اب آگے اس کیس کا کیا ہوگا ؟ ظاہر ہے چالان تیار ہوگا۔ کیس عدالت میں جائیگا، ایک تو آیت نور کے والدین کا گھر اجڑ گیا دوسرا اب انہیں انصاف کے حصول کیلئے وکیلوں اور عدالتوں کے اخراجات بھی برداشت کرنا ہوں گے یہی نہیں جن بچوں نے جرم کا ارتکاب کیا ہے انکے والدین بھی اپنے اپنے بچوں کو بچانے کیلئے مہنگے سے مہنگے وکیلوں کی خدمات حاصل کریں گے اور وہ وکیل بھی اپنی روزی کو "حلال" کرنے کیلئے ملزمان کے حق میں دلائل پیش کریں گے،عدالتیں بھی حقائق کی تلاش میں تاریخ پہ تاریخ دیتی چلی جائیں گی یوں دو چار برس پلک جھپکتے گزر جائیں گے البتہ آیت نور کے والدین کیلئے یہ برس صدیوں پر محیط ہونگے ۔ چلیں جلد یا بدیر مجرموں کو ایک عدالت سے موت کی سزا ہو بھی گئی تو پھر ہائی کورٹ ،پھر سپریم کورٹ اور پھر صدر مملکت کے پاس رحم کی اپیل۔ اگر کبھی آیت نور کے مجرموں کو پھانسی پہ لٹکا بھی دیا گیا تو بس ایک آدھ اخباری خبر، میڈیا پر چند گھنٹوں یا ایک دن کیلئے خبر نشر ہوگی اور بات ختم! ۔
قارئین کرام: اس کہانی میں ایک کردار دس سالہ بچے کا بھی ہے۔ پہلے نجانے کس بہانے اس نے مجرموں کی مدد کی اور پھر دو ہزار کے عوض پولیس کا مددگار بن گیا۔ کیا اس مجرم کو بھی موت کی سزا ہوگی؟ مرکزی مجرموں سمیت سب کو بھی اگر موت کی سزا دے دی جائے تو کیا حساب برابر ہو جائیگا... ؟ انصاف کے تقاضے پورے ہو جائینگے ؟ کیا بعد ازاں معاشرہ سدھر جائیگا ؟مجھے بتایا جائے کہ کیا سزاؤں کا مقصد فقط حساب برابر کرنا ہے یا معاشرے کی اصلاح کرنا بھی ہے ؟ آپ کو قصور کی زینب کا کیس پھر یاد کراتا ہوں۔ زینب کے ساتھ درندگی ہوئی۔ مجرم کو تختہ دار پر چڑھا دیا گیا معاملہ ختم شد! مگر اس دوران میں بھی اور مابعد بھی جو ہم آئے روز کمسن بچیوں کے ساتھ درندگی اور قتل کی خبریں سنتے پڑھتے رہتے ہیں سوال یہ ہے کہ وہ تمام مجرم کہاں ہیں؟ ان کے ساتھ کیا ہوا ؟ کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ اب پھر آیت نور کے مجرموں کو سزائے موت دے دی جائیگی تو آئندہ معصوموں کو درندگی سے بچانے کی ضمانت کون دے گا ؟یہاں ہرگز ہرگز یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ میں مجرموں کے ساتھ کسی قسم کی رو رعایت کیلئے راہ ہموار کر رہا ہوں بلکہ میں تو ایسی سزا کے حق میں ہوں جس سے انصاف کے تقاضے بھی پورے ہوں اور معاشرے کی اصلاح بھی ہو تاکہ آئندہ کوئی زینب یا آیت کی طرح درندگی کا شکار نہ ہو۔ ظاہر ہے اس کیلئے ہمیں اپنا طرز انصاف بدلنا ہوگا۔ ایک تو اس بات کو واضح طور پر سمجھ لینا چاہیے کہ انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔ ہمارے ہاں اول تو تمام کیسز میں سزائیں ملتی نہیں ہیں اور اگر مل بھی جائیں تو اس قدر تاخیر ہو چکی ہوتی ہے کہ رات گئی بات گئی کہ مصداق نہ فائدہ نہ نقصان! لوگوں کو نہ تو جرم یاد رہتا ہے اور نہ انصاف کی خبر ہوتی ہے جس سے شر مزاج افراد کی مسلسل حوصلہ افزائی ہوتی رہتی ہے۔ اسی طرح جب جرم کی تشہیر ہوتی ہے مگر سزا کی نہیں ہوتی تو اس سے بھی شر مزاج افراد حوصلہ پکڑتے ہیں اور وہ اپنی مکروہ حرکات جاری رکھتے ہیں۔ موجودہ سیٹ اپ میں ہم تین طرح کا رد عمل دیتے ہیں۔ ایک تو انصاف ہوتا ہی نہیں۔ مقدمات برسوں چلتے رہتے ہیں۔ مدعی تھک ہار کر پیروی چھوڑ دیتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ انصاف ہوتا ہے مگر اس قدر تاخیر سے کہ بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے اور تیسرا یہ کہ کسی کیس کے ہائی پروفائل ہونے پر انصاف قدرے جلد ہو جاتا ہے مگر سزا پر اس قدر رازداری سے عمل کیا جاتا ہے کہ سماج میں موجود شر مزاجوں کو کانوں کان خبر تک نہیں ہوتی لہٰذا معاشرے کی اصلاح نہیں ہو پاتی۔
قارئین کرام: کالم کا لب لباب یہ ہے کہ اگر ہم اپنے معاشرے کی معصوم بچیوں کو آئندہ درندگی سے بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں ایسے کیسز کا فوری فیصلہ کرنا ہوگا۔ سزائیں دینی ہیں تو سرِعام دیں تاکہ باقی لوگوں کیلئے باعث عبرت ہو۔ مجرم نابالغ ہونے کی صورت میں اس کے والدین کو بھی بچوں پر کڑی نظر نہ رکھنے پرسزا دیں۔ اگر تو ہم صرف کیس نمٹانا چاہتے ہیں فقط حساب برابر کرنا چاہتے ہیں تو ٹھیک ہے جیسا چل رہا ہے چلنے دیں لیکن اگر واقعتاً معاشرتی اصلاح مطلوب ہے تو ہمیں قران کی طرف پلٹنا ہوگا۔ وہاں ایسی درندگی کی سزا سنگساری ہے۔ سنگساری دراصل سزا کی تشہیر ہے۔ جب مقامی لوگ اپنے ہاتھوں سے پتھر اٹھا کر مجرم کو مارتے ہیں تو وہ درد کی ایک ٹیس اپنے جسم پر بھی محسوس کرتے ہیں یہی ٹیس دراصل شر مزاجوں کو جرم سے دور رہنے پر مجبور کرتی ہے۔