جاپان اور چین دنیا کی تیز ترین ٹرین تیار کرنے کی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں، دونوں ممالک مقناطیسی قوت سے چلنے والی ٹرینوں کی ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں جس میں تقریباً 600 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کیا جا سکے گا۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق چین میں سرکاری ٹرین ساز ادارہ 600 کلو میٹر فی گھنٹہ رفتار والی مقناطیسی ٹرین تیار کر رہا ہے جبکہ جاپان کی جانب سے مرکزی شِنکانسن منصوبے پر پیش رفت جاری ہے۔
جاپان کی مقناطیسی ٹرین آزمائش کے دوران 603 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جاپانی ٹیکنالوجی میں انتہائی طاقتور سپر کنڈکٹنگ مقناطیس استعمال کیے جاتے ہیں جن کے باعث ٹرین پٹری سے اوپر اٹھ کر سفر کرتی ہے۔
جاپانی حکام کے مطابق یہ ٹیکنالوجی دیگر ممالک میں استعمال ہونے والی مقناطیسی ٹرینوں سے مختلف ہے اور زیادہ رفتار کے ساتھ سفر کو محفوظ اور آرام دہ بنانے کے لیے تیار کی گئی ہے۔
جاپان کا مرکزی شِنکانسن منصوبہ ٹوکیو اور ناگویا کو ملائے گا، تقریباً 286 کلو میٹر طویل یہ سفر موجودہ ٹرین سے تقریباً 2 گھنٹے کے بجائے صرف 40 منٹ میں مکمل ہو گا، منصوبے کا پہلا مرحلہ ابتدائی طور پر 2027ء میں مکمل ہو جائے گا۔
دوسری جانب چین کی نئی تیز رفتار مقناطیسی ٹرین سے بیجنگ اور شنگھائی کے درمیان سفر کا دورانیہ نمایاں طور پر کم ہونے کی توقع ہے، موجودہ فضائی سفر میں ہوائی اڈے کی کارروائیوں سمیت تقریباً ساڑھے 4 گھنٹے جبکہ تیز رفتار ٹرین سے تقریباً ساڑھے 5 گھنٹے لگتے ہیں تاہم نئی مقناطیسی ٹرین سے یہ مجموعی سفر تقریباً ساڑھے 3 گھنٹے میں مکمل ہو سکے گا۔
چین کی مقناطیسی ٹرین ابھی تیاری اور آزمائش کے مراحل میں ہے، اس لیے اس کے عوامی استعمال کے لیے حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔