جرمن واچ ’’ایک معتبر اور نامور ، آزادبین الاقوامی ادارہ ہے جس کی بنیادی ذمہ داریوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا جائزہ لینا ہے۔ اس ادارے کی نمایاں خدمت ہر سال ’’گلوبل کلائمیٹ رسک انڈیکس‘‘ نامی رپورٹ شائع کرناہے۔جسکا بنیادی مقصد دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں آنیوالے سیلاب، طوفان، گرمی کی لہر اور خشک سالی جیسے خطرات سے لوگوں کو خبردار کرنا اور نقصانات کی تفصیلات سے دنیا کو آگاہ کرنا ہے۔ اس ادارے کی حالیہ رپورٹ کےمطابق، ’’پاکستان، دنیا بھر میںموسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں اس وقت 15ویں نمبر پر ہے‘‘۔ ماحولیاتی تبدیلیوں سے میں پاکستان کو ہر سال 400ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ جو پاکستان جیسی ایک کمزور معیشت کیلئے بہت بڑا معاشی جھٹکا ہے۔ عالمی ماہرین کےمطابق عالمی سطح پر درجۂ حرارت میں مسلسل اضافہ کی وجہ سے بیشتر گلیشئیرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ وطن عزیز میں قابل ذکر گلیشئرز کی تعداد 8000کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے جو گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوہ میں واقع ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے سبب موسم گرما میں اب ان کا پگھلنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے ۔ جسکے نتیجے میں ایک طرف لینڈ سلائیڈنگ تو دوسری جانب اسکے نتیجے میں خلاف معمول کثرت سے جھیلوں کا بننا خطرے کی ایک ایسی گھنٹی ہے جس پر اگر بروقت توجہ نہ دی گئی تو آئندہ خطرناک سیلابوں کی شکل میں ناقابل تلافی نقصان سے ہمیں کوئی نہیں بچا سکے گا۔
اگرچہ پاکستان، قدرتی وسائل کی دولت سے مالا مال، چار شاندار موسموں ، وسیع ساحل سمندر، فلک بوس پہاڑوں، دریاوں اور نہروں کے بچھے جال ،لہلہاتے کھیتوں سے مزین ایک قابل رشک سرزمین ہے۔ لیکن المیہ یہ بھی ہے کہ بسا اوقات جب یہی وسائل ہم انسانوں کی نااہلیوں اور کوتاہیوں کے سبب بے قابو ہو جائیں تو وہ تباہی و بربادی کا روپ دھار لیتے ہیں۔ اس میں تو کوئی دورائے نہیں کہ سیلابوں کی بنیادی وجوہات میں گلیشئرز کا تیزی سےپگھلنا، جنگلات کی بے رحمانہ کٹائی ، موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بے وقت بارشیں اور دریا وں کنارے ناجائز تعمیرات کی بھرمار قابل ذکر ہیں۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سیلابوں کا کھرا موسمیاتی تبدیلیوں سے جا ملتا ہے، موسمیاتی تبدیلیاں، بڑھتے درجہء حرارت کی پیداوار ہیں جبکہ بڑھتا درجۂ حرارت، انسانی سرگرمیوں اوررویوں کی وجہ سے وجود میں آتا ہے ۔ لہٰذا بات گھوم پھر کر ’’انسانوں‘‘ پر ہی ختم ہوتی ہے۔ ثابت ہوا کہ ہم اپنی روزمرہ سرگرمیوں اور رویوں میں تبدیلی لا کر ماحول کو آلودگی سے پاک صاف رکھ کر آنیوالے سیلابوں کا رستہ روک سکتے ہیں۔عالمی سائنسدانوں نے ایک مرتبہ پھر اقوام عالم کو متنبہ کیا ہے کہ، ’’دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے سبب درجہء حرارت میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے، لہٰذا زمین کو موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونیوالے اثرات سے بچانے کے فوری اقدامات کی ضرورت ہے‘‘۔
اگر بات پاکستان کی سیلابی تاریخ کی کی جائے تو یہ سلسلہ پاکستان بننے کے دو تین سال بعد ہی سے شروع ہو گیا تھا 1956، 1957 ،1976 ، 1988 بدترین سیلابوں کے حوالے سے یاد کئے جاتے ہیں ، لیکن 2010ء میں آنیوالا سیلاب پاکستان کی تاریخ میں مہلک ترین سیلاب اسلئے قرار پایا تھا کہ یہ گلگت بلتستان سے لیکر پنجاب ، سندھ سمیت بلوچستان کو روندتا ہوا 2کروڑ افراد کو متاثر کرتے 2200 افراد کی جانیں بھی لے گیا تھا۔2022 ء میں آنیوالے سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے پاکستان ، دنیا کا پہلا متاثرہ ترین ملک قرار پایا تھا جس میں 1700 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، تین کروڑ سے زائد افرادمتاثر ہوئے ، جبکہ مالی نقصان کا اندازہ لگانا توممکن ہی نہ تھا ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وطن عزیز میں تواتر سے آتے یہ سیلاب جب ہر سال تباہی اور بربادی پھیلا دیتےہیں تو ہماری حکومتیں متاثرین کو عالمی برادری کے رحم و کرم پہ کیوں چھوڑ دیتی ہیں؟ ۔ پاکستان میں مون سون کا سلسلہ جاری ہے ۔میرے سامنے جاری مون سون کے نقصانات کے اعداد و شمار تاحال ماہ اگست کے پہلے ہفتے تک کے ہیں جنکے مطابق وطن عزیز میں 55بچوں،25خواتین سمیت 120افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 400کے لگ بھگ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں ۔جبکہ این ڈی ایم اے کے مطابق اس وقت تک 900گھر، 460مویشی اور 36پل بارشوں اور سیلاب کی نذر ہو چکے ہیں ۔اسی رپورٹ میں این ڈی ایم اے نے وضاحت کرتے ہوئے بتا یا کہ 57اموات مکانات منہدم ہونے کی وجہ سے ہوئیں۔
جہاں تک ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کا معاملہ ہے تو اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ماحولیاتی آلودگی میں کمی کی بجائے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اور اب تومتاثرہ شہری مختلف فورمز پر حکومت وقت سے یہ سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ ماحولیات کے تحفظ کیلئے پٹرول کی فروخت سے ( 80 روپے فی لٹرکے حساب سے ) کاٹی جانے والی رقم ’’کلائمیٹ سپورٹ لیوی‘‘ آخر کہاں خرچ کی جارہی ہے۔ جبکہ اس رقم کو سیلاب ، ہیٹ ویو، جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے جڑے دیگر خطرات میں استعمال ہونا چاہئے تھا ۔
عالمی طور پر بڑھتی موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں درجۂ حرارت میں بتدریج اضافہ دن بدن انسانی رہن سہن کے مسائل میں اضافہ کرتا جا رہا ہے جسکے تدارک کیلئے حکومت وقت کو اب ہنگامی بنیادوں پر، جنگلات میں اضافہ ، کاربن ڈائی آکسائیڈکے اخراج میں نمایاں کمی کیساتھ ساتھ متاثرہ علاقوں میں سیلاب کی بروقت وارننگ اور احتیاطی تدابیر آگاہی مہم کے ذریعہ لوگوں کو باخبر رکھنا ہو گا۔ آبی علوم کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیلابی خطرات سے نمٹنے کیلئےماہرین کا شدید فقدان ہے جبکہ پاکستان کا قدیم دریائی ڈھانچہ موجودہ نوعیت کے سیلابوں کا مقابلہ کرنے کی اہلیت سے عاری ہے جس کیلئے اب حکومت کو اس طرح کی قدرتی آفات کا مقابلہ کرنے کیلئے مستندماہرین پر مشتمل ٹیموں کی معاونت سےبروقت ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے۔