• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانیہ: مظاہرین نے پاکستانی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کو تارکینِ وطن سمجھ کر اُن کے ہوٹل کے دروازے کھٹکھٹا دیے

— تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا
— تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا

برطانیہ میں مظاہرین پاکستانی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کو تارکینِ وطن سمجھنے کی غلطی کر بیٹھے، ان کے ہوٹل کے دروازے کھٹکھٹا دیے، تاہم کھلاڑیوں نے ذمے داری کا مظاہرہ کیا اور صورتِ حال کو کشیدہ نہیں ہونے دیا۔

برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے پورٹسماؤتھ (Portsmouth) کے ہوٹل کے باہر جمع ہو کر پاکستانی کرکٹرز کو احتجاج کا ہدف بنا لیا۔

ری فارم پارٹی کے کاؤنٹی کونسلر جارج میڈوک کے مطابق منگل کی شام تقریباً 30 سے 40 افراد ہوٹل کے باہر جمع ہوئے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لوگوں سے ہوٹل نہ آنے کی اپیل کرتے ہوئے لکھا کہ ہوٹل کے عملے نے مجھے ثبوت دکھائے ہیں کہ وہاں قیام کرنے والے افراد دورے پر موجود پاکستانی انڈر 19 قومی کرکٹ ٹیم کے ارکان ہیں۔

ہمپشائر پولیس نے بھی اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اطلاع موصول ہونے پر اہلکاروں نے ہوٹل پہنچ کر مظاہرین سے بات کی اور انہیں سمجھایا کہ ان کے خدشات درست نہیں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اہلکاروں کو کسی جرم کے ارتکاب کے شواہد نہیں ملے، جبکہ شام ساڑھے 6 بجے ہوٹل کے باہر جمع ہونے والا مظاہرین کا گروپ رات 9 بجے منتشر ہو گیا۔

دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ افسر سمیر سید نے بتایا کہ مظاہرین میں سے ایک گروپ اس منزل تک پہنچ گیا جہاں پاکستانی ٹیم ٹھہری ہوئی تھی اور ان کے دروازے کھٹکھٹائے، تاہم کھلاڑیوں نے ذمے داری کا مظاہرہ کیا اور صورتِ حال کو کشیدہ ہونے نہیں دیا۔

سمیر سید کے مطابق پاکستانی ٹیم نے اگلے روز اپنا طے شدہ میچ بھی کھیلا۔

بی بی سی کے مطابق انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے پاکستان انڈر 19 اسکواڈ کی خیریت دریافت کی ہے اور دورے کے باقی حصے کے لیے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لے رہا ہے۔

واضح رہے کہ یہ واقعہ اس واقعے کے 2 روز بعد پیش آیا جب ایک کشتی میں سوار تقریباً 120 تارکینِ وطن کو ساحل پر لائے جانے کے بعد سینکڑوں مظاہرین نے شہر کی سڑکیں بند کر دی تھیں۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید