• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بریگیڈیئر محمد اسلم خان کا نام آتے ہی آنکھوں کے سامنے شنگریلا ریزورٹ کا نقشہ پھرنے لگتا ہے اور یکے بعد دیگرے خوبصورت کاٹیجز، چیڑھ کا جنگل اور ایک پہاڑی جھیل کا نیلگوں پانی لہراتا ہے۔ تاہم بریگیڈیئر صاحب کی زندگی کا ایک اور پہلو بھی ہے جو زیادہ تابناک اور درخشاں ہے۔ بریگیڈیئر محمد اسلم خان کا خاندان شروع سے فن سپہ گری میں مشاق رہا ہے۔بریگیڈیئرمحمد اسلم خان کی پیدائش 1918 ءمیں جموں میں بریگیڈیئر رحمت اللہ بہادر کے ہاں ہوئی۔ رحمت اللہ بہادر برٹش آرمی میں بریگیڈیر تھے اور انکے آٹھ بیٹے تھے جن میں سات فوج میں بڑے آفیسر بنے۔ مشہور زمانہ ائر مارشل اصغر خان بھی ان میں سے ایک ہیں اور وہ بریگیڈیئر محمد اسلم خان کے چھوٹے بھائی تھے۔ بریگیڈیئر صاحب کے ایک چچا میجر جنرل سمندر خان تھے جو کشمیر فوج کے سربراہ رہے ان کی کوئی اولاد نہ تھی لہٰذا انہوں نے ہی اسلم خان کی پرورش کی تھی۔ بریگیڈیئرمحمد اسلم خان نے ڈیرادون  اکیڈمی سے تربیت حاصل کی اور 1939ءمیں لیفٹیننٹ بنے۔

1943 ءمیں جب وہ میجر تھے تو تاج برطانیہ کی سلامتی کیلئے برما جانے والی فوج کا حصہ تھے۔ برما کےمحاذ پر داد شجاعت دینے پر 1944ء میںانہیں ملٹری کراس سے نوازا گیا۔ ملٹری کراس دراصل برطانیہ کے بادشاہ جارج پنجم کی طرف سے 1914ءمیں شروع کردہ ایوارڈ تھا جو برطانوی مقبوضات کے دفاع کیلئے بہادری سے لڑنے والے فوجی افسروں کو دیا جاتا تھا۔ بریگیڈیئر صاحب نے 1947-48کے دوران اُڑی اور مظفر آباد سیکٹر میں جنگ کشمیر کے دوران آزاد فورس کیساتھ مل کر بڑی جنگ لڑی اور کارنامہ ہائے نمایاں انجام دیا۔ اس کام کیلئے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے ان کا انتخاب کیا تھا۔ انہیں اس دلیری اور خدمت پر فخر کشمیرکے اعزاز سے نوازا گیا۔

بریگیڈیئر محمد اسلم خان کا تیسرا جنگی محاذ گلگت بلتستان تھا۔گلگت بلتستان کا علاقہ باہمی ریشہ دوانیوں اور اقتدار کی کشاکش کے نتیجے میں 1840ء کے بعد مہاراجہ گلاب سنگھ کے ہاتھوں میں چلا گیا تھا۔ وسعت اقتدارِ کی اس مہم میں درونِ خانہ انگریزوں نے گلاب سنگھ کی مدد کی تھی اور ان کا منشا زارِ روس کی پیش قدمی کو روکنے کیلئے بفر زون کا قیام تھا۔ گریٹ گیم کی اصطلاح بھی انہی دنوں میں استعمال ہوئی ۔ غرض جب 14اگست 1947ءکو مملکت پاکستان کی بنا رکھی گئی تو گلگت بلتستان کے عوام نے بھی ڈوگرہ جابرانہ قبضے سے جان چھڑانے کا فیصلہ کیا۔ جنگ آزادی کی اس بے مثال جہدوجہد میں کئی ہزار کلومیٹر سے زائد رقبہ آزاد کرایا گیا۔ اس جنگ میں کرنل حسن خان، میجر بابر خان، کپٹن شاہ خان، کرنل احسان علی، میجر محمد خان جرال، بریگیڈیئر محمد اسلم خان، کرنل سعید درانی، کپٹن نیک عالم کے علاوہ گلگت اسکاؤٹس اور مقامی مجاہدین کی بڑی تعداد نے کلیدی کردار ادا کیا۔

بریگیڈیئر محمد اسلم خان کا گلگت بلتستان کی جنگ آزادی میں اہم کردار رہا ہے۔ وہ 1940 سے لیکر 1942 تک بونجی رائفل کے تحت گلگت بلتستان میں تعینات رہے تھے ۔ علاقے سے واقفیت اور جنگی تجربہ کاری کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں دوبارہ وزیراعظم لیاقت علی خان کے حکم پر 12 نومبر 1947 کوگلگت اسکاؤٹس کا کمانڈننٹ مقرر کیا گیا ۔گلگت ایجنسی کا کنٹرول گلگت سکاؤٹس اور 6th جموں و کشمیر کے مقامی افسران کے ہاتھوں میں تھا۔عبوری حکومت کے الحاق پاکستان کی درخواست پر حکومت پاکستان نے ایک تحصیل دار سردار عالم کو سول انتظامیہ کی سربراہی کیلئے بھیج دیا تھا ۔ بریگیڈیئر اسلم کا کہنا ہے کہ جب اس نے گلگت اسکاؤٹس کی کمانڈ سنبھالی تو نفری کی تعداد کم تھی اور آزاد شدہ رقبے کو دشمن کے حملوں کا شدید خطرہ تھا۔ برزل اور زوجیلہ دروں سے استور اور گلگت پر دوبارہ قبضے کرنے کی کوشش تھی جبکہ پورا بلتستان ابھی تک ڈوگرہ فوج کے زیر تسلط تھا۔ ایسی صورت حال میں کسی بھی قسم کی غلطی کی گنجائش نہیں تھی نیز قائدانہ صلاحیت اور مربوط جنگی اسٹرٹیجی وقت کا اہم تقاضا تھا۔ بریگیڈیئر محمد اسلم خان نے ان نکات کا ادراک کیا اور انہوں نے 6th جموں وکشمیر اور گلگت اسکاؤٹس کو ملا کر آزاد فورس تشکیل دی اور اس میں مزید بھرتیاں کرکے اس فورس کی تعداد بڑھا دی۔ اس متذکرہ فورس کے چار ونگ یا کالم تشکیل دیئے گئے جن میں آئی بیکس فورس، ٹائیگر فورس، اسکیمو فورس شامل ہیں۔ اس اسٹرٹیجی کے مطابق تراگبل گریز سیکٹر اور دراس زوجی لا سیکٹر میں دشمن فوج کی پیشقدمی کو روکنا تھا جبکہ دوسری طرف بلتستان کو ڈوگرہ قبضہ سے آزادی دلانا تھا۔ بلتستان کی طرف اسی مقصد کے تحت کرنل احسان علی، میجر بابر خان کی قیادت میں آئی بیکس فورس بھیج دی گئی جبکہ گریز کی طرف کرنل حسن خان کی کمان میں ٹائیگر فورس اور دراس کی طرف یخ زمستان میں برف سے ڈھکے دیوسائی کے راستے شاہ خان کی کمان میں اسکیمو فورس روانہ کردی گی۔ ٹائیگر اور اسکیمو فورس کی داسخرم، منی مرگ اور شنگھو شغر کی مقامی آبادی اور سرکردگان علاقہ نے بھرپور مدد کی جس کا اعتراف جنگی کمانڈروں کی طرف سے جاری کردہ متعدد دستاویزات کی شکل میں آج بھی موجود ہے۔ دوسری طرف آئی بیکس فورس کیلئے بلتستان کی اکثریتی آبادی دست و بازو بنی جن کا تذکرہ ہر جگہ موجود ہے۔

غرض 1947 سے لیکر 1949 کے دوران جب تک آزاد فورس بریگیڈیئر محمد اسلم خان کی کمانڈ میں رہی بلتستان کا پورا علاقہ آزاد ہوا اور دیگر محاذوں پر بھی جانفشانی سے جنگ لڑی گئی۔ بعد ازاں قیادت بدلی گئی، بریگیڈیئر اسلم خان، کرنل حسن وغیرہ کو محاذ جنگ سے واپس بلالیا گیا اور پھر آگے سب کچھ تاریخ ہے۔ بریگیڈیئر صاحب کو  ان کی خدمات کے اعتراف میں ہلال جرات دیا گیا۔ وہ 1964 میں ریٹائر ہوئے ، 1965کی جنگ میں پھر بلایا گیا۔ بعد ازاں انہوں نے شنگریلا ریزورٹ بنایا۔ 1994 میں انہوں نے دام اجل کو لبیک کہا اور شنگریلا اسکردو کے ایک پر سکون گوشہ میں آسودہ خاک ہیں۔

تازہ ترین