حال ہی میں مجھے پارلیمنٹرین فار گلوبل ایکشن (PGA) کی طرف سے یورپ کے خوبصورت ملک نیدرلینڈ جانے کا اتفاق ہوا۔ میں نے اپنے گزشتہ کالم ’’ہیگ میں پارلیمانی اجلاس‘‘ میں نیدرلینڈ کے اہم شہر ’’دی ہیگ‘‘ میں ورلڈ پارلیمنٹرینز کے اجلاس کی تفصیلات تحریر کی تھیں، آج میں نیدرلینڈ کے بارے میں کچھ دلچسپ حقائق شیئر کرنا چاہوں گا۔
نیدرلینڈ، یورپ کے رقبے کے لحاظ سے نسبتاً ایک چھوٹا ملک ہے لیکن یہ ملک عالمی تجارت، ڈیری، پھولوں کی صنعت اور لاجسٹک کے حوالے سے دنیا میں مشہور ہے۔ دنیا میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ 12صوبوں پر مشتمل نیدرلینڈ اور ہالینڈ ایک ہی ملک ہیں لیکن درحقیقت ملک کا نام نیدرلینڈز (Netherlands) ہے جبکہ ہالینڈ (Holland) ماضی میں اس ملک کے معاشی طور پر مضبوط دو صوبوں نارتھ اور سائوتھ ہالینڈ کا نام تھا جس کی وجہ سے نیدرلینڈ دنیا بھر میں ہالینڈ کے نام سے مشہور ہوگیا۔ اسی طرح ہیگ کے بارے میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ ہیگ، نیدرلینڈ کا دارالحکومت ہے لیکن درحقیقت ایمسٹرڈیم، نیدرلینڈ کا دارالحکومت ہے جبکہ ہیگ عالمی عدالت انصاف اور نیدرلینڈ کا سیاسی اور سفارتی مرکز ہے۔ نیدرلینڈ کی وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام سے ہماری PGA میٹنگ بھی ہیگ میں ہوئی تھی حالانکہ ملک کا دارالحکومت ایمسٹرڈیم تھا۔ عالمی رینکنگ میں نیدرلینڈ کو روڈ نیٹ ورک کے لحاظ سے دنیا میں پہلا، پانی کی فراہمی کے معیار اور انٹرنیٹ کنکشن کے لحاظ سے دوسرا، بندرگاہوں کے لحاظ سے چوتھا بڑا ملک قرار دیا جاتا ہے۔ نیدرلینڈ جسکا دارالحکومت ایمسٹرڈیم ہے، کی مجموعی آبادی 18ملین نفوس پر مشتمل ہے جس میں 87فیصد افراد انگریزی اور 13فیصد جرمن زبان بولتے ہیں۔ نیدرلینڈ کی مجموعی جی ڈی پی 770ارب ڈالر، فی کس ماہانہ آمدنی 3400 یورو اور سالانہ 41000یورو ہے۔ نیدرلینڈ یورپ کا ایک چھوٹا ملک ہے مگر اسکی ایکسپورٹس 989ارب ڈالر ہے جس میں الیکٹرونکس مصنوعات، اسمارٹ فونز، سیمی کنڈیکٹرز، فلاورز اور زرعی اور ڈیری مصنوعات شامل ہیں۔ نیدرلینڈ دنیا میں ٹیولپس پھول ایکسپورٹ کرنیوالا سب سے بڑا ملک ہے۔ نیدرلینڈ جغرافیائی طور پر نشیبی علاقہ ہے اور ملک کا 25فیصد رقبہ سطح سمندر سے نیچے ہے اور ملک کی مجموعی آبادی میں سے 58فیصد افراد سطح سمندر سے 5 میٹر نیچے رہتے ہیں جبکہ دارالحکومت ایمسٹرڈیم کا ایئرپورٹ Schiphol سطح سمندر سے 3میٹر نیچے ہے۔ نیدر لینڈ کی مشہور بندرگاہ روٹرڈیم (Rotterdam) ہے جسے دنیا بھر کی تجارت کا ’’ٹرانزٹ حب‘‘ کہا جاتا ہے۔ نیدرلینڈ نہروں کے وسیع نظام، سائیکلوں، ٹیولپس اور ونڈ مل کیلئے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ ملک کی سب سے بڑی شناخت اسکی تاریخی نہریں ہیں۔ ملک میں موجود نہروں کا وسیع نظام صرف سیاحتی کشش نہیں بلکہ ڈچ انجینئرنگ، شہری منصوبہ بندی اور تجارتی تاریخ کی علامت بھی ہے۔ نیدرلینڈ کا دارالحکومت ایمسٹرڈیم ہوا کی چکیوں (ونڈ مل) کیلئے دنیا میں مشہور ہے جن کی تعداد ایک ہزار سے زائد ہے۔ یہ چکیاں 1860 ء میں تعمیر کی گئی تھیں اور آج بھی بجلی بنانے کیلئے استعمال کی جارہی ہیں۔ ایمسٹرڈیم جو ہوا سے بجلی پیدا کرنے کیلئے دنیا میں مشہور ہے، 84میگاواٹ بجلی (متبادل توانائی) پیدا کررہا ہے اور 2030ء تک اسکا ہدف 127میگ اواٹ ہے۔ نیدرلینڈ جیسے ترقی یافتہ ملک میں لوگوں کو سائیکل سے محبت ہے اور وزیراعظم سمیت زیادہ افراد سائیکل کے ذریعے سفر کرنا پسند کرتے ہیں۔ نیدرلینڈ اور پاکستان کی دوطرفہ تجارت تقریباً 2ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے جس میں پاکستان سے ٹیکسٹائل، گارمنٹس، کھیلوں اور چمڑے کا سامان، چاول اور سرجیکل گڈز کی ایکسپورٹ قابل ذکر ہیں۔ نیدرلینڈ یورپی یونین میں پاکستان کا دوسرا بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ پاکستان، نیدرلینڈ کو 1.5ارب ڈالر کی اشیاء ایکسپورٹ کرتا ہے جبکہ نیدرلینڈ پاکستان کو 500ملین ڈالر کی اشیاء ایکسپورٹ کرتا ہے۔ پاکستان میں اس وقت 50سے زائد ڈچ کمپنیاں کام کررہی ہیں جن میں معروف ڈیری کمپنی Friesland Campina Engro Pakistan،شیل، یونی لیور ،فلپس اور ABN Amro بینک قابل ذکر ہیں۔ شیل پاکستان نے 2024ء میں Wafi Energyکو اپنے شیئرز فروخت کردیئے تھے جبکہ ABN Amro بینک نے 31اگست 2007ء کو پاکستان میں اپنا آپریشن بند کردیا تھا۔ نیدرلینڈ میں 27261 پاکستانی مقیم ہیں جنہوں نے 2025ءمیں 84ملین ڈالر کی ترسیلات زر پاکستان بھیجیں۔ پاکستان نیدرلینڈ سے 5 شعبوں میں فائدہ اٹھاسکتا ہے جن میں جدید زراعت اور Horticulture (پھول)، ڈیری اور لائیو اسٹاک، واٹر مینجمنٹ اور فلڈ کنٹرول، لاجسٹکس اور کولڈ اسٹوریج چین، متبادل توانائی اور گرین ٹیکنالوجی شامل ہے۔ نیدرلینڈز کا تجربہ یہ ثابت کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی، تحقیق، انسانی وسائل، جدید انفراسٹرکچر اور پرائیویٹ سیکٹر کو موثر انداز میں استعمال کرکے معاشی ترقی حاصل کی جاسکتی ہے اور پاکستان، نیدرلینڈ کا ایک اہم معاشی پارٹنر بن سکتا ہے۔ پاکستان کے پاس نوجوان آبادی، وسیع نہری نظام، صنعتی صلاحیت اور یورپین مارکیٹ تک رسائی ہے جبکہ نیدرلینڈز کے پاس جدید ٹیکنالوجی، متبادل توانائی، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ، عالمی لاجسٹکس اور اعلیٰ پیداواری تجربہ ہے۔ ان صلاحیتوں سے استفادہ کرکے پاکستان اور نیدرلینڈ اقتصادی اور معاشی ترقی حاصل کرسکتے ہیں۔