ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ کسی بھی خود مختار اور ذمے دار ملک کو امریکی دباؤ یا دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکنا چاہیے۔
ایک بیان میں اسماعیل بقائی نے خبردار کیا ہے کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں کسی ملک کی فوجی موجودگی یا فوجی کارروائیوں میں شرکت کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ایران جمہوریہ کوریا کے ساتھ اپنے دوستانہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ کسی بھی ملک کو ایرانی عوام کے خلاف جارحانہ اقدامات اور ہولناک جرائم میں شریک نہیں بننا چاہیے۔
دوسری جانب اسماعیل بقائی نے پریس بریفنگ میں کہا کہ جنگ نہیں بلکہ کھلی جارحیت ہے، یورپی ممالک غیر معقول رویہ اختیار کر رہے ہیں، ایران کے خلاف اقوامِ متحدہ کی قرار داد طلب کررہے ہیں، عالمی جوہری ادارے نے ایران کے خلاف قرار داد منظور کی تو تہران بھی جوابی اقدام کرے گا۔
اس سے قبل ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اینی میٹڈ سیریز دی سمپسنز کی تصویر شیئر کر کے امریکا پر طنز کیا تھا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہاز رانی میں خلل ڈال رہا اور اس کا الزام ایران پر عائد کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اسماعیل بقائی نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ امریکا و اسرائیل کے 28 فروری کو ہونے والے حملے سے پہلے آبنائے ہرمز مکمل کُھلی ہوئی تھی۔
انہوں نے واشنگٹن پر خطے میں ایک غیر قانونی اور وحشیانہ جنگ مسلط کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ امریکی جنگ کے نتیجے میں تجارتی جہاز رانی کا نظام متاثر ہوا ہے اور توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔
ترجمان ایرانیِ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ اب امریکا دنیا کے سامنے اپنے ہی پیدا کردہ خلل کا الزام ایران پر عائد کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور توقع کرتا ہے کہ اس کی شروع کی گئی جنگ کی ادائیگی پوری دنیا کرے۔