پاکستان نے سعودی عرب میں حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی قیادت اور عوام سے اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفترِ خارجہ سجاد حیدر خان کا کہنا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری اور سالمیت کی حمایت جاری رکھے گا۔
سجاد حیدر خان نے کہا ہے کہ مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ نافذ العمل ہے اور پاکستان معاہدے کے تقاضوں کے مطابق کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان کا دو طرفہ دفاعی معاہدہ بھی ہے اور دونوں سہ ملکی معاہدے میں بھی شامل ہیں، مکہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور خطے کی سلامتی کو بنیادی طور پر ڈیٹرنس کے ذریعے یقینی بنانے کے لیے ایک دفاعی اتحاد ہے۔
ترجمان نے یاسین ملک سے ہونے والی زیادتی کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یاسین ملک کا دفاع سے دستبردار ہونا بھارتی عدالتی نظام کے خلاف احتجاج ہے، یاسین ملک نے بھارتی حکومت کے عدالتی تماشے کو بے نقاب کیا ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق بھارتی عدالتی نظام کشمیری عوام کو انصاف سے محروم کرنے کا ذریعہ بن چکا ہے، کشمیر اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے پر موجود حل طلب مسئلہ ہے، بھارتی دعووں اور ہتھکنڈوں سے کشمیر کی متنازع حیثیت تبدیل نہیں ہو سکتی، اقوامِ متحدہ کا آفیشل نقشہ جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت ظاہر کرتا ہے، بھارتی اقدامات کی کوئی حیثیت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری بھارت کو یاسین ملک کی زندگی اور صحت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہ دے، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی ادارے یاسین ملک کی صورتحال کا نوٹس لیں۔
سجاد حیدر خان نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے سہارن پور میں مسجد مسمار کرنے کی مذمت کرتا ہے، یہ واقعہ بابری مسجد کی یاد تازہ کرتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ سیف گیمز کے دعوت نامے دفتر خارجہ کے ذریعے نہیں بھیجے جاتے، دعوت نامے اولمپک ایسوسی ایشنز کے ذریعے پہلے ہی بھیجے جا چکے ہیں، پاکستان کھیلوں کو سیاست یا اختلافات کی نذر کرنے کے حق میں نہیں، کھیلوں کو بطور ہتھیار استعمال نہیں کیا جانا چاہیے، پاکستان کھیلوں کے ذریعے ممالک کے درمیان روابط اور تعاون کا حامی ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ افغان طلبہ کےخلاف مکمل پابندی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا، درست ویزا اور ڈگری پروگرام میں رجسٹریشن رکھنے والے افغان طلبہ تعلیم مکمل کر سکتے ہیں، افغان طلبہ پر پابندی عائد کرنے کا تاثر درست نہیں۔