امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 11 ستمبر 2001ء کے حملوں کے بعد پیش آنے والے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 2 فائر فائٹرز نے مجھے ایک غیر مستحکم عمارت کے قریب سے جان بچانے کے لیے نکالا تھا۔
وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران امریکی صدر نے کہا ہے کہ مجھے خدشہ تھا کہ عمارت مجھ پر آ گرے گی، جس پر 2 مضبوط فائر فائٹرز نے مجھے بازوؤں سے پکڑا اور وہاں سے نکلنے کو کہا۔
امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان 9/11 حملوں کے بعد اپنے کردار سے متعلق ایک ایسے بیانیے کی نئی شکل ہے جو وہ گزشتہ برسوں کے دوران مختلف انداز میں بیان کرتے رہے ہیں۔
ٹرمپ طویل عرصے سے یہ تاثر دیتے آئے ہیں کہ انہوں نے حملوں کے بعد گراؤنڈ زیرو پر امدادی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کیا تھا، تاہم اس حوالے سے موجود بعض ریسکیو اہلکاروں اور حکام کے بیانات ان کے دعوؤں سے مطابقت نہیں رکھتے۔
ٹرمپ کا تازہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 9/11 حملوں کی 25 ویں برسی کے موقع پر نیویارک میں ان کی عدم موجودگی بھی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
2977 افراد کی جان لینے والے حملوں کی مرکزی یادگاری تقریب گراؤنڈ زیرو پر ہو گی، جہاں ٹرمپ کے بجائے نائب صدر جے ڈی وینس اور 4 سابق صدور جو بائیڈن، باراک اوباما، بل کلنٹن اور جارج ڈبلیو بش شرکت کریں گے۔
ٹرمپ جمعے کو نیویارک کے بجائے واشنگٹن میں پینٹاگون جا کر متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کریں گے۔
ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے کہ ٹرمپ کو 9/11 میموریل میں تقریر کی اجازت نہ ملنے کے باعث نیویارک جانے سے گریز کیا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بھی کہا کہ نیویارک میں 9/11 کی تقریب ایک ’پُروقار تقریب‘ ہوتی ہے جہاں کوئی تقریر نہیں کرتا۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے ایک پروگرام میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ساؤتھ ٹاور سے ملنے والا اسٹیل بیم بھی دکھایا اور حملوں کے دن اپنے اقدامات کا ایک تازہ بیان پیش کیا۔
انہوں نے بتایا کہ میں ایک تعمیراتی منصوبے کی نگرانی کر رہا تھا اور حملوں کے فوراً بعد اپنی پوری ٹیم کو گراؤنڈ زیرو لے گیا تھا۔
اسی تقریب میں ٹرمپ نے رضاکار فائر فائٹر ویلز کرودر کے اہلِ خانہ کو امریکا کا اعلیٰ ترین شہری اعزاز بھی پیش کیا۔
کرودر ساؤتھ ٹاور میں لوگوں کو باہر نکالنے میں مدد کرتے ہوئے ہلاک ہوئے تھے اور بعد ازاں سرخ رومال پہننے کی وجہ سے ’مین اِن دی ریڈ بندانا‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔
ٹرمپ نے ہنستے ہوئے کہا کہ ’وہ مجھ سے زیادہ مشہور ہو گیا ہے اور مجھے یہ پسند نہیں۔‘