ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کی جانب سے ایران پر عائد کی جانے والی نئی پابندیوں پر کڑی تنقید کی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ امریکا پابندیوں اور فوجی کارروائیوں کے بعد بھی اپنا مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہا، اس لیے ایک بار پھر اقتصادی دباؤ کا راستہ اختیار کر رہا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان میں کہا ہے کہ 47 سال کی پابندیوں کے بعد امریکا نے اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ لڑی، نتیجے میں امریکا کو شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، دنیا بھر میں امریکا کی ساکھ متاثر ہوئی۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے سوال کیا ہے کہ پابندیوں اور جنگ کے ذریعے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام واشنگٹن کے پاس کیا نیا حل بھی مزید پابندیاں لگانا ہے؟
واضح رہے کہ عباس عراقچی کا یہ بیان امریکا کی جانب سے ایران کے ہوا بازی کے شعبے اور متعلقہ اداروں کو ہدف بنانے والی 36 نئی پابندیوں کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔
یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے تہران پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھانے کی تازہ کوشش ہے۔